سید فضل بن علوی

السيد فضل بن علوي

–

مكة المكرمة → إسطنبول

حضرمی باعلوی سادات کے عالم اور دینی و سیاسی رہنما (1824ء–1900ء) جو جنوبی ہندوستان کے مالابار کے مامپورم میں ایک صوفی مہاجر والد کے گھر پیدا ہوئے اور 1844ء میں اپنے والد کے جانشین کے طور پر سلسلہ علویہ اور مالابار کے مسلمانوں کے رہنما بنے۔ برطانوی حکومت نے ان پر ماپلا بغاوتوں کی تحریک کا الزام لگایا، تو 1853ء میں گرفتاری کے حکم کے بعد وہ مکہ فرار ہو گئے اور پھر کبھی واپس نہ آ سکے۔ بعد ازاں وہ حجاز اور مصر میں رہے، جنوبی عرب کے ظفار کے والی بنے (1876ء–1879ء)، پھر استنبول جا کر سلطان عبدالحمید ثانی کے دربار کے معززین میں شامل ہوئے اور فضل پاشا کا لقب پایا، سیاست و تصوف پر کتابیں لکھیں جن میں «عدۃ الامراء والحکام» مشہور ہے، اور استنبول ہی میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer · activist
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: المامی سولوکو · قرمانجان داتقا · ميرزا أبو تراب آخوندزاده · وارث علی شاہ · ہاشم جلیل العالم اقام الدین

مکان میں

مكة المكرمةإسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید فضل بن علوی بن محمد بن سہل (1824ء – اکتوبر 1900ء)، جو ہندوستان میں فضل پوکویا تھنگل اور استنبول میں فضل پاشا کے نام سے مشہور ہیں، حضرمی باعلوی سادات کے عالم اور دینی و سیاسی رہنما تھے، مالابار کے مامپورم میں پیدا ہوئے اور ان کی زندگی مالابار، حجاز، جنوبی عرب اور استنبول کے درمیان گزری۔ 1 2 برطانوی حکومت نے ان پر ماپلا بغاوتوں کی تحریک کا الزام لگایا اور 1852ء میں وہ عملاً جلا وطن ہو گئے، پھر کبھی ہندوستان واپس نہ جا سکے؛ بعد میں وہ ظفار کے والی اور سلطان عبدالحمید ثانی کے مقرب بنے۔ 2

    زندگی

    ان کے والد سید علوی حضرموت سے مالابار آئے اور سلسلہ علویہ کے رہنما بنے؛ فضل 1824ء میں پیدا ہوئے، علویہ کے اصولوں کی تربیت پائی اور 1844ء میں والد کے جانشین بنے۔ 1 1852ء میں گرفتاری کے حکم کے بعد وہ مکہ فرار ہو گئے، برطانوی حکومت کے خلاف کتابیں اور فتاویٰ لکھے، جن میں «عدۃ الامراء والحکام» مشہور ہے۔ 3 4 1876ء میں وہ جنوبی عرب کے ظفار کے والی بنے، 1879ء میں ہٹائے گئے، پھر استنبول میں عثمانی دربار کے معزز بن کر فضل پاشا کہلائے اور سلطان کو مسلمانوں کے اتحاد کی یادداشتیں پیش کیں۔ 1

    وفات اور مسلک

    اکتوبر 1900ء میں استنبول میں وفات پائی؛ بعض ذرائع 1901ء بھی دیتے ہیں کیونکہ ہجری سال 1318ء مئی 1900ء سے مئی 1901ء تک پھیلا ہے۔ 1 3 ابو منّہ اور جیکب دونوں انہیں علویہ صوفی سلسلے کا رہنما اور صوفی عالم بتاتے ہیں، اسی لیے ہستی کے اعداد و شمار میں ان کا مسلک «صوفی» بتوثیق درج ہے۔ 1 2

    حوالہ جات

    • اوپر مستشہد شدہ معرّف ذرائع، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    مكة المكرمة
    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· دار الندوة· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا

    ماخذ

    1. Butrus Abu-Manneh, 'Abdulhamid II and Sayyid Fadl Pasha of Hadramawt: An Arab Dignitary's Ambitions (1876–1900)'
    2. Wilson Chacko Jacob, For God or Empire: Sayyid Fadl and the Indian Ocean World (Stanford University Press, 2019)
    3. Hussain Randathani, 'Hadrami Sayyids against Colonialism: the Malabar Page'
    4. Fazal Pookoya Thangal — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سید فضل بن علوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sayyid-fadl-ibn-alawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.