نظام الدین احمد حسینی

نظام الدين أحمد الحسيني

–

طائف → حيدر آباد الدكن

نظام الدین احمد حسینی (7 جولائی 1618ء – مئی 1674ء) حجاز میں آباد ایرانی النسل سادات خاندان کے سید تھے، طائف میں پیدا ہوئے اور فقہ، حدیث اور منطق کی تعلیم پائی۔ دکن ہجرت کر کے سلطان عبد اللہ قطب شاہ کی بیٹی سے شادی کی اور سلطنتِ قلقندہ کے وزیرِ اعظم بنے (1656ء–1672ء)، «عین الملک» کا لقب پایا اور دربار میں عربی ادبی ثقافت کی سرپرستی کی۔ قطب شاہ کی وفات کے بعد قید ہوئے اور مئی 1674ء میں قتل کر دیے گئے، غالباً زہر سے۔ وہ ادیب ابن معصوم مدنی، صاحبِ «سلافۃ العصر»، کے والد تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
minister · عالم
خطہ
arabia · south-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی
إمبراطوريات البارود ہم عصر: الحصكفي محمد بن علي · بهادر نظام شاه · الفيض الكاشاني · إبراهيم الكوراني · جہاں آرا بیگم

مکان میں

طائف

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نظام الدین احمد حسینی (7 جولائی 1618ء – مئی 1674ء) ایرانی النسل سادات خاندان کے سید تھے جو دکن میں سلطنتِ قلقندہ کے وزیرِ اعظم بنے (1656ء–1672ء)۔12 دونوں مضامین میں سے کوئی بھی ان کے اپنے مذہب کا نام نہیں لیتا؛ صفوی النسل سادات ہونا اور قطب شاہی دربار کی خدمت سیاق ہے، ثبوت نہیں، اس لیے ان کا مذہب اس عجائب گھر میں نامعلوم درج ہے۔

    ابتدائی زندگی

    ان کا خاندان دیر سے ایران میں آباد تھا؛ جدِّ اعلیٰ صدر الدین دشتکی (وفات 1498ء) نے شیراز کی مدرسہ منصوریہ کی مالی مدد کی تھی اور پرجد ابراہیم بن سلام اللہ (وفات 1582/83ء) نے صفوی شہزادی گوہر شاد بیگم سے شادی کی تھی۔1 ان کے والد محمد معصوم (وفات 1622/23ء) طائف و مکہ آ گئے، جہاں نظام الدین احمد 7 جولائی 1618ء کو طائف میں پیدا ہوئے اور فقہ، حدیث، عربی اور منطق کی تعلیم پائی۔12

    قلقندہ میں عہدہ

    دکن پہنچ کر 1645/46ء میں انہوں نے سلطان عبد اللہ قطب شاہ کی بیٹی سے شادی کی، اور 1656ء میں وزیرِ اعظم مقرر ہوئے؛ «عین الملک» کا لقب پایا، دربار میں عربی ادبی ثقافت کی سرپرستی کی اور حیدرآباد میں محل بنوایا۔1 قطب شاہ کی وفات (1672ء) کے بعد ان کا اقتدار گھٹا، سید مظفر نے انہیں قید کیا اور مئی 1674ء میں وہ قتل کر دیے گئے، غالباً زہر سے۔12 ادیب ابن معصوم مدنی، صاحبِ «سلافۃ العصر»، ان کے بیٹے تھے۔2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    طائف
    Died in
    حيدر آباد الدكن

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الحرب بين الأحلاف وبني مالك· غزوة حنين· هدم اللات· خروج النبي إلى الطائف· حصار الطائف· غلبة ثقيف على الطائف· ثقيف· اللات

    ماخذ

    1. Nizam al-Din Ahmad al-Husayni — English Wikipedia
    2. Nizam al-Din Ahmad al-Husayni — Arabic Wikipedia
    • Nizam al-Din Ahmad al-Husayni — Wikidata Q130537577
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نظام الدین احمد حسینی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nizam-al-din-ahmad-al-husayni/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الحرب بين الأحلاف وبني مالك

    The civil war of Thaqif's two moieties — the Ahlaf and Banu Malik: when the Ahlaf's herds drove them to fence the Jalathan pasture of Banu Nasr, Banu Malik allied with Yarbu' and war rolled through the day of Ta'if, the al-Aban defile massacre, the days of Umr dhi Kinda and Karuba, and Afif ibn Awf's battle-cry said to have made seventy pregnant women miscarry; it ended when the Ansari Uhayha refused Mas'ud ibn Mu'tib a pact — 'your brother is the one you left behind; reconcile with him though it cost your nose' — and gave him instead a slave who built Ta'if's first fortress-tower.