حسین احمد مدنی

حسين أحمد المدني

–

المدينة المنورة

ہندوستانی محدث (1879ء–1957ء) اور تحریک آزادی کے رہنما۔ دار العلوم دیوبند کے فاضل، مدینہ منورہ میں اٹھارہ سال تدریس کی، پھر 1927ء سے وفات تک دار العلوم کے شیخ الحدیث و صدر مدرس اور 1940ء سے جمعیت علماء ہند کے صدر رہے۔ شیخ الہند محمود حسن دیوبندی کے ساتھ مالٹا میں اسیر رہے، «متحدہ قومیت اور اسلام» (1938ء) میں متحدہ ہندوستان کی حمایت کی، اور 1954ء میں پدم بھوشن ملا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · teacher · activist · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · مولوی عبد الحق · احمد لطفی سید · علی المیرغنی · عطیہ فیضی

مکان میں

المدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ ضلع اناؤ کے چھوٹے قصبے بانگڑ میو میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد سید حبیب اللہ استاد تھے؛ خاندان اصلاً ضلع امبیڈکر نگر کے ٹانڈہ سے تھا 1۔ اردو سوانح ان کی ولادت کی تاریخ ہجری سمیت دیتی ہے: 19 شوال 1296ھ، مطابق 6 اکتوبر 1879ء 2۔

    دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد — عربی مضمون ان کے اساتذہ میں ذوالفقار علی، خلیل احمد سہارنپوری، مفتی عزیز الرحمن اور فقہ و حدیث میں محمود حسن دیوبندی کے نام لیتا ہے 3 — وہ خاندان سمیت مدینہ منورہ چلے گئے اور وہاں اٹھارہ سال عربی صرف و نحو، اصول فقہ، اصول حدیث اور تفسیر کی تدریس کرتے رہے 1۔ تیرہ سال کی عمر میں دیوبند داخلے سے پہلے کی ابتدائی تعلیم اور دیوبند کے اساتذہ کی مفصل فہرست اردو سوانح میں درج ہے 2۔

    تصوف و طریقت

    اردو سوانح کے «تصوف و طریقت» باب کے مطابق جب علومِ باطنی کی فکر ہوئی تو شیخ الہند محمود حسن نے انہیں رشید احمد گنگوہی کی طرف رہنمائی کی؛ انہوں نے گنگوہی سے بیعت کی، روحانی کمالات حاصل کیے اور بالآخر ان کے خلیفہ مجاز ہوئے، اور ان کے وعظ و ارشاد اور بیعت و تلقین سے بے شمار لوگ مستفیض ہوئے اور 167 حضرات کو ان سے اجازت و خلافت ملی 2۔ انگریزی مضمون کا معلومات خانہ ان کے سلاسل میں چشتیہ (صابریہ امدادیہ)، نقشبندیہ، قادریہ اور سہروردیہ درج کرتا ہے 1۔

    مالٹا اور جدوجہدِ آزادی

    جب ان کے استاد محمود حسن کو ریشمی خطوط کی تحریک میں کردار پر انگریزوں نے مالٹا میں قید کیا تو مدنی نے خود سزا یافتہ نہ ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر ان کی خدمت کے لیے ساتھ جانا قبول کیا 1۔ اردو سوانح بتاتی ہے کہ مالٹا کی قید کے دوران انہوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا تاکہ ان کے استاد کسی رمضان میں تراویح و نوافل میں مکمل قرآن سنے بغیر نہ رہیں 2۔

    رہائی کے بعد وہ ہندوستان واپس آئے اور جدوجہدِ آزادی کی نمایاں شخصیت بنے، جن کا اثر خاص طور پر مشرقی اتر پردیش اور بہار کے مسلمانوں پر تھا 1۔ 1923ء میں رہائی کے بعد وہ دسمبر 1924ء میں سلہٹ گئے اور خلافت بلڈنگ مدرسے میں دو سال حدیث کی تدریس کی، اور 1947ء کی تقسیم تک ہر رمضان سلہٹ آتے رہے 1۔ وہ نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی ارکان میں بھی شامل تھے 1۔

    1927ء سے وہ دار العلوم دیوبند کے صدر مدرس و شیخ الحدیث رہے، تقریباً اٹھائیس سال وفات تک، اور 1940ء میں جمعیت علماء ہند کے صدر بنے اور وفات تک اسی عہدے پر رہے 1۔

    متحدہ قومیت

    ان کی کتاب «متحدہ قومیت اور اسلام» (1938ء) نے متحدہ ہندوستان کی حمایت اور تقسیم کی مخالفت کی: ان کی رائے میں موجودہ دور میں قومیں وطن کی بنیاد پر بنتی ہیں، نسل یا مذہب کی بنیاد پر نہیں 1۔ 1920ء و 1930ء کی دہائیوں میں اپنے خطبات و رسائل کے ذریعے انہوں نے ہندوستانی علماء اور انڈین نیشنل کانگریس کے تعاون کی راہ ہموار کی اور کانگریس و خلافت معاہدے کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا 1۔ اسی موقف پر ان کی محمد اقبال سے مشہور مناظرہ نما بحث ہوئی؛ ایک مشترکہ دوست طالوت کی خط و کتابت سے دونوں میں مفاہمت ہو گئی اور اقبال نے لکھا کہ سیاسی اختلاف کے باوجود وہ مدنی کی اسلام کی خدمت و اخلاص کا اتنا ہی احترام کرتے ہیں جتنا کسی اور مسلمان کا 1۔ بڑی حد تک ان کے اسی موقف کی وجہ سے مشرقی اتر پردیش و بہار کے بہت سے مسلمانوں نے 1947ء میں پاکستان ہجرت سے انکار کیا 1۔

    دین، جیسا کہ ماخذ بتاتے ہیں

    مضامین کی متون مدنی کے لیے خود کوئی فقہی مسلک نامزد نہیں کرتیں۔ انگریزی مضمون کا معلومات خانہ ان کی نسبت سنی، فقہ حنفی اور عقیدہ ماتریدی بتاتا ہے، اور اردو و عربی مضامین انہیں اپنے زمروں میں احناف و ماتریدیہ میں رکھتے ہیں؛ جبکہ گنگوہی سے ان کی صوفیانہ تلمذت اردو مضمون کے متن میں ثابت ہے، جیسا اوپر بیان ہوا 123۔ عجائب گھر ان کے دین کو دو ماخذ کے معیار پر غیر ثابت درج کرتا ہے اور دونوں قراءتیں ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ رکھتا ہے 4۔

    تصانیف و اعزازات

    ان کی کتابوں میں خود نوشت سوانح «نقشِ حیات»، احمد رضا خان بریلوی کے رد میں «الشہاب الثاقب»، دو ہزار صفحات سے زائد «مکتوباتِ شیخ الاسلام»، محمود حسن کی جلاوطنی کا سفرنامہ، اور تصوف پر «تصورِ شیخ» شامل ہیں 1۔ حکومت ہند نے 1954ء میں انہیں پدم بھوشن دیا اور ہندوستانی ڈاک نے 2012ء میں ان کے اعزاز میں یادگاری ٹکٹ جاری کیا 1۔ سلہٹ میں ان کے کام کی یاد میں 2019ء میں «مدنی اسکوائر» کا نصب بنایا گیا 1۔

    ان کا انتقال 5 دسمبر 1957ء کو دیوبند میں ہوا؛ نمازِ جنازہ زکریا کاندھلوی نے پڑھائی 1۔ اردو سوانح تاریخ کو ہجری سمیت دیتی ہے: جمعرات 13 جمادی الاول 1377ھ 2۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Taught
    عبد الماجد دریابادی
    Studied under
    محمود حسن دیوبندی· رشيد أحمد الكنكوهي
    Member of
    الديوبندية
    Lived in
    المدينة المنورة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اشرف علی تھانوی· محمد الیاس کاندھلوی· عبیداللہ سندھی· محمود حسن دیوبندی· کفایت اللہ دہلوی· محمد زکریا کاندھلوی· الديوبندية· رشيد أحمد الكنكوهي

    ماخذ

    1. Husain Ahmad Madani — English Wikipedia
    2. Husain Ahmad Madani — Urdu Wikipedia
    3. Husain Ahmad Madani — Arabic Wikipedia
    4. Husain Ahmad Madani — Wikidata Q4846312
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسین احمد مدنی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/husain-ahmad-madani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اشرف علی تھانوی

    ہندوستانی حنفی عالم، دیوبندی بزرگ اور چشتی صوفی (1863ء–1943ء) جن کا تعلق تھانہ بھون سے تھا اور جو حکیم الامت کے لقب سے مشہور ہیں۔ دار العلوم دیوبند سے فارغ ہو کر انھوں نے کانپور میں چودہ برس پڑھایا، پھر اپنے مرشد امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ اپنے قصبے میں آباد کی اور مدرسہ اشرفیہ قائم کیا۔ ان کی تصانیف تقریباً آٹھ سو ہیں، جن میں «بیان القرآن» اور «بہشتی زیور» سب سے مشہور ہیں۔