الرسالۃ القشیریہ

الفاظ خیالات

مصنف ابو القاسم قشیری

الرسالة القشيرية

ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری (م 465ھ) کا رسالہ جو انہوں نے 437ھ میں «بلادِ اسلام کے صوفیہ کی جماعت کے نام» لکھا، جس میں اپنے زمانے میں طریق کی کمزوری کا شکوہ ہے؛ یہ مشائخ کے اصولی عقیدے سے شروع ہو کر ان کے تراسی مشائخ کے تراجم، ان کی اصطلاحات کی تشریح، توبہ سے محبت، سماع اور کرامات تک مقامات و احوال کے ابواب، اور مریدوں کو وصیت پر ختم ہوتا ہے 1 2 3 4۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة
خطہ
persia-central-asia

وقت میں

1030عیسوی1040عیسوی1050عیسوی1060عیسوی
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة

spirituality-and-sufismethics-and-charactercreed

خلاصہ

«الرسالۃ القشیریہ» وہ رسالہ ہے جو ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری نے 437ھ میں «بلادِ اسلام کے صوفیہ کی جماعت کے نام» لکھا۔ 2 اس کے محقق ابن السبکی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ «مشہور اور بابرکت» ہے، اور ابن حجر ہیتمی سے کہ یہ «صوفیہ کی سب سے عظیم کتاب» ہے، اور کہتے ہیں کہ یہ «قوم کی کتاب» بن گیا، یہاں تک کہ علما کسی کے بارے میں کہتے: «فلاں رسالے کے رجال میں سے ہے»، یعنی قشیری نے اس کا ترجمہ دیا یا اس کا قول نقل کیا۔ 5 اس کے بعض نسخوں کے سرورق پر اس کا ایک نام «الرسالۃ الی الصوفیہ» ہے۔ 5

لکھنے کا سبب

اس کے آغاز میں قشیری اپنے زمانے میں طریق کی حالت بیان کرتے ہیں: اس جماعت کے حقیقی لوگوں میں سے اکثر گزر چکے، «طریق میں فترت آ گئی»، ورع جاتا رہا اور حرص بڑھ گئی، اور کچھ لوگ عبادات کو ہلکا سمجھنے لگے اور دعویٰ کیا کہ وہ بندگی کی بیڑیوں سے آزاد ہو گئے ہیں اور جو کریں یا چھوڑیں اس پر ان پر کوئی ملامت نہیں۔ 6 7 وہ کہتے ہیں کہ وہ «اس طریق پر غیرت کی وجہ سے کہ اس کے اہل کا برا ذکر نہ ہو» انکار سے رکے رہے، کیونکہ ان کے دیار میں اس کے منکرین کی آزمائش سخت تھی؛ مگر جب یہ طول پکڑ گیا تو انہیں دلوں پر اندیشہ ہوا کہ وہ سمجھیں گے کہ یہ سارا معاملہ انہی بنیادوں پر قائم ہے، چنانچہ انہوں نے یہ رسالہ لکھا اور اس میں مشائخ کی سیرتیں، ان کے آداب، اخلاق، عقائد اور مواجید درج کیے۔ 7 محقق اسے تصوف کی اندر سے تنقید سمجھتے ہیں، اس کے مستقل اصولوں میں تبدیلی نہیں۔ 8

