ایک نظر میں
- دور
- عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة
- خطہ
- persia-central-asia
وقت میں
خلاصہ
"المستدرک علی الصحیحین" حاکم ابو عبد اللہ نیشاپوری (وفات 405ھ) کی کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی اسانید سے وہ احادیث جمع کیں جن کے راویوں جیسے راویوں سے ان کے نزدیک بخاری اور مسلم نے حجت پکڑی، مگر دونوں نے انہیں اپنی صحیحین میں درج نہیں کیا۔ انہوں نے اس کا خطبہ پیر 7 محرم 373ھ کو املا کرایا۔ 4
یہ حدیث کی سب سے بڑی کتابوں میں سے ہے، جس میں ہزاروں احادیث ہیں، اور مصنف بعض اوقات ایک ہی حدیث کے طرق جمع کرنے میں بہت طوالت سے کام لیتے ہیں، جیسے "قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو" اور "ولی کے بغیر نکاح نہیں" کی احادیث میں۔ 5
تصنیف کا سبب: حاکم کا خطبہ
حاکم اپنی کتاب کا آغاز اس بات سے کرتے ہیں کہ اللہ نے اس امت کو ان اسانید سے عزت دی جو ایک عادل سے دوسرے عادل کے ذریعے منتقل ہوئیں، اور ہر دور میں ایسے ائمہ پیدا کیے جو راویوں کی توثیق کرتے تھے، جن میں بخاری اور مسلم ہیں جنہوں نے صحیح روایات میں دو مہذب کتابیں لکھیں۔ پھر وہ توجہ دلاتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جو اس نے درج کیا اس کے سوا کوئی حدیث صحیح نہیں۔ 4
وہ کہتے ہیں کہ ان کے زمانے میں ایک گروہ ابھرا جسے وہ مبتدعہ کہتے ہیں، جو راویانِ آثار کو یہ طعنہ دیتا تھا کہ ان کے نزدیک صحیح حدیث کی کل تعداد دس ہزار تک نہیں پہنچتی۔ 4 اور نیشاپور وغیرہ کے بڑے اہلِ علم نے ان سے فرمائش کی کہ وہ ایسی احادیث کی کتاب جمع کریں جن کی اسانید ویسی ہوں جن سے شیخین حجت پکڑتے ہیں۔ 6
وہ اپنی شرط یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ "ایسی احادیث نکالیں گے جن کے راوی ثقہ ہوں اور ویسے راویوں سے شیخین یا ان میں سے ایک نے حجت پکڑی ہو"، اور اس اصول پر اعتماد کرتے ہیں کہ ان کے بقول اسلام کے تمام فقہا کے نزدیک ثقہ راویوں کی طرف سے اسانید اور متون میں اضافہ مقبول ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب "المدخل الی الصحیح" میں شیخین کا دفاع کیا ہے۔ 6
ترتیب
کتاب فقہی اور موضوعاتی کتابوں پر مرتب ہے اور خطبے کے فوراً بعد کتاب الایمان سے شروع ہوتی ہے۔ 7 دار الکتب العلمیہ کے نمبر شدہ ایڈیشن میں تیسری جلد میں تین مسلسل کتابیں ہیں: کتاب الہجرۃ، نمبر 29 (ص 3-20، حدیث 4257 سے)؛ کتاب المغازی والسرایا، نمبر 30 (ص 21 سے، حدیث 4297 سے)؛ اور کتاب معرفۃ الصحابہ، نمبر 31 (ص 64 سے، حدیث 4403 سے)۔ یہ جلد حدیث 6709 پر ختم ہوتی ہے۔ 8
حاکم کتاب الہجرۃ کا آغاز یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ اس کی اکثر روایات شیخین کے نزدیک صحیح ہیں، اور دونوں نے مکہ میں نبی کے قیام کی مدت کے بارے میں صحابہ کا اختلاف درج کیا ہے۔ پھر وہ علی کی روایت لاتے ہیں کہ مکہ میں قیام تیرہ برس رہا، اور کہتے ہیں کہ روایات اس پر ان روایات کے ساتھ متفق ہیں جو شیخین نے ابن عباس سے نکالی ہیں۔ 2
کتاب معرفۃ الصحابہ مسلسل ابواب پر مشتمل ہے جن کے عنوان "فلاں کے مناقب کا ذکر" یا صرف "فلاں کا ذکر" ہیں۔ یہ چاروں خلفا اور اہلِ بیت سے شروع ہوتی ہے، پھر سابقین، اہلِ بدر اور شہدا، اور پھر قبائل کے لحاظ سے صحابہ کی ایک طویل فہرست۔ ہر باب میں حاکم نسب، اسلام، غزوات اور وفات کی خبروں کے ساتھ مسند احادیث جمع کرتے ہیں۔ 9
