محمد منیر

محمد منير

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

محمد منیر (1895ء–1979ء) پاکستانی منصف تھے، پاکستان کے دوسرے منصف اعظم (1954ء–1960ء) رہے، تمیز الدین خان مقدمے میں ان کے فیصلے نے نظریۂ ضرورت کی بنیاد رکھی؛ بعد میں انہوں نے «جناح سے ضیا تک» لکھی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فقیہ · writer
خطہ
south-asia
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الله الموسوي الشيرازي · حامد الأيتاج · حسنین محمد مخلوف · محمد ادریس سنوسی · خان عبد الغفار خان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد منیر (1895ء–1979ء) پاکستانی منصف تھے جو 29 جون 1954ء سے 2 مئی 1960ء تک پاکستان کے دوسرے منصف اعظم رہے۔ 1 2 تمیز الدین خان مقدمے میں ان کے فیصلے نے پاکستانی آئینی قانون میں نظریۂ ضرورت کی بنیاد رکھی۔ 1 اردو مقالہ ان کی مدت اور منصفین اعظم کی ترتیب میں ان کا مقام تصدیق کرتا ہے۔ 3

    ابتدائی زندگی اور وکالت

    وہ 1895ء میں امرتسر میں کاکازئی پٹھان خاندان میں پیدا ہوئے۔ 1 گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں فارغ التحصیل ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی کے یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1 1921ء میں امرتسر سے وکالت شروع کی اور اگلے سال لاہور منتقل ہو گئے۔ 1

    عدلیہ

    1937ء میں پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور 1940ء میں برطانوی ہند کے انکم ٹیکس اپیلٹ ٹربیونل کے پہلے صدر بنے، اور 1942ء میں لاہور بنچ پر فائز ہوئے۔ 1 1947ء میں انہوں نے جسٹس دین محمد کے ساتھ پنجاب باؤنڈری کمیشن میں آل انڈیا مسلم لیگ کی نمائندگی کی، اور 1948ء میں پاکستان پے کمیشن کے چیئرمین رہے۔ 1 1949ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 1

    منصف اعظم پاکستان

    گورنر جنرل ملک غلام محمد کی تقرری سے وہ 29 جون 1954ء کو عبد الرشید کے بعد منصف اعظم بنے اور 2 مئی 1960ء تک رہے، جب محمد شہاب الدین ان کے جانشین ہوئے۔ 1 3 تمیز الدین مقدمے میں انہوں نے نظریۂ ضرورت کی بنیاد پر 24 اکتوبر 1954ء کو دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کو جائز قرار دیا — انگریزی مقالہ لکھتا ہے کہ اس فیصلے پر پاکستان میں جمہوریت کو دھچکا کہہ کر وسیع تنقید ہوئی۔ 1 اسی نظریے پر انہوں نے 1958ء کے فوجی انقلاب کو بھی جائز قرار دیا، اور جون 1956ء سے جولائی 1958ء تک حد بندی کمیشن کی صدارت کی۔ 1

    بعد کی تحریر اور وفات

    ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے «جناح سے ضیا تک» (1980ء) لکھی، جس میں موقف اختیار کیا کہ جناح سیکولر ریاست کے قائل تھے — انگریزی مقالہ نقل کرتا ہے کہ ہم عصروں نے اعتراض کیا کہ جناح کی تقاریر سیاق سے کاٹی گئیں۔ 1 ان کی وفات 1979ء میں ہوئی؛ اردو مقالے کی تمہید اور ویکی ذخیرہ اس کے بجائے 26 جون 1981ء دیتے ہیں، اور یہ اختلاف عجائب گھر کے ڈیٹا میں درج ہے۔ 1 3 2 کسی مراجعہ شدہ ماخذ میں ان کا کوئی مذہب یا مسلک مذکور نہیں، اس لیے عجائب گھر ان کی وابستگی نامعلوم درج کرتا ہے۔

    ماخذ

    1. Muhammad Munir — English Wikipedia
    2. Muhammad Munir — Wikidata Q6932618
    3. Muhammad Munir — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد منیر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-munir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