غیر مسلموں کے کمزور بچوں کو عطیہ دینے کا حکم

مصنف ابن باز عبد العزيز بن عبد الله

حكم التبرع لأطفال الكفار الضعفاء

ایک قاری کا ابن باز کے مجلہ الدعوۃ میں شائع شدہ سابقہ فتوے پر اعتراض، جس میں انہوں نے دنیا کے بچوں کو قومیت اور مذہب سے قطع نظر عطیہ دینے کی اجازت دی تھی بشرطیکہ ان کی ریاست دشمن نہ ہو؛ سائل کا کہنا تھا کہ یہ عطیہ اسلام کو نقصان دیتا ہے کیونکہ رقم کے بچوں تک پہنچنے کی ضمانت نہیں اور یہ مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والی غیر مسلم ریاستوں کے اخراجات بچاتا ہے۔ ابن باز نے جواب دیا کہ مراد وہ کمزور لوگ ہیں جن سے بھلائی کی جاتی ہے، جیسے جنگوں کے نتیجے میں جمع کیے گئے بچے، جب امداد کی تقسیم کوئی معتبر شخص کرے، ایسے بے گناہ بچوں کو بچانے کے لیے جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ لوگوں کے نہیں بلکہ مستأمن، معاہد یا صلح والے لوگوں کے بچے ہیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ نبی نے غیر محارب کافروں کو دینے کی اجازت دی اور اسما بنت ابی بکر کو اپنی کافر ماں کو اپنے مال سے دینے کی اجازت دی، اور سورہ ممتحنہ کی آیت کا حوالہ دیا کہ اللہ ان لوگوں سے بھلائی سے منع نہیں کرتا جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ نہ کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں، عورتوں اور دیگر کمزوروں سے، چاہے وہ مشرک ہوں، جب وہ مستأمن یا معاہد ہوں یا کمزور پناہ گزین ہوں، بھلائی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن کمزور مسلمان ان سے زیادہ حق دار ہیں؛ اگر دونوں کے لیے گنجائش ہو تو کوئی حرج نہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ
تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

ایک قاری کا اس سابقہ فتوے پر اعتراض جس میں ابن باز نے دنیا کے بچوں کو قومیت اور مذہب سے قطع نظر عطیہ دینے کی اجازت دی تھی، جس میں ابن باز نے جواب دیا کہ مراد مستأمن، معاہد اور صلح والے لوگوں کے کمزور بچے ہیں نہ کہ محاربین کے بچے، اور جب امداد کوئی معتبر شخص سنبھالے تو ان سے بھلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں، گو کمزور مسلمان زیادہ حق دار ہیں۔ 1

سوال

سائل نے بتایا کہ اس نے مجلہ الدعوۃ میں ابن باز کا فتویٰ پڑھا جس میں دنیا کے بچوں کو قومیت اور مذہب سے قطع نظر عطیہ دینے کی اجازت دی گئی بشرطیکہ ان کی ریاست دشمن نہ ہو، اور اس کی رائے میں یہ عطیہ عمومی طور پر اسلام کو نقصان دیتا ہے، کیونکہ اس رقم کے بچوں پر خرچ ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، اور اگر خرچ بھی ہو تو یہ غیر مسلم ریاستوں کے اخراجات بچاتا ہے؛ اس نے دعویٰ کیا کہ ہر غیر مسلم ریاست مسلم ریاستوں سے دشمنی رکھتی ہے اور ہتھیار اور فساد کے ذرائع بناتی ہے۔ 1

