ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين · العصر الأموي · العصر العباسي المبكر · عصر تفكك الخلافة العباسية · عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده · إمبراطوريات البارود
- خطہ
- arabia · levant-iraq · egypt-nile · andalus-europe · persia-central-asia · anatolia-balkans · south-asia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
خزانچی (ہزندار، یعنی خزانے کا دار) وہ اہلکار تھا جو سرکاری خزانے یا حاکم کے ذاتی خزانے کو محفوظ رکھتا، اس کا اندراج کرتا اور اس میں سے ادائیگی کرتا تھا۔ ریاستوں میں یہ منصب مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا: حازن، صاحبِ بیت المال، خازن اور دیگر۔ عثمانی دربار میں اندرون کے خزانچی سربراہ (حزیندار باشی) اندرونی خزانوں کے نگران تھے۔ 1
نام اور ابتدائی معنی
لفظ «حازن» (جمع: حزَنہ یا حُزّان) قرآن مجید میں جہنم اور جنت کے محافظوں کے لیے آیا ہے، اور مدخل اسے اس لقب کی اصل بتاتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں دوسرے نام تھے: حازنُ المال، حزیندار، حزانہ دار، صاحبِ بیت المال، ناظرِ بیت المال اور رئیسِ بیت المال۔ 1
صدرِ اسلام
مدخل بتاتا ہے کہ نبی کریم خود کو ایسا خازن کہتے تھے جو جمع شدہ عامۃ الناس کا مال محفوظ رکھتا اور جہاں ضرورت ہو وہاں خرچ کرتا ہے۔ نبی کے زمانے میں خزانے کی نقدی آپ کے گھر میں اور فصل کی پیداوار مدینہ کی مسجد کے بالائی کمرے میں رکھی جاتی تھی۔ 1
عمر، بلال بن رباح رضی اللہ عنہ، ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بیت المال کا خازن مقرر کیا گیا، لقب صاحبِ بیت المال تھا، اور خزانے سے ادائیگیاں ان کی نگرانی میں ہوتی تھیں۔ ابوبکر کے زمانے میں عمر، ابو عبیدہ اور معیقیب بن ابی فاطمہ بیت المال کے عہدیدار تھے۔ سنہ 16ھ (637ء) میں جابیہ کے اجتماع میں عمر نے کہا کہ اللہ نے انہیں بیت المال کا خازن اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے۔ وہ قضا کا منصب انہی کو دیتے جنہیں بیت المال کی ذمہ داری بھی سونپتے تھے: عبداللہ بن مسعود کوفہ میں قاضی بھی تھے اور صاحبِ بیت المال بھی۔ علی نے بیت المال پر «حازن» کے لقب والا ایک عہدیدار مقرر کیا۔ 1
اموی اور ابتدائی عباسی
خلفائے راشدین اور امویوں کے دور میں صرف عامۃ المسلمین کا بیت المال تھا۔ خلیفہ کا ذاتی خزانہ (بیت المال الخاصّہ) منصور (754–775ء) کے دور میں قائم ہوا۔ اس کے سربراہ کو «حازنِ خاص» کہا جاتا تھا، پھر «حازنِ بیت المال الخاص»، اور بعد میں «صاحبِ بیت المال الخاص»۔ 1
عباسی بیت المال کے دفتر میں خزانچی کے ساتھ ناظر، مشرف، رئیسِ بیت المال، صاحبِ بیت المال، مباشر اور مستوفی بھی تھے۔ لفظ «حازن» رائج رہا۔ جب سنہ 296ھ (908ء) میں مقتدر کو معزول کیا گیا اور ابن المعتز کو الراضی کے لقب سے خلیفہ مانا گیا، تو مقتدر کے ساتھ رہنے والے مونس کا لقب حازن تھا۔ خلیفہ کے خدام اور چھوٹے عہدیداروں کو بھی کبھی حُزّان کہا جاتا: بستر کی حفاظت کرنے والے «حُزّانُ الفِرش»، اور چراغوں کا خیال رکھنے والے «حازنُ الشمع» کہلاتے تھے۔ عباسیوں کے ہاں «صاحبِ المخزن» کا لفظ بھی استعمال ہوا۔ سنہ 515ھ (1121ء) میں صاحبِ المخزن ابن طلحہ نے سلطان محمد تبَر کے دو بیٹوں کو خلیفہ المسترشد کے سامنے خلعت پہنائی۔ 1
