ترکہ (میت کا مال و حقوق)

التركة

The estate is what a deceased person leaves of property and rights; for the Hanafis it is property alone. It passes to the heirs on the owner's death, and the rights attached to it are paid in order: the burial, the debts, the bequest, and then the division among heirs. The schools differ on its passing when debts take the whole estate, on the dying man's gifts and on undoing a division. 1 2 3 4 5 6 7

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

family-marriage-kinshipethics-and-character

خلاصہ

ترکہ وہ مال اور حقوق ہیں جو میت پیچھے چھوڑے۔ موت کے بعد یہ ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے، اور اس سے متعلق حقوق کی ترتیب یہ ہے: تجہیز و تکفین، پھر قرض، پھر وصیت، پھر ورثاء میں تقسیم۔ 1 4

انتقال کا وقت

اگر ترکہ پر قرض متعلق نہ ہو تو وفات کے ساتھ ہی منتقل ہو جاتا ہے۔ قرض ہو تو شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک وفات کے ساتھ منتقل ہوتا ہے، مالکیہ کے نزدیک قرض ادا ہونے تک میت کی ملک میں رہتا ہے، جبکہ حنفیہ کے نزدیک اگر قرض پورے ترکے پر محیط ہو تو میت کی ملک میں، ورنہ منتقل ہوتا ہے۔ 3 8

مرض الموت

مرض الموت وہ مرض ہے جس میں موت کا خوف غالب ہو اور مریض اپنے کام نہ کر سکے، اور وہ اس میں ایک سال گزرنے سے پہلے مر جائے۔ مریض کے تبرعات میں تیسرے حصے سے زیادہ پر پابندی ورثاء کے حق کی بنا پر ہے۔ 9 10

ترتیب حقوق اور وصیت

تجہیز و تکفین پہلے ہے، پھر قرض، پھر وصیت (جو تہائی سے نافذ ہوتی ہے، اصل مال سے نہیں)، پھر ورثاء کے حصے۔ 4 5

تقسیم اور تصرف

ترکہ قرض کی ادائیگی کے بعد تقسیم ہوتا ہے۔ قرض ظاہر ہونے پر حنفیہ اور مالکیہ تقسیم کو فسخ کرتے ہیں، شافعیہ اسے تمیز سمجھتے ہیں، اور حنابلہ قرض کی وجہ سے تقسیم باطل نہیں کرتے۔ 6 11 جس ترکے کو قرض گھیر لے اس میں ورثاء کا تصرف، اکثر فقہاء کے نزدیک، قرض کی ادائیگی، قرض خواہوں کی رضا یا قاضی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔ 7

بلا وارث ترکہ

جس ترکے کا کوئی وارث نہ ہو یا ورثاء سب کچھ نہ لیں، اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک بیت المال کو فیء کے طور پر ملتا ہے، جبکہ مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک میراث کے طور پر۔ 7

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

خوشی اور مسرت (الفرح والسرور)· عنت (گناہ کا خوف)· الشَّهْوة· الشَّكّ· غضِّ بصر (نگاہ نیچی رکھنا)· هَدِيَّة· هَجْر· هِبَة

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4977
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4978
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4983
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4988
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4994
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4995
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4997
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4984
  9. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4986
  10. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4987
  11. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4996
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “ترکہ (میت کا مال و حقوق)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/tarika-estate/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

خوشی اور مسرت (الفرح والسرور)

شیخ عمر عبدالکافی خوشی اور مسرت کو بیان کرتے ہیں: وہ مسرت جو غم سے خالی ہو، اور وہ مذموم فرح جو فخر اور اترانے سے جڑا ہو، ان کے نزدیک ایمان خوشی کا سب سے بڑا سبب ہے، اور خوشی تقوی اور رضا سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ سفر یا مال سے، اور چہرے کی بشاشت نبوی اخلاق ہے۔