احادیث پر حکم لگانے کا طریقہ
حاکم عموماً حدیث کے بعد اپنا حکم لکھتے ہیں: "شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور انہوں نے اسے نہیں نکالا"، یا "مسلم کی شرط پر"، یا "صحیح الاسناد ہے اور انہوں نے اسے نہیں نکالا"۔ ابن حجر ان کے طرزِ عمل سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب شیخین یا ان میں سے ایک نے حدیث کے راویوں کو درج کیا ہو تو حاکم کہتے ہیں "ان کی شرط پر" یا "ان میں سے ایک کی شرط پر"، اور جب بعض راوی ان کے ہاں نہ ہوں تو صرف "صحیح الاسناد" کہتے ہیں۔ ابن حجر حدیث "رحمت صرف بدبخت سے چھینی جاتی ہے" پر حاکم کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں کہ اگر یہ ابو عثمان، نہدی ہوتے تو وہ اسے شیخین کی شرط پر قرار دیتے۔ 10
ابن حجر کتاب کی احادیث کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی: وہ احادیث جن کے راویوں سے شیخین نے اکٹھے حجت پکڑی ہو اور وہ علتوں سے پاک ہوں؛ یہ کم ہیں جن کی مثال شیخین کے ہاں نہ ہو، اور ان میں سے بہت سی دراصل صحیحین میں موجود ہیں جنہیں حاکم نے غلطی سے مستدرک میں شامل کیا۔ دوسری: وہ احادیث جن کے راویوں کو شیخین نے صرف متابعات اور شواہد میں لیا، حجت کے طور پر نہیں؛ یہ "کتاب کا اصل سرمایہ" ہے اور اس کا اکثر حصہ حسن کے درجے سے نیچے نہیں۔ تیسری: وہ احادیث جن کے راویوں کو انہوں نے بالکل نہیں لیا، اور ان میں شاذ ہی کوئی حدیث صحیح کے درجے تک پہنچتی ہے۔ 11
ابن حجر یہ بھی لکھتے ہیں کہ حاکم صحیح اور حسن میں فرق نہیں کرتے بلکہ اپنے شیوخ ابن خزیمہ اور ابن حبان کی پیروی میں سب کو صحیح کہتے ہیں۔ 12
ان کی ایک رائے جس پر بحث ہوئی یہ تھی کہ شیخین کی شرط ہے کہ صحابی سے حدیث دو راوی روایت کریں، چنانچہ وہ شیخین کے کسی حدیث کو چھوڑنے کی وجہ یہ بتاتے کہ اس کے صحابی کا صرف ایک راوی ہے۔ وادعی اس کا جواب ان صحابہ سے دیتے ہیں جنہیں دارقطنی نے "الالزامات" میں ذکر کیا کہ شیخین نے ان سے روایت لی حالانکہ ان میں سے ہر ایک کا صرف ایک راوی تھا، جیسے مرداس اسلمی، عدی بن عمیرہ اور عتبان بن مالک۔ 13 خود حاکم روایت کرتے ہیں کہ دارقطنی نے ان سے پوچھا کہ شیخین نے اسامہ بن شریک کی حدیث کیوں چھوڑی؛ انہوں نے جواب دیا کہ اسامہ سے صرف زیاد بن علاقہ روایت کرتے ہیں، تو دارقطنی نے ان صحابہ کا ذکر کیا جن کا ایک ہی راوی ہے اور شیخین نے انہیں لیا۔ وادعی کے نزدیک حاکم نے یہ بات مان لی۔ 14 وادعی ان مقامات کی بھی نشان دہی کرتے ہیں جہاں حاکم خود اپنی اس رائے کے خلاف بات کرتے ہیں، جیسے مطر بن عکامس کی حدیث پر ان کا یہ کہنا کہ شیخین نے کئی ایسے صحابہ کو لیا جن میں سے ہر ایک کا صرف ایک راوی ہے۔ 15
کتاب کی پذیرائی اور تنقید
ناقدینِ حدیث حاکم کے بلند مقام پر متفق تھے اور ان کی تنقید خاص طور پر "المستدرک" میں ان کے تساہل پر تھی۔ وادعی لکھتے ہیں کہ اہلِ علم نے اس کتاب میں ان کے تساہل کے سوا کسی چیز پر اعتراض نہیں کیا، اور اپنی باقی کتابوں میں وہ دوسرے معتبر علما کی طرح ہیں۔ 16