بویہی اور عراقی سلجوقی
بویہیوں کے ہاں ذخیروں اور سامان کے نگران کو بھی حازن کہا جاتا تھا، اور جنگ کے بعد حاصل ہونے والے مال غنیمت کی گنتی بھی اس کے فرائض میں شامل تھی۔ اس دور میں خزانچی اپنا وظیفہ اقطاع سے لیتا تھا۔ عضد الدولہ اپنے عہدیداروں کو پیشگی ادائیگی کرتا، اپنے خزانچی کو ماہانہ تنخواہ کے ساتھ سردی اور گرمی کا لباس دیتا، اور اپنے گھر کے خادموں کے لیے وظیفہ مقرر کرتا تھا۔ بعد میں شیخ عبدالملک ابو منصور بن یوسف نے بغداد میں عضدی ہسپتال کی مرمت کرائی اور اس میں اٹھائیس طبیبوں کے ساتھ تین خزانچی مقرر کیے۔ 1
سامانی، قراخانی اور غزنوی
سامانی ریاست میں بھی خزانچی تھا۔ قراخانیوں کے ہاں خزانچیوں کو «آغیجی» کہا جاتا تھا (آغ یعنی ریشمی کپڑا)، اور اس منصب کے لیے نوجوان غلاموں میں سے وہ چنے جاتے جو لکھنا اور حساب جانتے تھے۔ آغیجی کے ماتحت حساب رکھنے والوں کو «بیتیکچی» یعنی کاتب کہا جاتا تھا۔ خزانچی کا سب سے اہم فرض یہ تھا کہ حاکم کے فوجیوں اور مستحقین کو عطیات دینے کا حکم بلا تاخیر پورا کرے، کیونکہ تاخیر ہونے پر خادم منہ موڑ لیتے اور امیر اعتماد کھو دیتے۔ 1
غزنوی ریاست میں یہ عہدیدار حازن یا حزیندار کہلاتا تھا۔ سلطان کو ملنے والے اور اس کے دیے ہوئے تحفے خزانچی رجسٹر میں درج کرتے تھے۔ جب سلطان مسعود تخت پر بیٹھا اور اپنے بھائی محمد کے تقسیم کیے ہوئے جلوس انعامات واپس لینا چاہا، تو خزانچیوں نے درج کر رکھا تھا کہ کس کو کیا ملا۔ خزانچی کے ماتحت خزانے کے نگران (مشرفانِ خزانہ)، خزانے کے کاتب، شاگرد اور قلی کام کرتے تھے۔ صوبوں میں بھی خزانچی بھیجے جاتے تھے، اور بڑے عہدیداروں اور ولی عہدوں کے اپنے خزانچی ہوتے تھے۔ 1
عظیم سلجوقی اور عراقی سلجوقی
محمد تبَر کے زمانے میں سلطان کے خزانے کی حفاظت صابور الخادم الخازن کرتا تھا۔ مورخ اور وزیر انوشیروان بن خالد اور ابو احمد القزوینی بھی اس وقت خزانے کے ذمہ دار تھے۔ عظیم سلجوقی ریاست میں خزانچی کے لیے قابل اعتماد اور پرہیزگار لوگ چنے جاتے تھے۔ خزانچی کی وفات کی صورت میں اس کے عہدیدار خزانہ سلطان کے معائنے کے لیے پیش کرتے۔ خزانچی سلطان کی اجازت سے اس کے پاس امانت رکھی گئی قیمتی چیزیں خزانے میں محفوظ کر سکتا تھا۔ اس کے ساتھ خزانے کا کتخدا، کاتب، خزانے کے عہدیدار اور خزانے کا شاہنہ (نگران) ہوتا تھا۔ بڑے لوگوں کے بھی خزانچی ہوتے تھے، جن میں مستوفی شرف الملک کے خزانچی کا ذکر ملتا ہے۔ 1
انا طولیہ کے سلجوقی، ایوبی اور اتابک
انا طولیہ کے سلجوقیوں کے ہاں یہ عہدیدار «حزینہ دار»، «حزینہ دار خاص»، «حزینہ دار حضرت»، «حازن» اور «حزیندار» کہلاتا تھا۔ شہزادوں اور سلاطین کی بیگمات کے بھی اپنے خزانچی ہوتے تھے۔ خطوط میں خزانچی کو «ملک الخزّان» کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ سنہ 603ھ (1207ء) میں انطالیہ فتح ہونے کے بعد سلطان کے خزانچی نے ان تاجروں کا نقصان اندازے سے طے کر کے ادا کیا جن کا مال لوٹ لیا گیا تھا۔ مصر میں صلاح الدین کا خزانہ پہلے اس کے والد نجم الدین ایوب کے پاس اور پھر اس کے قریبی ساتھی صفی بن کابس کے پاس رہا۔ ایوبی دور میں دیوان المال کا حازن نقدی اور جنسی دونوں طرح کا ٹیکس وصول کرتا، اسے ریاست کے گوداموں میں رکھتا، اور جو ادا نہ کرتے ان سے مطالبہ کرتا تھا۔ 1
مملوک
مملوک ریاست میں حزیندار سلطان کے نقد، جواہرات اور قیمتی کپڑوں کی حفاظت اور ادائیگی کا ذمہ دار تھا، اور مقررہ تقریبات کے دنوں میں تحفے بانٹتا تھا۔ بیبرس کے دور میں خزانچی سلطان کے اولین غلاموں یعنی حاسکیہ میں سے چنے جاتے تھے۔ ابتدا میں خزانچی طبلخانہ کے امیروں میں سے اور بعد میں سو کے امیروں میں سے مقرر ہوتا۔ سلطان کے دربار کے پچیس فوجی عہدوں کی فہرست میں خزانچی کا درجہ بارہواں تھا۔ وہ بعض اوقات خزانے کی حفاظت اور خرچ کے ساتھ ٹیکس بھی جمع کرتا تھا۔ بحری دور میں ناظرِ خاص، جو بلند اختیار کا سول عہدیدار تھا، خزانچی کو دوسرے درجے پر لے گیا اور مالی امور میں اس کی نگرانی کرتا تھا۔ فرائض تین عہدوں میں بٹ گئے: حزیندار الصنف، جو سلطان کے عمدہ کپڑے، سنہری زینیں اور پوستین سنبھالتا اور ناظرِ خاص کے ساتھ کام کرتا تھا؛ حزیندار العین، جو سلطان کے جواہرات اور قیمتی پتھر محفوظ رکھتا تھا، اور یہ عہدہ کسی خواجہ سرا کو دیا جاتا کیونکہ ایسی چیزیں حرم میں رکھی جاتی تھیں؛ اور حزیندار الکیس، جو سلطان کی پریڈ کے دنوں میں غریبوں میں تقسیم ہونے والی خیرات اور سلطان کے مہمانوں کے تحائف کا ذمہ دار تھا۔ خزانچیوں کے سربراہ کو امیر الحزیندار یا حزیندار کبیر کہا جاتا تھا۔ دمشق میں نائب السلطنہ نے خزانے میں رکھے خلعتوں اور تحفوں کی دیکھ بھال کے لیے چار خواجہ سرا امیر مقرر کیے۔ 1
منگول
منگول دور کے آغاز میں خزانے کا انتظام درہم برہم تھا۔ امیر اور حاکم کے قریبی لوگ اس میں سے جیسا چاہتے خرچ کرتے، اور حسابی کاتب خزانچیوں سے باقاعدہ حساب نہیں لے سکتے تھے۔ محمود غازان خان (1295–1304ء) نے یہ حالت درست کی۔ اس نے خزانے کو دو حصوں میں بانٹا: ایک میں نقدی، سونا اور سونے کی چیزیں، اور دوسرے میں باقی قیمتی اشیا اور خلعتیں رکھی جاتیں۔ ہر خزانے پر ایک قابلِ اعتماد حاجسرای اور حزیندار مقرر کیا۔ دوسرے خزانچیوں اور خادموں کو ان صندوقوں کے گرد گھومنے کی اجازت نہ تھی جن میں چیزیں رکھی جاتی تھیں۔ وزیر ہر چھ ماہ بعد خزانے اور اس کے عہدیداروں کا معائنہ کرتے، اور خزانے میں رکھا ہر لباس خزانچی کی بنائی ہوئی مہر سے سیل کیا جاتا تاکہ اسے بدلا نہ جا سکے۔ ولایات سے خزانے کے لیے جمع ہونے والے ہر سو دینار میں سے دو دینار خزانچی کی تنخواہ کے طور پر ملتے تھے، تاکہ عہدیداروں کو خزانے میں سے کچھ لینے کا لالچ نہ ہو۔ 1
تیموری وغیرہ
تیموری، دہلی سلطنت اور بابری ریاستوں میں حازن، حزاندار اور حزیندار کے الفاظ استعمال ہوئے، اور اندلس کی اموی ریاست میں «حازن المال» کہا گیا۔ 1
عثمانی
