سید نواب علی چودھری

سيد نواب علي تشودري

–

ٹانگائل میں دھنباری کے نواب (1863ء–1929ء)، متحدہ بنگال کے پہلے مسلمان وزیر اور اس کے وزیرِ تعلیم۔ انھوں نے خواجہ سلیم اللہ کے ساتھ 1911ء میں ڈھاکہ میں یونیورسٹی کا مطالبہ کیا اور اس کا بل شاہی قانون ساز اسمبلی سے منظور کرایا؛ وظائف اور تعلیمی اداروں کی مالی مدد کی، اخبار «مہر سدھاکر» کے مالک رہے، ادیبوں کی سرپرستی کی، اور 1906ء کے شملہ وفد اور آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام میں حصہ لیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer · سرپرست
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي · أحمد جودت أوران · احمد رضا · علی حاجی اکوشا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید نواب علی چودھری (29 دسمبر 1863ء – 17 اپریل 1929ء) ٹانگائل میں دھنباری کے نواب اور متحدہ بنگال کے پہلے مسلمان وزیر تھے، اور وفات تک وزیرِ تعلیم رہے۔ 1 2 ان کا نام سب سے زیادہ ڈھاکہ یونیورسٹی سے جڑا ہے: انھوں نے 1911ء میں خواجہ سلیم اللہ کے ساتھ اس کا مطالبہ کیا اور شاہی قانون ساز اسمبلی میں اس کا بل منظور کرایا، یہاں تک کہ 1921ء میں یونیورسٹی قائم ہوئی۔ 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون ان کی جائے پیدائش دھنباری، ٹانگائل بتاتا ہے جہاں ان کے والد جناب علی چودھری زمیندار تھے، جبکہ بنگلہ پیڈیا کے مطابق وہ اپنے نانا خان بہادر محمد علی خان چودھری، زمیندارِ ناٹور، کے گھر پیدا ہوئے؛ دونوں مقامات ماخذوں کے مطابق درج ہیں۔ 1 2 انھوں نے بچپن میں استاد سے عربی، فارسی اور بنگلہ سیکھی، راجشاہی کالجیٹ اسکول گئے اور پھر کلکتہ کے سینٹ زیویئر کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ 1 2

    عوامی زندگی

    انھوں نے میمن سنگھ کے اعزازی مجسٹریٹ کے طور پر آغاز کیا، پھر بلدیاتی کمشنر اور ضلع بورڈ کے رکن بنے، اور یکے بعد دیگرے مشرقی بنگال و آسام کی قانون ساز کونسل (1906ء–1911ء)، بنگال کی قانون ساز کونسل (1912ء–1916ء) اور ہند کی شاہی قانون ساز کونسل (1916ء–1920ء) کے رکن رہے؛ 1921ء میں وہ اصلاح شدہ بنگال کونسل کے منتخب رکن اور اس کی پہلی وزارت میں شامل ہوئے، اور 1925ء سے وفات تک گورنر کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن رہے۔ 2 انھوں نے 1906ء میں شملہ وفد میں مشرقی بنگال کے مسلمانوں کی نمائندگی کی، آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام میں حصہ لیا، اور 1917ء میں لکھنؤ معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بنگال پریذیڈنسی مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دیا۔ 2

    تعلیم اور ڈھاکہ یونیورسٹی

    29 اگست 1911ء کو انھوں نے اور خواجہ سلیم اللہ نے ڈھاکہ میں یونیورسٹی کا مطالبہ کیا؛ وہ ناتھن کمیٹی کے رکن بنے، جنگِ عظیم کی وجہ سے معاملہ رکا، انھوں نے 1917ء میں اسے دوبارہ اٹھایا، 1920ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی ایکٹ منظور ہوا اور 1921ء میں کلاسیں شروع ہوئیں۔ 1 2 انھوں نے وظائف کے لیے 16,000 اور اپنی جائیداد کا کچھ حصہ رہن رکھ کر مزید 35,000 روپے یونیورسٹی کو دیے، مجموعی طور پر 38 تعلیمی اداروں کی مدد کی اور 1910ء میں دھنباری میں نواب انسٹی ٹیوٹ ہائی اسکول قائم کیا۔ 1

    کتابیں اور سرپرستی

    1895ء میں اخبارات «مہر» اور «سدھاکر» مل کر «مہر سدھاکر» بنے جس کے وہ مالک و مدیر تھے؛ انھوں نے کئی غریب مصنفوں کی کتابوں کی اشاعت میں مالی مدد کی۔ 1 2 ان کی اپنی کتابوں میں «عید الاضحیٰ» (1890ء)، «بنگال میں مقامی زبان کی تعلیم» (1900ء) اور «مولود شریف» (1903ء) شامل ہیں۔ 1

    وفات

    انھیں خان بہادر (1906ء)، نواب (1911ء) اور نواب بہادر (1924ء) کے خطابات ملے۔ 2 وہ 17 اپریل 1929ء کو دارجیلنگ میں وفات پا گئے اور دھنباری میں دفن ہوئے۔ 1 2 ان کے پوتے محمد علی بوگرا پاکستان کے تیسرے وزیرِ اعظم بنے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Syed Nawab Ali Chowdhury — English Wikipedia
    2. Syed Nawab Ali Chowdhury — Banglapedia
    • Syed Nawab Ali Chowdhury — Wikidata Q13060128
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سید نواب علی چودھری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/syed-nawab-ali-chowdhury/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