ایک نظر میں
- جائزہ
- تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
مسجد کے قالینوں سے مائع کیمیائی صفائی کے مواد کے ذریعے نجاست دور کرنے کے بارے میں سوال، جس میں مصر کے دار الافتاء نے کہا کہ یہ کافی ہے اور پانی شرط نہیں۔ 1
سوال
سائل نے پوچھا کہ کیا مسجد کے قالین پر لگی نجاست جدید مائع کیمیائی صفائی کے مواد سے دور کرنے سے پاکی حاصل ہو جاتی ہے، یا صرف پانی ہی کافی ہے؟ 1
جواب
دار الافتاء نے جواب دیا کہ نجاست کی جگہ کو پاک کرنا پانی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر پاک اور زائل کرنے والے مائع سے حاصل ہو جاتا ہے۔ 1 اس نے کہا کہ یہ مواد اصلاً خود پاک اور نجاست کو دور کرنے والے ہیں، جیسا کہ ماہرین بتاتے ہیں اور مشاہدہ گواہ ہے، اس لیے ان سے قالین پاک کرنا کافی ہے۔ 1 اس نے اس اصول پر بنیاد رکھی کہ اشیا میں اصل پاکی ہے، اور حطاب کی شرح مختصر خلیل اور ابن حجر ہیتمی کی تحفۃ المحتاج سے نقل کیا۔ 1
اس ریکارڈ کے بارے میں
دار الافتاء مصر نے یہ فتویٰ اپنی ویب سائٹ پر نمبر 9018، 27 جولائی 2026 کی تاریخ کے ساتھ، مفتیِ اعظم نظیر محمد عیاد کے فتاویٰ میں شائع کیا۔ 1 میوزیم اس متن کو جاری کرنے والے عالم یا ادارے کی طرف منسوب ایک تاریخی دستاویز کے طور پر درج کرتا ہے، اور خود کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
زینتی مچھلیوں کے حوض کا پانی اور ان کا فضلہ· منی پاک ہے یا ناپاک؟· تیمم· الأربعون 23 — الطهور شطر الإيمان· مسلم 223 — الطهور شطر الإيمان· مسلم 246 — إن أمتي يأتون يوم القيامة غراً محجلين من أثر الوضوء· الموطأ 32 — عبد الله بن زيد يصف وضوء النبي· الموطأ 37 — عمر يستنجي بالماء
ماخذ
- مصر کا دار الافتاء (dar-alifta.org) , fatwa 9018
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مسجد کے قالینوں کو کیمیائی مواد سے پاک کرنا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/fatwa-dar-alifta-cleaning-mosque-carpets-with-chemicals/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.