جواب

ابن باز نے جواب دیا کہ مراد وہ کمزور لوگ ہیں جن سے بھلائی کی جاتی ہے، جیسے جنگوں وغیرہ کے نتیجے میں جمع کیے گئے بچے، جن سے لوگ بھلائی کرتے ہیں جب امداد کی تقسیم کوئی معتبر شخص کرے، ایسے بے گناہ بچوں کو بچانے کے لیے جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ لوگوں کے نہیں بلکہ مستأمن، معاہد، صلح والے یا ایسے ہی لوگوں کے بچے ہیں۔ 1 انہوں نے استدلال کیا کہ نبی نے غیر محارب کافروں کو دینے کی اجازت دی اور اسما کو اپنی کافر ماں کو اپنے مال سے دینے کی اجازت دی، اور الممتحنہ: 8 میں اللہ کے اس فرمان کا حوالہ دیا کہ اللہ ان لوگوں سے بھلائی اور انصاف سے منع نہیں کرتا جنہوں نے دین کے معاملے میں مسلمانوں سے جنگ نہ کی اور نہ انہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ 1 انہوں نے کہا کہ بچوں، عورتوں اور دیگر کمزوروں سے، چاہے وہ مشرک ہوں، جب وہ مستأمن یا معاہد ہوں یا کسی ملک میں کمزور پناہ گزین ہوں، بھلائی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن کمزور مسلمان ان سے زیادہ حق دار ہیں؛ اگر دونوں گروہوں کے لیے گنجائش ہو تو کوئی حرج نہیں۔ 1

اس ریکارڈ کے بارے میں

یہ جواب binbaz.org.sa پر، جو ابن باز کے ورثے کی سرکاری ویب سائٹ ہے، نمبر 4100 کے ساتھ صدقۂ تطوع کے باب میں شائع ہوا، صفحے پر کوئی تاریخ نہیں؛ یہ مجلہ الدعوۃ میں شائع شدہ سابقہ فتوے پر اعتراض کا جواب ہے۔ 1 میوزیم اس متن کو جاری کرنے والے عالم یا ادارے کی طرف منسوب ایک تاریخی دستاویز کے طور پر درج کرتا ہے، اور خود کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

About
الصدقة· البر· تطوع (نفل اور نفلی عبادات و نیکیاں)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الخلق الحسن· الأربعون 27 — البر حسن الخلق / استفت قلبك· مسلم 90 — من الكبائر شتم الرجل والديه· مسلم 2552 — إن من أبر البر صلة الرجل أهل ود أبيه· مسلم 2553 — البر حسن الخلق والإثم ما حاك في صدرك· مسلم 2626 — لا تحقرن من المعروف شيئاً· بستان الامل (پروگرام)· جمعہ، ہفتہ یا اتوار کا اکیلا روزہ

ماخذ

  1. موقع ابن باز , fatwa 4100

اصل صفحہ

اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “غیر مسلموں کے کمزور بچوں کو عطیہ دینے کا حکم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/fatwa-binbaz-donating-to-non-muslim-children-in-need/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

الفاظ

قرآن، حدیث، شاعری، اور مسلم اقوام کی زبانیں اور رسم الخط۔
متعلقہ

الخلق الحسن

Treating people with what pleases them in word and deed while withholding harm — the third clause of 'fear God wherever you are': 'and keep company with people in good character' — which together with taqwa combines God's rights and His servants' rights, a combination Ibn Rajab calls rare, sustained only by the most complete of prophets and the truthful; its summit, as God describes the muttaqun, is giving freely and bearing hurt — 'who spend in ease and hardship, who restrain their anger and pardon people' — and revelation reports 'the most complete of believers in faith are the best of them in character', that it is the heaviest thing laid in the scales, raising its owner to the rank of the one fasting and praying, the best gift given a Muslim and what makes them most beloved to God and nearest to the Prophet in station; among its definitions: Ahmad's 'that you not become angry or fierce' and, in another report, 'that you bear what comes from people', Ishaq ibn Rahuya's 'a cheerful face and not becoming angry', and some scholars' 'restraining anger for God, showing openness and cheer except to the innovator and the flagrant, pardoning the erring except for discipline or establishing a hadd, and withholding harm from every Muslim and covenanted person except to change an evil or take what is due for the wronged without transgression'.