- ذہبی نے ابو سعد مالینی کے اس دعوے کو رد کیا کہ انہیں اس میں شیخین کی شرط پر کوئی حدیث نہیں ملی، اور اسے "ہٹ دھرمی اور غلو" کہا۔ ان کا اندازہ تھا کہ جو ان کی یا ان میں سے ایک کی شرط پر ہے وہ شاید کتاب کا ایک تہائی یا اس سے کم ہے، تقریباً ایک چوتھائی کی اسانید صالح، حسن یا جید ہیں، اور باقی منکر اور عجیب ہے، جس میں تقریباً سو احادیث ایسی ہیں "جن کے باطل ہونے کی دل گواہی دیتا ہے"، جنہیں انہوں نے الگ جزو میں جمع کیا۔ پھر بھی انہوں نے اسے "مفید کتاب" کہا اور اس کا اختصار کیا۔ 3 ابن حجر کے نقل کردہ بیان میں ذہبی شیخین یا ان میں سے ایک کی شرط والے حصے کو "تقریباً نصف" اور صحیح یا حسن سند والے حصے کو تقریباً ایک چوتھائی بتاتے ہیں۔ 17 "تذکرۃ الحفاظ" میں انہوں نے لکھا کہ کاش حاکم المستدرک نہ لکھتے، کیونکہ اس میں ان کے برے تصرف نے ان کے فضائل کو گھٹا دیا۔ 3
- حافظ عبد الغنی بن عبد الواحد مقدسی، جیسا کہ ابن حجر 595ھ کے ایک املا سے نقل کرتے ہیں، کو بخاری و مسلم کی شرط پر صرف تین ایسی احادیث ملیں جو انہوں نے درج نہیں کیں، جن میں انس کی حدیث "ابھی تمہارے پاس اہلِ جنت میں سے ایک آدمی آنے والا ہے" اور حجاج بن علاط کے اسلام لانے کی حدیث ہے۔ 18
- ابن الصلاح نے حاکم کو "شرطِ صحیح میں وسیع قدم رکھنے والا اور اس کا حکم لگانے میں متساہل" کہا اور درمیانی راہ اختیار کی: جس حدیث کی تصحیح میں وہ منفرد ہوں اور کسی دوسرے امام نے اسے صحیح نہ کہا ہو، وہ اگر صحیح نہیں تو حسن ہے اور قابلِ حجت ہے، الا یہ کہ اس میں کوئی علت ظاہر ہو۔ 19
- ابن کثیر نے کتاب کے مشمولات گنوائے: وہ صحیح احادیث جو واقعی صحیحین میں نہیں، اور وہ کم ہیں؛ وہ صحیح احادیث جو شیخین یا ان میں سے ایک نے درج کی ہیں مگر حاکم کو اس کا علم نہ ہوا؛ اور حسن، ضعیف اور موضوع احادیث۔ 19
- ابن حجر نے المستدرک کو ابن الجوزی کی کتاب الموضوعات کے ساتھ ملا کر ذکر کیا: ایک میں غیر موضوع کو موضوع سمجھ لیا جاتا ہے اور دوسری میں غیر صحیح کو صحیح، اس لیے دونوں سے صرف فن کا ماہر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ "لسان المیزان" میں وہ یہ عذر نقل کرتے ہیں کہ حاکم نے اسے آخر عمر میں لکھا جب ان پر کچھ تغیر اور غفلت طاری ہو چکی تھی۔ 20
- ابن تیمیہ کی رائے تھی کہ ماہرینِ حدیث صرف حاکم کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے، اگرچہ ان کی صحیح قرار دی ہوئی اکثر احادیث صحیح ہیں، اور ابن حبان، ترمذی، دارقطنی، ابن خزیمہ اور ابن مندہ کی تصحیح زیادہ پختہ ہے۔ 21
- زیلعی نے انہیں سب سے زیادہ متساہل لوگوں میں شمار کیا، کیونکہ وہ ایسی سند پر شیخین کی شرط کا حکم لگا دیتے ہیں جس کے تمام رجال سے شیخین نے اس ترکیب میں حجت نہیں پکڑی، مثلاً جب اس کے کچھ رجال بخاری کے ہوں اور کچھ مسلم کے۔ 22
سب سے مشہور اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ حاکم نے عبد الرحمن بن زید بن اسلم کو اپنی کتاب الضعفاء میں ذکر کر کے لکھا کہ وہ اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتے ہیں، پھر المستدرک میں ان کی ایک حدیث نکال کر "صحیح الاسناد" کہا؛ ابن حجر اسے حاکم کے عجائب میں شمار کرتے ہیں۔ 12 وادعی خطیب بغدادی کی یہ روایت بھی نقل کرتے ہیں کہ محدثین نے حدیثِ طیر کو ان احادیث میں شامل کرنے پر اعتراض کیا جنہیں حاکم نے شیخین کی شرط پر قرار دیا تھا۔ 23
خود حاکم نے بڑھاپے میں حافظے کی کمزوری کا اعتراف کیا: ان سے منقول ہے کہ جب وہ کسی باب پر مذاکرہ کرتے تو بڑی عمر کی وجہ سے انہیں کتاب دیکھنے کی ضرورت پڑتی۔ 16
اس پر لکھی گئی کتابیں
