ایک نظر میں
- کردار
- فقیہ · writer
- خطہ
- south-asia
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابتدائی زندگی اور وکالت
عدلیہ
1937ء میں پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور 1940ء میں برطانوی ہند کے انکم ٹیکس اپیلٹ ٹربیونل کے پہلے صدر بنے، اور 1942ء میں لاہور بنچ پر فائز ہوئے۔ 1 1947ء میں انہوں نے جسٹس دین محمد کے ساتھ پنجاب باؤنڈری کمیشن میں آل انڈیا مسلم لیگ کی نمائندگی کی، اور 1948ء میں پاکستان پے کمیشن کے چیئرمین رہے۔ 1 1949ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 1
منصف اعظم پاکستان
گورنر جنرل ملک غلام محمد کی تقرری سے وہ 29 جون 1954ء کو عبد الرشید کے بعد منصف اعظم بنے اور 2 مئی 1960ء تک رہے، جب محمد شہاب الدین ان کے جانشین ہوئے۔ 1 3 تمیز الدین مقدمے میں انہوں نے نظریۂ ضرورت کی بنیاد پر 24 اکتوبر 1954ء کو دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کو جائز قرار دیا — انگریزی مقالہ لکھتا ہے کہ اس فیصلے پر پاکستان میں جمہوریت کو دھچکا کہہ کر وسیع تنقید ہوئی۔ 1 اسی نظریے پر انہوں نے 1958ء کے فوجی انقلاب کو بھی جائز قرار دیا، اور جون 1956ء سے جولائی 1958ء تک حد بندی کمیشن کی صدارت کی۔ 1
بعد کی تحریر اور وفات
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے «جناح سے ضیا تک» (1980ء) لکھی، جس میں موقف اختیار کیا کہ جناح سیکولر ریاست کے قائل تھے — انگریزی مقالہ نقل کرتا ہے کہ ہم عصروں نے اعتراض کیا کہ جناح کی تقاریر سیاق سے کاٹی گئیں۔ 1 ان کی وفات 1979ء میں ہوئی؛ اردو مقالے کی تمہید اور ویکی ذخیرہ اس کے بجائے 26 جون 1981ء دیتے ہیں، اور یہ اختلاف عجائب گھر کے ڈیٹا میں درج ہے۔ 1 3 2 کسی مراجعہ شدہ ماخذ میں ان کا کوئی مذہب یا مسلک مذکور نہیں، اس لیے عجائب گھر ان کی وابستگی نامعلوم درج کرتا ہے۔
ماخذ
- Muhammad Munir — English Wikipedia
- Muhammad Munir — Wikidata Q6932618
- Muhammad Munir — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد منیر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-munir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.