سعید المفتی

سعيد المفتي

–

عمان

سعید المفتی (26 جون 1898ء – 25 مارچ 1989ء) اردنی سیاست دان اور سفارت کار تھے، اصلًا چرکسی، قبیلہ قبرطای کے خاندان حبجوقہ سے؛ وہ 1950ء اور 1956ء کے درمیان تین مرتبہ اردن کے وزیرِ اعظم رہے، وزارتِ داخلہ و خزانہ سنبھالیں اور دو ادوار (1956ء–1963ء اور 1965ء–1974ء) میں مجلس اعیان کے صدر رہے۔ وہ اردن کے بانی زعما میں سے تھے: 1921ء میں امیر عبداللہ کی حجاز سے آمد پر ان کی اپنے گھر میزبانی کی، 1920ء میں میسلون کے بعد شاہ فیصل کی حمایت میں ایک ہزار چرکسی جنگجوؤں کی قیادت کرتے ہوئے شام گئے، بیس سال کی عمر میں مجلس شوریٰ کے رکن بنے اور 1927ء میں حزب الشعب الاردنی کے بانیوں میں شامل ہوئے؛ 1974ء میں سبکدوش ہوئے اور عمان ہی میں وفات پائی اور دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: حسنین محمد مخلوف · محمد علي الأراكي · عزير كول البشاوري · ميرزا هاشم الآملي · خان عبد الغفار خان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سعید المفتی (26 جون 1898ء – 25 مارچ 1989ء) اردنی سیاست دان اور سفارت کار تھے، اصلًا چرکسی، جنہوں نے 1950ء اور 1956ء کے درمیان تین مرتبہ اردن کے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا، جیسا کہ انگریزی مقالہ بیان کرتا ہے، جب کہ عربی مقالہ انہیں قبیلہ قبرطای کے خاندان حبجوقہ سے بتاتا ہے اور اردن کے ان زعما میں شمار کرتا ہے جنہوں نے اس کی بنیاد اور استحکام میں حصہ لیا۔ 1 2 1921ء میں حجاز سے آمد پر انہوں نے امیر عبداللہ کی اپنے گھر چند دن میزبانی کی اور عبداللہ، ان کے بیٹے شاہ طلال اور پھر شاہ حسین کے حامی رہے۔ 2 اردو ویکیپیڈیا پر ان کا کوئی مقالہ نہیں؛ یہ متن عجائب گھر کا اپنا ترجمہ ہے۔

    زندگی اور عہد

    وہ عمان میں 1898ء میں پیدا ہوئے اور وہیں 1989ء میں وفات پا کر دفن ہوئے، عربی مقالے کے مطابق؛ انگریزی مقالہ ولادت 26 جون 1898ء اور وفات 25 مارچ 1989ء بتاتا ہے، جب کہ وکی ڈیٹا کا دن کی درستگی والا بیان 28 جون 1898ء دیتا ہے — یہ دو دن کا اختلاف عجائب گھر یوں ہی درج کرتا ہے، ملاتا نہیں۔ 2 1 3 انہوں نے ابتدا میں کتاتیب میں پڑھا، پھر دمشق کی مدرسہ سلطانیہ میں تعلیم جاری رکھی، مگر والد کی 1917ء میں وفات نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر اہلخانہ کی کفالت کے لیے اردن واپسی پر مجبور کیا؛ بیس سال کی عمر میں وہ مجلس شوریٰ کے رکن بن گئے۔ 2 1920ء میں شاہ فیصل کی پکار پر وہ مرزا پاشا کے ہمراہ ایک ہزار چرکسی جنگجوؤں کی قیادت کرتے ہوئے فرانسیسیوں سے لڑنے شام گئے، مگر میسلون کے نتیجے کی خبر پا کر واپس آ گئے، اور 1927ء میں حزب الشعب الاردنی کے بانیوں میں شامل ہوئے۔ 2 وہ کئی مرتبہ وزیرِ داخلہ (1944ء–1945ء، 1948ء–1950ء، 1951ء–1953ء، 1957ء) اور 1945ء میں وزیرِ خزانہ رہے، اور مجلس اعیان کے صدر رہے — انگریزی مقالہ ان کی صدارتیں دسمبر 1956ء تا جولائی 1963ء اور نومبر 1965ء تا نومبر 1974ء بتاتا ہے۔ 1 1974ء میں سبکدوش ہوئے؛ عربی مقالہ بتاتا ہے کہ ان کے بیٹے عزمي کی ہلاکت نے انہیں شدید غم دیا۔ 2 جبل عمان میں ان کا گھر اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے «بیت المفتی» کہلایا، اور السویفیہ میں ایک شارع ان کے نام پر ہے۔ 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ مآخذ میں منقول مواقف کی پیشکش ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    مآخذ دو مقامات پر مختلف ہیں اور عجائب گھر دونوں کو یوں ہی پیش کرتا ہے: ان کی تاریخِ ولادت کا دن (انگریزی مقالے میں 26 جون، وکی ڈیٹا میں 28 جون) اور ان کی وزارتِ عظمیٰ کی گنتی (انگریزی مقالے میں تین ادوار، عربی مقالے میں چار حکومتیں — دو شاہ عبداللہ اول اور دو شاہ حسین کے عہد میں، 1950ء تا 1955ء)۔ 1 3 2 ان کے اعتقاد کی مدرسہ جاتی حیثیت ان کے اعداد میں «نامعلوم» درج ہے، بلکہ اس سے بھی مضبوط بنیاد پر: پڑھے گئے مآخذ میں سے کوئی بھی ان کے لیے کوئی مذہب بیان ہی نہیں کرتا — نہ دونوں مقالے، نہ وکی ڈیٹا میں کوئی مذہبی قدر ہے؛ ان کی چرکسی نسبت ایک قومیت ہے، کوئی دینی شہادت نہیں، اس لیے قدر نامعلوم رہتی ہے۔ 1 2 3

    حوالہ جات

    • اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کے بعد کے ترجمے اور ترامیم کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی نظرثانی درکار ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    عمان
    Died in
    عمان
    Buried in
    عمان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبداللہ دوم· محمد ناصر الدین الالبانی· ایاد قنیبی· حنان اشراوی· حسین بن عبد اللہ دوم· حسین ابن علی ہاشمی· حسین بن طلال· محمد راتب النابلسى

    ماخذ

    1. Sa'id al-Mufti — English Wikipedia
    2. Sa'id al-Mufti — Arabic Wikipedia
    3. Sa'id al-Mufti — Wikidata Q979812
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سعید المفتی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/said-al-mufti/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبداللہ دوم

    اردن کے بادشاہ، جو 7 فروری 1999 سے تخت پر ہیں۔ وہ 1962 میں عمان میں پیدا ہوئے، شاہ حسین کے سب سے بڑے بیٹے ہیں، اور بادشاہ بننے سے پہلے اردنی فوج میں افسر اور خصوصی دستوں کے کمانڈر رہے۔ وہ بین المذاہب مکالمے اور یروشلم کے مقدس مقامات کی نگرانی کی وجہ سے معروف ہیں اور اس وقت سب سے طویل عرصے سے برسرِ اقتدار عرب رہنما ہیں۔