- ذہبی کی "تلخیص المستدرک": ایک اختصار جس میں ذہبی حاکم کے احکام پر تعقب کرتے ہیں۔ یہ حیدرآباد ایڈیشن میں متن کے نیچے چھپی، جس کے مطابق اس میں انہوں نے حاکم کے "تساہل اور تصحیح پر تنبیہ کی"۔ 24 وادعی کے نزدیک تلخیص اصل کتاب کا بدل نہیں ہو سکتی، کیونکہ ذہبی سند کا کچھ حصہ حذف کر دیتے ہیں اور ممکن ہے علت اسی حذف شدہ حصے میں ہو۔ 25
- مقبل بن ہادی وادعی کی "تتبع اوہام الحاکم التی سکت علیہا الذہبی": ان فوائد کا مجموعہ جو وہ معہد الحرم المکی میں تعلیم کے زمانے سے لکھتے رہے، مناوی کی "فیض القدیر"، البانی کی کتابوں اور اپنے شاگردوں کی تحقیقات سے۔ 26 وہ بتاتے ہیں کہ صالح بن قائد وادعی نے وہ احادیث جمع کیں جو حاکم نے مستدرک میں شامل کیں حالانکہ وہ صحیحین یا ان میں سے ایک میں موجود ہیں، اور ان کی تعداد ساڑھے تین سو سے زیادہ ہے۔ 27
عجائب گھر میں موجود ایڈیشن
- حیدرآباد ایڈیشن، مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ کے مطبع سے، پہلی طباعت، تیسری جلد کے سرورق پر سنہ 1341ھ، متن کے نیچے ذہبی کی تلخیص کے ساتھ؛ بعد کے علما کے جلد و صفحہ کے حوالے اسی طباعت کے ہیں۔ 24 28
- دار الحرمین ایڈیشن، قاہرہ 1417ھ/1997ء، ذہبی کے انتقادات اور وادعی کی تتبع کے ساتھ؛ اس کے مصحح لکھتے ہیں کہ یہ کسی مخطوطے پر نہیں بلکہ سابقہ طباعت پر تیار ہوا۔ 29
- دار الکتب العلمیہ ایڈیشن، تحقیق مصطفیٰ عبد القادر عطا، جسے اس کا سرورق پہلا ایڈیشن کہتا ہے جس میں احادیث پر نمبر لگائے گئے اور کئی مخطوطات سے مقابلہ کیا گیا، ذہبی کی تلخیص و میزان، عراقی کی امالی اور مناوی کی "فیض القدیر" کے اقتباسات کے ساتھ۔ 30
- دار التاصیل ایڈیشن، 1435ھ/2014ء، جسے اس کا سرورق پہلی بار قدیم ترین قلمی نسخوں پر محقق اور صحیح ترتیب سے مطبوع بتاتا ہے، حاکم کے احکام کے استقرائی مطالعے اور اسانید کے راویوں کی تعیین کے ساتھ؛ اس کی نویں جلد اطراف اور رواۃ کی فہرستوں پر مشتمل ہے۔ 31
مقام
جو کچھ بھی اس کے بارے میں کہا گیا، المستدرک صحیحین کے بعد اسانید کے سب سے بڑے ذخیروں میں سے ہے۔ وادعی، جو اس کے سخت ترین ناقدین میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ حاکم تصحیح میں متساہل تھے "اور ان کی کتاب سے بے نیازی ممکن نہیں"۔ 5 سعد بن علی زنجانی نے اس کے مصنف کو اپنے زمانے کے حفاظ میں سب سے اچھا مصنف قرار دیا۔ 32 مزید دیکھیے اس سے پیدا ہونے والا سوال، المستدرک میں حاکم کی تصحیح کو کیسے برتا جائے؟، اور شرطِ شیخین۔
تعلقات
- Authored by
- حاکم نیشاپوری
- Related to
- صحيح البخاري· صحيح مسلم· شرطِ شیخین· صحیح ابن حبان (المسند الصحیح علی التقاسیم والانواع)
- Relied on by
- الترغیب والترہیب من الحدیث الشریف
- Criticised by
- التتبع لما فی المستدرک من اوہام· تلخیص المستدرک
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الترغیب والترہیب من الحدیث الشریف· الكتب الستة· اصداف اللؤلؤ: موتیوں کی سیپیاں· جامع الاصول فی احادیث الرسول· مقدمة ابن الصلاح (معرفة أنواع علم الحديث)· نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر· الالزامات· المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج
ماخذ
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 39-40
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — دراسة وتحقيق مصطفى عبد القادر عطا، دار الكتب العلمية، بيروت، الجزء الثالث , p. 3
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 9
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 39
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 5
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 40
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 41
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — دراسة وتحقيق مصطفى عبد القادر عطا، دار الكتب العلمية، بيروت، الجزء الثالث , p. 3, 21, 64, 745
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — دراسة وتحقيق مصطفى عبد القادر عطا، دار الكتب العلمية، بيروت، الجزء الثالث , p. 64, 745-758
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 13
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 10-12
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 12
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 21-24
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 24
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 26
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 8
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 10
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 9-10
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 15
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 13-14
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 16
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 17-18
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 14
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — وفي ذيله تلخيص المستدرك للذهبي، مطبعة مجلس دائرة المعارف النظامية، حيدرآباد الدكن 1341هـ، الجزء الثالث , p. 2
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 37
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 5-6
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 27
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 18
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 4, 38
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — دراسة وتحقيق مصطفى عبد القادر عطا، دار الكتب العلمية، بيروت، الجزء الثالث , p. 1
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — تحقيق ودراسة مركز البحوث وتقنية المعلومات، دار التأصيل، الطبعة الأولى 1435هـ/2014م، المجلد التاسع (الفهارس) , p. 1-2, 6, 262
- المستدرك على الصحيحين للحاكم — مع تلخيص الذهبي وتتبع أوهام الحاكم لمقبل الوادعي، دار الحرمين، القاهرة 1417هـ/1997م، الجزء الأول , p. 7
- تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام — الذهبي
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل)
- وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان — ابن خلكان
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “المستدرک علی الصحیحین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/al-mustadrak-ala-al-sahihayn/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON