ایک نظر میں
- کردار
- عالم · writer · teacher
- شمار ہوتا ہے
- sunni
- دور
- العصر المعاصر
- خطہ
- south-asia
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1980
اعزازات
- شاہ فیصل انعام · service-to-islam · جیتا · 1980 · shared with Mohammad Natsir
- اسلامی شخصیتِ سال (دبئی بین الاقوامی قرآن کریم ایوارڈ) · اعزاز یافتہ · 1998 اور 1999 کے درمیان عیسوی · 1419 ھ · Islamic Personality of the Year, Dubai International Holy Quran Award, 1419 AH (second session); the Gregorian range is converter-derived
خلاصہ
ابو الحسن علی بن عبد الحی بن فخر الدین حسنی ندوی (1333–1420ھ/1914–1999ء) ہندوستان کے عالم، داعی اور ادیب تھے جنہوں نے عربی اور اردو میں لکھا؛ ان کی مشہور کتابوں میں «ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین؟» (انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر) اور «السیرۃ النبویہ» ہیں۔ 2 دار ابن کثیر کے ایڈیشن میں ان کی سیرت کے ساتھ ملحق ترجمہ ان کی بہت تعریف کرتا ہے اور معاصرین کے اقوال نقل کرتا ہے، جن میں یوسف القرضاوی کا یہ قول ہے کہ ان پر سلفی اور صوفی، مذہبی اور غیر مقلد سب متفق تھے۔ 3
نسب اور خاندان
ترجمے کے مطابق ان کا نسب حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں محمد نفسِ زکیہ کے بیٹے عبد اللہ اشتر تک پہنچتا ہے، اور ان کے خاندان میں سب سے پہلے ساتویں صدی ہجری کے آغاز میں امیر قطب الدین مدنی ہندوستان میں آباد ہوئے۔ 4 ان کے والد مؤرخ عبد الحی حسنی تھے، جو ہندوستان کے اعلام پر «نزہۃ الخواطر» کے مصنف ہیں، اور ان کی والدہ حافظۂ قرآن تھیں اور شعر کہتی تھیں۔ 4
ولادت اور تعلیم
- وہ 6 محرم 1333ھ (1914ء) کو رائے بریلی کے قریب تکیہ کلاں گاؤں میں، صوبہ متحدہ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد کی وفات 1341ھ (1923ء) میں ہوئی جب ان کی عمر نو دس برس تھی، چنانچہ ان کی والدہ اور بڑے بھائی ڈاکٹر عبد العلی حسنی نے ان کی پرورش کی۔ 5
- انہوں نے 1924ء کے اواخر سے خلیل بن محمد انصاری یمانی سے عربی پڑھی، پھر 1930ء میں تقی الدین ہلالی کے ندوۃ العلماء آنے پر ادب میں ان سے تخصص کیا۔ 5
- 1927ء میں لکھنؤ یونیورسٹی (عربی ادب) اور 1929ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے، جہاں حیدر حسن خان ٹونکی سے صحیحین اور سنن ابی داؤد و ترمذی پڑھیں؛ 1351ھ/1932ء میں لاہور میں احمد علی لاہوری سے پورے قرآن کی تفسیر پڑھی، اور دیوبند میں حسین احمد مدنی کے بخاری اور ترمذی کے دروس میں شریک ہوئے۔ 6
تدریس اور دعوت
- 1934ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں تفسیر اور ادب کے استاد مقرر ہوئے۔ 6
- 1939ء میں ہندوستان کے دینی مراکز کے سفر میں عبد القادر رائے پوری اور محمد الیاس کاندھلوی سے متعارف ہوئے؛ پہلے سے روحانی تربیت پائی اور دوسرے کے نمونے پر دعوت کا کام کیا، اور ترجمہ اسے ان کی زندگی کا موڑ کہتا ہے۔ 7
- 1943ء میں اسلامی تعلیمات کا ایک مرکز، 1951ء میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان «پیامِ انسانیت» تحریک، اور 1959ء میں لکھنؤ میں مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام قائم کی؛ اور اتر پردیش دینی تعلیمی کونسل (1960ء)، آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت (1964ء) اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (1972ء) کے قیام میں شریک رہے۔ 8
تصنیف
- ان کا پہلا عربی مضمون 1931ء میں رشید رضا کے «المنار» میں سید احمد شہید پر شائع ہوا، جسے رشید رضا نے الگ کتاب کے طور پر چھاپا؛ ترجمہ کہتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی، جو اس کی بتائی ہوئی تاریخِ ولادت سے میل نہیں کھاتا۔ 9
