ایک نظر میں
- کردار
- حکمران · عالم
- خطہ
- arabia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
امام سعود بن عبد العزیز بن محمد آل سعود (1748ء – 1814ء)، جنھیں وفات کے بعد سعود الکبیر کہا گیا، پہلی سعودی ریاست کے تیسرے امام تھے اور 1803ء میں والد کے قتل سے اپنی وفات تک حکمران رہے 1 2۔ ان کے دور میں ریاست اپنی سب سے بڑی وسعت کو پہنچی: فرات کے کناروں اور شامی صحرا سے عمان اور یمن تک، اور خلیج سے بحیرہ احمر تک 2۔
والد کی زندگی میں سپہ سالاری
سعود 1748ء میں درعیہ میں پیدا ہوئے، عبد العزیز بن محمد کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور ان کی والدہ عیینہ کے حکمران عثمان بن معمر کی بیٹی تھیں 1۔ 1787ء میں انھیں ولی عہد قرار دیا گیا جب محمد بن عبدالوہاب نے لوگوں سے ان کی بیعت لی؛ یہ شیخ کا ریاستی امور میں آخری بڑا عمل تھا 1۔ ریاست کے سپہ سالار کی حیثیت سے انھوں نے 1789ء تا 1792ء بنی خالد سے احساء چھینا، اور اپریل 1802ء میں اس فوج کی قیادت کی جس نے کربلا پر حملہ کر کے حضرت حسین کے مزار کو مسمار کیا اور شہر کے بہت سے باشندے قتل کیے 1۔
دورِ حکومت
سعود 1803ء میں والد کی طرح امیر اور امام دونوں لقبوں کے ساتھ تخت پر بیٹھے 1۔ ان کی فوجوں نے اپریل 1804ء میں مدینہ اور 1806ء میں مکہ لیا، یوں وہ آل سعود کے پہلے حکمران بنے جنھیں خادم الحرمین الشریفین کہا گیا؛ بحرین اور عمان بھی ریاست میں شامل ہوئے اور قواسم و مسقط نے ان کی سیادت مانی 1۔ مکہ کی فتح کے بعد انھوں نے وہاں جمعے کے خطبے سے عثمانی سلطان کا نام حذف کرایا اور سلطان سلیم ثالث کو خط لکھ کر ریاست کے عقیدے کی دعوت دی 1۔ عثمانی یورپ میں الجھے ہوئے تھے، اس لیے 1809ء میں مصر کے محمد علی کو عرب کی بازیابی سونپی گئی اور اس کے بیٹے کی فوجوں نے 1813ء میں حجاز واپس لے لیا 1۔
عالم اور حکمران
عربی مضمون سعود کو اپنے زمانے کے ممتاز علما میں شمار کرتی ہے، تفسیر، حدیث اور فقہ میں؛ بتاتی ہے کہ انھوں نے محمد بن عبدالوہاب سے علم حاصل کیا اور درعیہ کے محل میں مطالعے و تدریس کی مجالس اپنی نگرانی میں منعقد کرتے اور کبھی خود بھی پڑھاتے 2۔ انگریزی مضمون اس کے ساتھ ایک اور پہلو رکھتی ہے: وہ اپنے گہرے مذہبی والد سے بہت مختلف مزاج کے تھے اور حکمرانی کے مادی پہلو میں دلچسپی رکھتے تھے، اگرچہ لباس سادہ اور اسلحہ بے آرائش تھا 1۔
وفات
مذہب
کسی بھی پڑھے گئے ماخذ نے ان کے لیے کوئی فقہی مذہب نام لے کر نہیں بتایا۔ ان کا محمد بن عبدالوہاب سے پڑھنا، تفسیر و حدیث و فقہ کا عالم شمار ہونا اور اصلاحی تحریک کی ریاست کا امام بن کر حکومت کرنا شاگردی، علم اور قیادت کے امور ہیں؛ ان میں سے کوئی بھی بذاتِ خود کوئی مذہب ثابت نہیں کرتا، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے 1 2 3۔ اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔
محققین کے لیے نوٹس
یہ امام سعودی عرب کے بادشاہ سعود (1902ء – 1969ء) نہیں ہیں، جن کا اپنا ریکارڈ موجود ہے، نہ ہی اس بادشاہ کے والد؛ ان کے ریکارڈ اور ماخذ میں نام کی «ابن» والی صورت رکھی گئی ہے تاکہ دونوں الگ رہیں 3۔ سالِ ولادت میں اختلاف ہے: انگریزی اور عربی مضامین 1748ء دیتے ہیں، عربی اسے 1161ھ سے جوڑتی ہے، اور وکی ڈیٹا دوسرا سال 1750ء بھی دیتا ہے 1 2 3۔ درعیہ کا ابھی عجائب گھر میں کوئی مقام ریکارڈ نہیں، اس لیے ان کے ریکارڈ میں ولادت یا وفات کے مقام کی کوئی نسبت نہیں۔
تعلقات
- Child of
- عبد العزیز بن محمد بن سعود
- Successor of
- عبد العزیز بن محمد بن سعود
- Studied under
- محمد بن عبد الوهاب
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عبد العزیز بن محمد بن سعود· محمد بن عبد الوهاب· محمد بن سعود
ماخذ
- Saud bin Abdulaziz Al Saud (1748–1814) — English Wikipedia
- Saud al-Kabir ibn Abdulaziz — Arabic Wikipedia
- Saud ibn Abdulaziz ibn Muhammad Al Saud — Wikidata Q2227089
- Saud ibn Abdulaziz ibn Muhammad — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سعود بن عبد العزیز بن محمد بن سعود”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/saud-ibn-abdulaziz/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.