عثمانی ریاست میں حزیندار کا لفظ ہر خزانے کے عہدیدار کے لیے استعمال ہوتا تھا، سرکاری ہو یا نجی۔ اس کا اطلاق بڑے عہدیداروں کی ذاتی دولت کا انتظام سنبھالنے والے کچھ لوگوں اور اندرون کے بعض خادموں پر بھی ہوتا تھا۔ اندرون کے خزانے کے وارڈ کا سربراہ حزیندار باشی تھا، جو اندرونی دربار کے ان آغاؤں میں سے تھا جنہیں فاتح کے قانون نامے میں «صاحبِ عرض» کہا گیا، اور بعض اوقات «سرحازن» بھی کہلاتا تھا۔ وہ محل کے سب سے بااختیار عہدیداروں میں سے تھا، اور باب ہمایوں اور خلعتوں کے خزانوں کا ذمہ دار تھا۔ عام طور پر اسے حاص اوداليلر میں سے چنا جاتا، وہ سلطان کی پگڑی اور جائے نماز سنبھالتا، اور نماز سے پہلے جائے نماز کا معائنہ کر کے دیکھتا کہ سلطان کو کوئی نقصان پہنچانے والی چیز تو نہیں۔ ترقی کی صورت میں وہ قاپی آغاسی بن جاتا۔ کبھی وہ لڑکیوں کے آغا کی جگہ بھی کام کرتا اور حرم کے آغاؤں کے اخراجات ادا کرتا تھا۔ بیرونی خزانے (بیرون) کا بھی ایک حزیندار باشی ہوتا تھا، جو خلعتوں، پوستینوں اور دفتری سامان کی خریداری کی نگرانی کرتا اور اسے محفوظ رکھتا تھا۔ سولہویں صدی میں بیرون کے سربراہ کے ماتحت آٹھ حزیندار تھے؛ سترہویں صدی کے آغاز میں چار حزیندار، چار وزّان اور ایک مہتر خاص تھے، اور ان کے علاوہ بغیر تنخواہ کے دوسرے لوگ بھی تھے۔ 1
عثمانی محل میں دوسرے عہدیداروں کو بھی حزیندار کہا جاتا تھا۔ حرم کے اخراجات کے ذمہ دار سیاہ فام خواجہ سرا کو «حزیندار آغا» کہا جاتا، اور جو کنیز سلطان کو پہناتی، اتارتی، کھانا تیار کراتی اور اس کے کمرے کے دروازے پر پہرہ دیتی، اسے «حزیندار اوستا» کہا جاتا تھا۔ 1
ابھی تک شامل نہیں
اس صفحے کے لیے مدخل کی کتابیات نہیں پڑھی گئیں۔ مدخل میں جدید مالیات میں خزانے کے منصب کے بعد کے جانشین شامل نہیں۔ مدخل میں مذکور وہ عہدیدار جو یہاں درج پانچ کے علاوہ ہیں، ان کے عجائب گھر میں اب تک شخص ریکارڈ نہیں، اس لیے وہ یہاں نہیں لکھے گئے۔
حوالہ جات
- ترکی اسلامی انسائیکلوپیڈیا (TDV)، مادہ «حزیندار»، جلد 17، ایردوغان مرجیل، صفحات 141–143، استنبول 1998۔ 1
یہ پیشہ کس نے اختیار کیا
بغیر تاریخ کے
- ابو عبیدہ بن الجراح عارضی منصب The entry names him among the Companions appointed treasurer (sahib bayt al-mal), with payments from the treasury carried out by him. The entry gives no dates for the post.
- بلال بن رباح عارضی منصب The entry names him among the Companions appointed treasurer (sahib bayt al-mal). The entry gives no dates for the post.
- عبد الله بن مسعود عارضی منصب The entry says he held the judgeship and the charge of the public treasury in Kufa together under Umar.
- عمر بن الخطاب عارضی منصب The entry reports that at the Jabiya assembly in 16 AH he said God had made him keeper and distributor of the treasury, and that he appointed treasurers among the Companions.
- معاذ بن جبل عارضی منصب The entry names him among the Companions appointed treasurer (sahib bayt al-mal). The entry gives no dates for the post.
حوالہ جات
- الخازن — موسوعة TDV الإسلامية (إردوغان مرجيل) , p.141-143
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “خزانچی (ہزنیدار)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/job/treasurer/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.