- ترجمے میں ان کی کتابوں میں یہ مذکور ہیں: اردو میں «سیرت سید احمد شہید» (1937ء)، «مختارات من ادب العرب» (1940ء)، «قصص النبیین» اور «القراءۃ الراشدہ» (1944ء)، «ماذا خسر العالم» (1944ء)، «رجال الفکر والدعوۃ فی الاسلام» (1956ء میں دمشق کے کلیۃ الشریعہ میں لیکچروں سے)، «القادیانی والقادیانیہ» (1958ء)، «الصراع بین الفکرۃ الاسلامیہ والفکرۃ الغربیہ» (1965ء)، «الارکان الاربعہ» (1967ء)، «السیرۃ النبویہ» (1976ء)، اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر «المرتضیٰ» (1988ء)۔ 10
- وہ «الضیاء»، «الندوہ»، «البعث الاسلامی»، «الرائد» اور «تعمیرِ حیات» جیسے رسائل کی ادارت میں شریک رہے، اور «الرسالہ»، «الفتح»، «حضارۃ الاسلام» اور «المسلمون» میں لکھا۔ 11
مناصب اور اعزازات
- وہ دمشق، قاہرہ اور اردن کی عربی زبان کی اکیڈمیوں کے رکنِ مراسل، 1962ء سے مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کی مشاورتی کونسل کے رکن، اور رابطۂ عالمِ اسلامی کی تاسیسی کونسل کے رکن تھے۔ 12
- 1980ء میں «ماذا خسر العالم» پر شاہ فیصل عالمی ایوارڈ، 1981ء میں کشمیر یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ ملی؛ 1983ء سے آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز اور 1984ء سے رابطۂ ادبِ اسلامی عالمی کے صدر رہے؛ 1419ھ کا دبئی اسلامی شخصیت ایوارڈ اور 1998ء میں سلطانِ برونائی کا ایوارڈ ملا۔ 13
- وہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے ناظم (امینِ عام) تھے۔ 14
وفات
ان کی وفات دل کے دورے سے جمعہ 23 رمضان 1420ھ، دسمبر 1999ء کے آخری دن، اپنی جائے پیدائش رائے بریلی میں چھیاسی سال کی عمر میں ہوئی، اور 27 رمضان کی رات حرمین میں ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔ 15
تعلقات
- Authored
- السیرۃ النبویہ (ندوی)
- Studied under
- حسین احمد مدنی· محمد الیاس کاندھلوی
- Traveled to
- دمشق
- Awarded
- شاہ فیصل انعام· اسلامی شخصیتِ سال (دبئی بین الاقوامی قرآن کریم ایوارڈ)
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الديوبندية· محمد ناصر الدین الالبانی· علی الطنطاوی· علیجا عزت بیگووچ· محمود حسن دیوبندی· رشيد أحمد الكنكوهي· سلمان بن عبدالعزیز آل سعود· ذاکر نایک
ماخذ
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 26-35
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 26-31
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 25
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 26
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 27
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 28
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 29
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 29-30
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 30
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 30-31
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 31
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 32-34
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 32-33
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 33
- السيرة النبوية لأبي الحسن علي الحسني الندوي — تحقيق وتعليق سيد عبد الماجد الغوري، دار ابن كثير، دمشق–بيروت، الطبعة الثانية عشرة (الثالثة لدار ابن كثير) 1425هـ/2004م , p. 34-35
- King Faisal Prize — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ابو الحسن علی حسنی ندوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abu-al-hasan-ali-nadwi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON