ایک نظر میں
- کردار
- عالم · activist · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ولادت اور قبول اسلام
ان کا پیدائشی نام بوٹا سنگھ اپل تھا؛ وہ 10 مارچ 1872ء کو سیالکوٹ کے ایک کھتری اپل سکھ خاندان میں پیدا ہوئے، اور ان کے والد ان کی پیدائش سے چار ماہ پہلے چل بسے تھے 1۔ عربی مضمون بھی 10 مارچ 1872ء سے متفق ہے اور سال کو 1289ھ سے جوڑتا ہے، اور پندرہ برس کی عمر میں اسلام قبول کرنے کا ذکر کرتا ہے 2۔ اردو مضمون کا اپنا حصہ ولادت 12 محرم 1289ھ کو اسی دن، 10 مارچ 1872ء، سے جوڑتا ہے، اگرچہ اس کی تمہید 22 مارچ 1872ء دیتی ہے — اس لیے میوزیم کا ڈیٹا ریکارڈ دن کو متنازع ٹھہراتا ہے اور انگریزی، عربی اور ڈھانچا جاتی ذرائع کے اتفاق کی پیروی کرتا ہے 3۔
دیوبند اور تحریک ریشمی رومال
اسلام قبول کرنے کے بعد وہ سندھ آئے اور پھر دار العلوم دیوبند میں پڑھے؛ عربی مضمون ان کی تعلیم یوں خلاصہ کرتا ہے: انھوں نے رشید احمد گنگوہی اور محمود حسن دیوبندی سے علم پایا 2۔ دہلی میں ایک اسکول میں پڑھایا اور قلیل تنخواہ پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تاحیات رکن بنے 1۔ جب تحریک ریشمی رومال شروع ہوئی تو اس میں شامل ہوئے، اور 1915ء میں کابل گئے جہاں یکم دسمبر 1915ء کو عبوری حکومت ہند کے وزیر داخلہ بنے 1۔ افغانستان میں تقریباً سات برس رہے 1، پھر روس جا کر سات ماہ اشتراکیت کا مطالعہ کیا، اور تحریک کا جال بیرون ملک لے گئے 2۔
استنبول، حجاز اور واپسی
استنبول میں 1923ء تا 1925ء کے درمیان انھوں نے «چارٹر آزادی ہند» تیار کیا، اور تقریباً 1927ء تا 1941ء حجاز میں رہے اور شاہ ولی اللہ کی تصانیف کا مطالعہ کیا 1۔ انھوں نے ہندوستان کی تقسیم کے منصوبے کی مخالفت کی اور استدلال کیا کہ مسلمان اور غیر مسلم ایک قوم ہیں 1۔ واپس ہندوستان آئے تو دہلی کی جامع مسجد میں شاندار استقبال ہوا 1۔
ان کا مسلک، جیسا کہ ذرائع بیان کرتے ہیں
متون ان کے دیوبندی تعلق کی براہ راست گواہی دیتے ہیں: انگریزی مضمون انھیں مدرسہ دیوبند کے رہنماؤں میں رکھتا ہے 1، اور عربی مضمون انھیں دیوبندی مدرسے کے زعما میں شمار کرتا ہے 2۔ فقہی مسلک صرف ڈھانچا جاتی خانوں میں ملتا ہے — انگریزی مضمون کا اطلاع خانہ فرقہ سنی، فقہ حنفی اور عقیدہ ماتریدی دیتا ہے 1، اور عربی مضمون کا اطلاع خانہ مذہب حنفی دیتا ہے 2 — جبکہ اردو مضمون اپنے متن میں کوئی مسلک نہیں کہتا اور صرف ماتریدی و دیوبندی قالب اور زمرے رکھتا ہے 3، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے 4۔ دو ایڈیشنوں کے اطلاع خانے لین کے اصول کے مطابق ایک ہی اطلاع خانی خاندان ہیں، اس لیے میوزیم کا ڈیٹا ریکارڈ اپنی نوٹ میں پوری صورت حال بیان کرتا ہے اور کسی فیصلے یا متنی گواہی تک، ایک گواہی کی دوری پر، ان کا مسلک درج نہیں کرتا۔
وہ 21 اگست 1944ء کو ضلع رحیم یار خان کے خان پور کے قریب دین پور میں چل بسے — اردو اطلاع خانہ 2 رمضان 1363ھ کو 22 اگست سے جوڑتا ہے، اسی لیے ریکارڈ دن کو متنازع ٹھہراتا ہے 13۔ 1990ء میں پاکستان کی «رواد آزادی» ڈاک ٹکٹ سیریز نے انھیں محمود حسن دیوبندی کے مشن کے ناشروں میں یاد کیا 1، اور ان کی خود نوشت «ذاتی ڈائری» محفوظ ہے 1۔
مآخذ
- اوپر مذکور متعین ماخذی وجودات،
data/source/میں درج۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا ماخذ نام لینا چاہیے۔
تعلقات
- Studied under
- محمود حسن دیوبندی· رشيد أحمد الكنكوهي
- Member of
- الديوبندية
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
حسین احمد مدنی· محمد الیاس کاندھلوی· محمود حسن دیوبندی· اشرف علی تھانوی· کفایت اللہ دہلوی· الديوبندية· رشيد أحمد الكنكوهي· چشتیہ طریقہ
ماخذ
- Obaidullah Sindhi — English Wikipedia
- Obaidullah Sindhi — Arabic Wikipedia
- Obaidullah Sindhi — Urdu Wikipedia
- Obaidullah Sindhi — Wikidata Q7876387
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبیداللہ سندھی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/obaidullah-sindhi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.