ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · جرنیل
- خطہ
- south-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ضیاء الرحمان (19 جنوری 1936ء – 30 مئی 1981ء) بنگلہ دیشی فوجی رہنما اور سیاست دان تھے جو 1977ء سے 1981ء میں اپنے قتل تک بنگلہ دیش کے چھٹے صدر رہے، اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بانی تھے۔ پاکستانی فوج کے اعزازی افسر، انھوں نے مارچ 1971ء میں چٹاگانگ سے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان نشر کیا اور جنگ آزادی میں ایک سیکٹر اور «زیڈ فورس» بریگیڈ کی کمان کی۔ 1975ء کی افراتفری کے بعد وہ ملک کے طاقتور حکمران بن کر ابھرے، 1977ء میں صدارت سنبھالی، 1978ء میں بی این پی قائم کی، کثیر الجماعتی سیاست بحال کی اور اقتصادی آزاد خیالی کی پالیسی اپنائی؛ ان کی صدارت میں بنگلہ دیش کا آئین سیکولرازم سے ہٹ کر اسلامی ڈھانچے کی طرف بھی گیا، جو ایک ریاستی پالیسی ہے جسے عجائب گھر اسی حیثیت میں درج کرتا ہے۔ وہ چٹاگانگ میں ایک بغاوت کی کوشش میں قتل کر دیے گئے۔ ان کی بیوہ خالدہ ضیاء بعد میں بی این پی کی رہنما اور تین بار وزیر اعظم رہیں۔ 1 2
ابتدائی زندگی
ضیاء الرحمان 19 جنوری 1936ء کو برطانوی ہندوستان کے بنگال کے ضلع بوگرا کے گبتلی کے گاؤں باغباری میں منڈل برادری کے ایک بنگالی مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منصور رحمان کلکتہ میں بنگال حکومت کے کیمیادان تھے اور والدہ جہان آرا خاتون تھیں۔ تقسیم کے بعد خاندان کراچی منتقل ہو گیا، جہاں ضیاء نے تعلیم مکمل کی۔ 1953ء میں وہ کاکول کی پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوئے اور 1960ء میں خالدہ خانم، بعد کی خالدہ ضیاء، سے شادی کی، جن سے ان کے دو بیٹے طارق اور عرفات ہوئے۔ 1
پاکستانی فوج اور جنگ آزادی
1955ء میں کمیشن حاصل کر کے ضیاء نے پہلے پنجاب رجمنٹ، پھر ایسٹ بنگال رجمنٹ میں خدمات انجام دیں، 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں لڑے اور فوجی انٹیلی جنس میں کام کیا۔ 1969ء میں چٹاگانگ تعیناتی پر وہ آٹھویں ایسٹ بنگال رجمنٹ کے نائب کمانڈر تھے جب مارچ 1971ء میں پاکستانی کارروائی شروع ہوئی۔ انھوں نے 27 مارچ 1971ء کو کالور گھاٹ کے سوادھین بنگلہ بیتار کیندر اسٹیشن سے آزادی کا اعلان نشر کیا — جس کی وجہ سے وہ «آزادی کے اعلان کنندہ» کے نام سے مشہور ہوئے — اور جنگ کے دوران سیکٹر 1، پھر سیکٹر 11 کی کمان کی اور جولائی کے وسط سے زیڈ فورس بریگیڈ کے کمانڈر رہے۔ انھیں بیر اتّم سے نوازا گیا۔ 1
اقتدار کی طرف بڑھنا
آزادی کے بعد ضیاء فوج کے نائب سربراہ، پھر سربراہ بنے۔ 1975ء کے بغاوتوں کے سلسلے — اگست میں شیخ مجیب الرحمان کا قتل، 3 نومبر کی بغاوت جس نے انھیں ہٹایا، اور 7 نومبر کی سپاہی بغاوت جس نے انھیں آزاد کرایا — کے بعد وہ مارشل لا کے تحت عملاً حکمران بن کر ابھرے، اور 21 اپریل 1977ء کو انھوں نے ابو سادات محمد سائم سے صدارت سنبھال لی۔ 1
صدارت
صدر کی حیثیت سے ضیاء الرحمان نے 1 ستمبر 1978ء کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی قائم کی، کثیر الجماعتی سیاست، پریس کی آزادی اور آزاد منڈیاں بحال کیں، بڑے پیمانے پر آبپاشی اور غذائی پیداوار کے پروگرام شروع کیے، مغرب اور چین سے تعلقات بہتر کیے، اور وہ علاقائی سفارت کاری شروع کی جس سے بعد میں سارک وجود میں آیا۔ ان کی حکومت نے آئین میں ترمیم بھی کی: اس کے آغاز میں بسملہ درج کی گئی اور سیکولرازم سے وابستگی کی جگہ «اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد اور ایمان» لکھا گیا — مضمون ان کا یہ نقطہ نظر درج کرتا ہے کہ اسلام بہ حیثیت مذہب مسلم اکثریتی ریاست کی رہنمائی میں کچھ کردار ادا کر سکتا ہے۔ مضمون یہ بھی درج کرتا ہے کہ انھیں اکیس تک بغاوت کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا، جن کا جواب فوجی ٹربیونلز اور پھانسیوں سے دیا گیا، اور بین الاقوامی مبصرین میں انھیں سختی کی شہرت ملی۔ 1
قتل اور میراث
30 مئی 1981ء کو ضیاء الرحمان کو چٹاگانگ کے سرکٹ ہاؤس میں فوجی افسروں کی بغاوت کی کوشش میں قتل کر دیا گیا۔ انھیں ڈھاکہ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا، جہاں ضیاء الرحمان کا مزار قائم ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کی میراث متنازع رہی ہے: انھیں یک جماعتی بکسل دور کے بعد نظم و ضبط اور کثیر الجماعتی جمہوریت کی بحالی اور اقتصادی اصلاحات کا سہرا دیا جاتا ہے، اور حزب اختلاف کو دبانے پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ان کی قائم کردہ جماعت ملک کی دو بڑی جماعتوں میں سے ایک برقرار ہے، جس کی قیادت ان کے بعد ان کی بیوہ خالدہ ضیاء اور پھر ان کے بیٹے طارق رحمان نے کی۔ 1
ماخذ
- اوپر مذکور معرّف ماخذ وحدتیں، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر تبدیل شدہ حقیقت کا ماخذ نامزد ہونا چاہیے۔
تعلقات
- Spouse of
- خالدہ ضیاء
- Buried in
- دكا
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
خالدہ ضیاء· دكا· ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد
ماخذ
- Ziaur Rahman — English Wikipedia
- Ziaur Rahman — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ضیاء الرحمان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ziaur-rahman/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.