السَّماد

السَّماد

Simad is what the land is manured with: material such as earth or animal dung cast at the roots of crops and vegetables so that the plant thrives; the technical sense does not depart from the lexical one. 1 The jurists differ on whether fertilizer is pure or impure according to its source. Droppings of animals whose flesh is not eaten, other than birds, are impure by consensus; the droppings of birds of prey are impure for the majority and pure for Abu Hanifa and Abu Yusuf. The Malikis, the Hanbalis and Zufar hold the droppings of eaten animals pure, while the Shafi'i preferred view holds the droppings of all animals impure. 1 2 Beyond purity, the entry also covers the use of impure manure on crops, the sale of fertilizer, and conditions on it in share-cropping and irrigation contracts. 2 3

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

agriculture-and-botanyhalal-and-haram

خلاصہ

سماد وہ چیز ہے جس سے زمین کو کھاد دی جائے، یعنی مٹی یا جانوروں کا گوبر وغیرہ فصلوں اور سبزیوں کی جڑوں میں ڈالا جائے تاکہ پودا بہتر بڑھے۔ اصطلاحی معنی لغوی معنی سے الگ نہیں۔ 1

پاکی اور ناپاکی

جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا، ان کی مینگنی (پرندوں کے علاوہ) بالاتفاق ناپاک ہے۔ شکاری پرندوں کی بیٹ جمہور کے نزدیک ناپاک اور ابو حنیفہ و ابو یوسف کے نزدیک پاک ہے۔ 1 مالکیہ، حنابلہ اور زفر کے نزدیک کھائے جانے والے جانوروں کی گندگی پاک ہے، جب کہ شافعیہ کے راجح قول میں تمام جانوروں کی گندگی ناپاک ہے۔ 1 2

نجس چیزوں سے کھاد دینا

مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک نجس سے سیراب کی گئی فصل کا ظاہر دھویا جائے گا، اور شافعیہ کتے اور خنزیر کی گندگی کا استعمال بالکل جائز نہیں مانتے۔ حنفیہ کے نزدیک ایسی فصل نہ حرام ہے نہ مکروہ۔ حنابلہ کا ظاہر مذہب حرام ہونے کا ہے۔ 2 3

سماد کی فروخت

حنفیہ کے نزدیک اس کی بیع جائز ہے، البتہ خالص انسانی فضلہ بیچنا مکروہ ہے۔ مالکیہ اور حنابلہ پاک کھاد کی بیع جائز مانتے ہیں؛ حنابلہ نجس کھاد کی بیع حرام کہتے ہیں اور شافعیہ کے نزدیک کھاد کی بیع کسی حال میں جائز نہیں۔ 2 3

مزارعت اور مساقات میں سماد

جمہور کے نزدیک ایسی شرط جو کاشت کے کام میں سے نہ ہو اور مالک کی طرف سے لگائی جائے، مزارعت کو فاسد کر دیتی ہے، اور زمین میں گوبر ڈلوانے کی شرط اسی میں آتی ہے۔ حنفیہ کے نزدیک ہر وہ شرط جس سے مدت گزرنے کے بعد زمین کا مالک فائدہ اٹھائے، معاملے کو فاسد کر دیتی ہے۔ 3

یہ بحث کہاں ملتی ہے

نجاست کے تفصیلی اقوال کے لیے «روث»، «عذرہ»، «زبل» اور «نجاسہ» کے مداخل دیکھے جائیں۔ 2

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الأكل· الٰہی منہج: حکم اور ممانعت· تحريم الغلول· هادي· هَدْم· هَدْي· هَلاك· هِمْيان

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9809
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9810
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.9811
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “السَّماد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/simad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

الأكل

Eating is part of the faith: forbidden food is warned against, and the forbidden foods are known from the text and the Sunna. Eating has rulings that vary by need: obligatory up to what keeps life, required for prayer and fasting, recommended for earning and learning, permitted up to satiety, and forbidden beyond it. It is recommended for the one who sacrifices to eat from his sacrifice; the jurists differ on a sacrifice that was vowed. For expiations the Shafi'is and Hanbalis require transfer of ownership, while the Hanafis accept enabling the needy to eat. Manners include saying the basmala, eating with the right hand and from what is nearest, not blaming food, and not reclining while eating. A person in necessity may eat the forbidden only enough to keep alive. Eating from another's orchard or field without leave is allowed only under conditions.