مشائخ کا عقیدہ

قشیری رسالے کا آغاز «اصولی مسائل میں اس جماعت کے اعتقاد کے بیان» کی فصل سے کرتے ہیں: اس کے مشائخ نے اپنا معاملہ توحید کے صحیح اصولوں پر قائم کیا، اپنے عقائد کو بدعات سے بچایا، اور اسی پر رہے جس پر انہوں نے سلف اور اہلِ سنت کو پایا، «ایسی توحید جس میں نہ تمثیل ہے نہ تعطیل»۔ 3 وہ جنید کا قول نقل کرتے ہیں: توحید قدیم کو حادث سے الگ کرنا ہے؛ اور جریری کا: جو توحید کے علم کو اس کی کسی دلیل سے نہ سمجھے، غرور کا قدم اسے لے کر پھسل جاتا ہے۔ 3 اس فصل کی نقول میں ابو عثمان مغربی کا یہ قول ہے کہ وہ اللہ کے لیے جہت کے بارے میں کچھ اعتقاد رکھتے تھے، مگر جب بغداد آئے تو وہ ان کے دل سے نکل گیا؛ اور واسطی کا ایک قول جس سے قشیری استدلال کرتے ہیں کہ بندوں کے اکساب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ 9 محقق کی رائے میں اس عقیدے کی بحث کو مقدم کرنا دانستہ ہے، کیونکہ عبادت اور زہد میں اہلِ سنت کے علاوہ بھی شریک ہیں اور اصل اعتبار اصولوں کی صحت کا ہے۔ 10

مشائخ کے تراجم

اس کے بعد قشیری «اس طریق کے مشائخ کے ذکر کا باب» (ص 100) قائم کرتے ہیں، جس میں محقق کے شمار کے مطابق تراسی صوفی اعلام کے تراجم ہیں؛ ان میں سے بہت سوں میں وہ اپنے استاد سلمی کے شریک ہیں اور ان پر اضافہ کرتے ہیں، خاص طور پر اپنے شیوخ اور اپنے طبقے کے شیوخ کے بارے میں۔ 1 11 ترجمہ مختصر ہوتا ہے: نام اور نسبت، صحبت، سالِ وفات، پھر اقوال، عموماً سلمی کے طریق سے اسناد کے ساتھ۔ مثالیں: سری سقطی، حمدون قصار، رویم، عمرو بن عثمان مکی، ابو سعید خراز اور ابراہیم خواص۔ 12 13 14 15 16 17 محقق توجہ دلاتے ہیں کہ انہوں نے غلام خلیل کے ہاتھوں صوفیہ کی آزمائش کا ذکر کیا، ابن یزدانیار کا ترجمہ دیا جن پر سراج نے اللمع میں طعن کیا، اور حلاج کے اقوال بکثرت نقل کیے مگر ان کا ترجمہ نہیں دیا؛ محقق کہتے ہیں کہ رسالے سے ظاہر ہے کہ دقاق اور سلمی حلاج کے معتقد تھے — یہ محقق کی رائے ہے، ایک مختلف فیہ مسئلے پر۔ 1 10

اصطلاحات اور ابواب

پھر قشیری «اس جماعت میں رائج الفاظ» کی تشریح کرتے ہیں (ص 231 سے)، پھر مقامات و احوال کے ابواب، جن میں پہلا توبہ کا باب ہے (ص 295)، پھر مجاہدہ، خلوت و عزلت، تقویٰ، ورع، زہد، خاموشی، خوف، رجا، حزن، بھوک، خشوع، مخالفتِ نفس، حسد، غیبت، قناعت، توکل، شکر، یقین، صبر، مراقبہ، رضا، عبودیت، ارادہ، استقامت، اخلاص، صدق، حیا اور حریت۔ 18 19 بعد کے ابواب میں ذکر (ص 498)، فتوت، فراست، خلق، جود، غیرت، ولایت، دعا اور فقر، تصوف (ص 584)، ادب (ص 593)، صحبت اور توحید، دنیا سے رخصت کے وقت ان کے احوال (ص 625)، معرفت (ص 638)، محبت (ص 648)، شوق، سماع (ص 677)، اولیا کی کرامات کا اثبات (ص 701)، صوفیہ کے خواب (ص 754)، اور آخر میں مریدوں کو وصیت (ص 771) ہیں۔ 20 21 22 23 24 25 26 27 28 4

