سامی آفندی

سامي أفندي

–

إسطنبول

عثمانی خطاط (1838–1912)، جلی تعلیق اور جلی ثلث کے آخری بڑے استاد۔ انہوں نے عبد الحمید ثانی کے دور میں سلطان کے طغرا کو اس کی نهایی صورت دی، برسوں طوپ قاپی محل میں خطاطی سکھائی، اور کامل آکدک اور حسن رضا آفندی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
calligrapher · teacher
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرزاق البيطار · الفا یایا ڈیالو · الطاف حسین حالی · دلی فواد پاشا · حسين أفندي قايبوف

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سامی آفندی (13 مارچ 1838 – 1 جولائی 1912)، جن کا پورا نام اسماعیل حقی تھا اور جو اپنے کاموں پر «سامی» کے تخلص سے دستخط کرتے تھے، عثمانی خطاط تھے، جلی تعلیق اور جلی ثلث کے آخری بڑے استاد۔ انہوں نے عبد الحمید ثانی کے دور میں سلطان کے طغرا کو اس کی نهایی صورت دی، برسوں طوپ قاپی محل میں خطاطی سکھائی، اور اساتذہ کی ایک نسل تیار کی جن میں کامل آکدک اور حسن رضا آفندی شامل ہیں۔ 1 2

    ان کی پیدائش مآخذ میں اس کی ہجری تاریخ، 16 ذی الحجہ 1253، سے درج ہے، جسے ترک وقفِ دیانت کی اسلام انسائیکلوپیڈیا کا مدخل 13 مارچ 1838 میں بدلتا ہے؛ ترکی اور عربی مضامین اسی تاریخ کو 1837 لکھتے ہیں، اور انگریزی مضمون کی سرخی ان کے سال غلطی سے (1858–1912) چھاپتی ہے۔ اس اندراج میں 1838 اپنایا گیا ہے اور تشریحات واضح کر دی گئی ہیں۔ 1 3 4

    تربیت

    وہ استنبول کے فاتح علاقے کے حیدر خانہ محلے میں پیدا ہوئے؛ والد حاجی محمود آفندی لحاف سازوں کی انجمن کے کتخدا تھے اور والدہ نفیسہ خانم تھیں؛ عید الاضحیٰ کے فوراً بعد پیدا ہونے کی وجہ سے ان کا نام اسماعیل حقی رکھا گیا۔ انہوں نے خطاطی اکسرائے میں کاتب مصطفی آفندی مسجد کے مکتب سے شروع کی، بوشناق عثمان آفندی سے ثلث و نسخ سیکھے اور انہی سے اجازت لی — ان دو خطوط میں ان کا کوئی اور استاد نہیں تھا۔ 1853 میں مالیہ کے دفتر میں داخل ہوئے، جہاں انہیں محمد نام اور «سامی» تخلص دیا گیا؛ اپنے کاموں پر انہوں نے کبھی اصل نام استعمال نہیں کیا۔ وہاں اور بعد میں انہوں نے ممتاز آفندی سے باب عالی طرز کا رقعہ، دیوانِ ہمایوں کے خطاطی استاد ناصح آفندی سے دیوانی، جلی دیوانی اور طغرا بنانا سیکھا، اور مصطفیٰ راقم کے شاگرد محمد شاکر رجائی آفندی سے جلی ثلث میں ترقی کی۔ 1

    انہوں نے اسماعیل حقی زادہ قبرصی سے تعلیق سیکھا اور 1857 میں اجازت لی، اور ان کے استاد کی 1862 میں وفات کے بعد ملک پاشا زادہ علی حیدر بے سے جلی تعلیق جاری رکھا۔ وہ قاضی عسکر مصطفیٰ عزت آفندی کی مجالس میں بھی شریک ہوئے، اسکدار کی اوزبکلر تکیہ کے شیخ ادھم آفندی سے کاغذ کی تیاری اور ایبرو کاغذ بنانا سیکھا — ایک روایت میں یہ تعلیم ان کے تعلیق کے استاد سے ملتی ہے — قلم تراش بنانے اور مہر کھودنے میں مہارت حاصل کی، اور 1864 میں محمد شوقی آفندی اور ان کے ماموں محمد خلوصی آفندی سے ثلث و نسخ میں تبرکی اجازت لی۔ 1 4

    پیشہ اور تدریس

    مالیہ کی خدمت میں وہ ترقی کر کے دیوانِ ہمایوں کے مہمہ قلم میں شاہی خطوط کے کاتب بنے، اور 18 اپریل 1878 کو ناصح آفندی کے جانشین کے طور پر دیوانِ ہمایوں میں مختلف خطوط کے استاد مقرر ہوئے؛ نشانِ ہمایوں کے دفتر میں مزید ترقی پائی، اور 1894 میں صدر اعظم جواد پاشا کے کھولے ہوئے خطاطی شعبے میں اضافی تنخواہ پر استاد مقرر ہوئے۔ انہوں نے طوپ قاپی محل کے اندرونِ ہمایوں اور چارشی قاپی کی مصطفیٰ پاشا مدرسے میں طویل مدت خطاطی سکھائی، اور ان کا گھر گویا خطاطی کا مدرسہ بن گیا جہاں دور کے تمام اساتذہ آتے تھے۔ دوسرے آئینی دور کے اعلان کے بعد وہ ریٹائر ہو گئے۔ 1 5

    انہوں نے سلطان عبد العزیز، عبد الحمید ثانی اور سلطان رشاد کے طغرے کامل ترین صورت میں بنائے، اور طغرا کی مستقر صورت انہی کے ہاتھ سے بنی۔ ان کے جلی کام عموماً کالے کاغذ پر پیلی زرنیخی روشنائی سے لکھے جاتے، پھر سانچے بنانے کے لیے چھیدے جاتے اور ان کے دور کے مذهب انہیں سونے سے کام دیتے؛ کاجل کی روشنائی سے لکھے ان کے کام بہت کم بچے ہیں۔ وہ اپنے انضباط کے لیے مشہور تھے: کوئی قطعہ لکھ کر اسے طویل مدت نہیں دیکھتے تھے تاکہ دوبارہ نکالنے پر اس کے عیب ظاہر ہو جائیں۔ 1

    شاگرد اور وفات

    ان کے بے شمار شاگردوں میں حاجی کامل آفندی (آکدک)، جنہیں بعد میں «رئیس الخطاطین» کہا گیا، خلوصی یازگان، اسماعیل حقی آلتون بزر، محمد نظیف بے، فرید بے اور حسن رضا آفندی شامل تھے۔ 1903 میں بیٹی سعادت خانم کی وفات پر، جو ایک یتیم چھوڑ گئیں، غم میں انہوں نے کچھ مدت پڑھانا چھوڑ دیا؛ پھر اوزبکلر تکیہ کے ادھم آفندی کی سفارش سے آخری برسوں میں چند شاگرد پھر لیے۔ سردیاں فاتح کے خورخور میں اور گرمیاں چنگل کوئے میں گزارتے تھے۔ 1

    آخری سال فالج میں گزارا اور 1 جولائی 1912 کو خورخور میں اپنے گھر انتقال ہوا؛ اگلے دن فاتح مسجد کے حظیرے میں دفن ہوئے۔ ان کے شاگرد کامل آکدک نے ان کے مزار کا کتبہ جلی ثلث میں لکھا اور اس کی تزئین طغراکش اسماعیل حقی بے کی تھی۔ 1 5 4

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اینٹٹیز، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہونی چاہیے، اور ہر واقعے کو بدلنے والے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Taught
    حسن رضا آفندی
    Born in
    إسطنبول
    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    حسن رضا آفندی· إسطنبول· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول

    ماخذ

    1. Sami Efendi — TDV İslâm Ansiklopedisi
    2. Sami Efendi — Urdu Wikipedia
    3. Sami Efendi — Turkish Wikipedia
    4. Sami Efendi — Arabic Wikipedia
    5. Sami Efendi — English Wikipedia
    • Sami Efendi — Wikidata Q7409361
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سامی آفندی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sami-efendi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    حسن رضا آفندی

    عثمانی خطاط (1849–1920) جو اپنے «آیت برکنار» مصحف کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے انیس مصاحف لکھے جن کے مطبوعہ نسخے عالم اسلام میں پھیلے، سلطان محمد خامس کے لیے صحیح بخاری آٹھ جلدوں میں نقل کی، سامي آفندی سے تعلیق اور محمد شفیق بے سے خط سیکھا، اور 1914 سے مدرسۂ خطاطین میں پڑھایا۔