مصادر

محقق کہتے ہیں کہ قشیری نے رسالے میں تقریباً سو مرفوع روایات بیان کیں، جن میں سے بعض صرف ان کے ہاں ہیں؛ کہ رسالے نے ان کے شیخ ابو علی دقاق کے بہت سے اقوال محفوظ کیے؛ اور سابقہ کتابوں کے نصوص کو ثبت کیا، جیسے ابو نصر سراج کی اللمع، سلمی کی کتابیں خصوصاً طبقات اور تاریخ، خرکوشی کی تہذیب الاسرار، ابن جہضم کی بہجۃ الاسرار اور ابو نعیم کی کتابیں خصوصاً حلیہ۔ 1 مثلاً مشائخ کے باب میں محقق ایک ٹکڑے کی نشاندہی کرتے ہیں جو اللمع میں سراج کے بیان کا «خلاصہ» ہے۔ 11 اپنی اسانید میں قشیری خود سراج سے بھی ایک واسطے سے روایت کرتے ہیں۔ 29

ایڈیشن

یہاں استعمال شدہ ایڈیشن دار المنہاج کا ہے (پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء)، جسے انس محمد عدنان شرفاوی نے تیار کیا، اور جسے «منفرد، محقق اور مخرج ایڈیشن، بارہ قلمی نسخوں پر مبنی، جن میں سے دو مصنف کے خط والے اصل سے منقول ہیں» کہا گیا۔ 30 31 اس کے مقدمے میں قشیری کی سیرت، قلمی نسخوں کا وصف (ص 43 سے) اور تحقیق کا منہج ہے۔ 32 33 اس مجموعے میں اس کا ایک اور نسخہ دار جوامع الکلم قاہرہ کا ہے، زکریا انصاری کی تعلیقات کے ساتھ۔ 34

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Relies on
کتاب اللمع فی التصوف
Mentions
أبو علي الدقاق النيسابوري· ابو عبد الرحمن سلمی· سري السقطي· حمدون القصار· إبراهيم الخواص· رویم بن احمد· ابو سعید خراز· عمرو بن عثمان المكي· مقامات اور احوال
Relied on by
کشف المحجوب
Mentioned in
تلبیس ابلیس

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

طبقات الصوفیہ (سلمی)· کتاب اللمع فی التصوف· تلبیس ابلیس· کشف المحجوب· ابو یزید بسطامی کے شطحیات، جیسے «سبحانی»، کو کیسے سمجھا جائے؟· التصوف· أبو يزيد البسطامي· مقامات اور احوال

ماخذ

  1. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 40
  2. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 80
  3. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 84
  4. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 771
  5. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 38
  6. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 81
  7. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 82
  8. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 39
  9. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 90
  10. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 41
  11. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 100
  12. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 112
  13. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 152
  14. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 163
  15. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 168
  16. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 176
  17. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 183
  18. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 231
  19. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 295
  20. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 498
  21. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 584
  22. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 593
  23. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 625
  24. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 638
  25. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 648
  26. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 677
  27. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 701
  28. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 754
  29. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 114
  30. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 3
  31. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 4
  32. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 43
  33. ابو القاسم قشیری، الرسالۃ القشیریہ، اعتنا انس محمد عدنان الشرفاوی (دار المنہاج، پہلا ایڈیشن، دوسرا اجرا، 1438ھ/2017ء) , p. 52
  34. الرسالۃ القشیریہ، شیخ الاسلام زکریا انصاری کی تعلیقات کے ساتھ (دار جوامع الکلم، قاہرہ) , p. 1
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “الرسالۃ القشیریہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/al-risala-al-qushayriyya/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

الفاظ

قرآن، حدیث، شاعری، اور مسلم اقوام کی زبانیں اور رسم الخط۔
متعلقہ

طبقات الصوفیہ (سلمی)

ابو عبد الرحمن سلمی (م 412ھ) کی صوفی مشائخ کے تراجم پر کتاب، جس میں انہوں نے پانچ طبقے، ہر طبقے میں بیس شیخ اور ان کے کچھ اقوال ذکر کرنے کا التزام کیا؛ موجودہ متن میں ایک سو تین تراجم ہیں۔ انہوں نے اسے چوتھی صدی کے آخر میں «تاریخ الصوفیہ» کے بعد لکھا، اور ابو نعیم، خطیب بغدادی، قشیری اور بعد والوں نے اس سے استفادہ کیا ۔