احمد بن مبارک اللمطی

أحمد بن مبارك اللمطي

–

مجلماسة → فاس

ابو العباس احمد بن مبارک السجلماسی اللمطی (1679ء – 1743ء) سجلماسہ سے تعلق رکھنے والے مغربی مالکی فقیہ تھے؛ 1698ء میں خاندان سمیت فاس منتقل ہوئے، قرویین کے پانچ شیوخ سے پڑھا اور اجازہ پایا، پھر صوفی شیخ عبد العزیز الدباغ کے شاگرد و مصاحب بنے اور ان کی وفات کے بعد ان کے اقوال کو «الابریز» میں جمع کیا، جو صوفی مناقب کی مشہور ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے اور جس کا اثر انڈونیشیا تک پہنچا۔ اصول و فقہ میں بھی تصانیف چھوڑیں؛ فاس میں وفات پائی اور باب الفتوح میں اپنے شیخ کے پہلو میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1650عیسوی1660عیسوی1670عیسوی1680عیسوی1690عیسوی1700عیسوی1710عیسوی1720عیسوی1730عیسوی1740عیسوی1750عیسوی1760عیسوی1770عیسوی1780عیسوی تقریباً
إمبراطوريات البارود ہم عصر: علي بن محمد المساكني · محمد الصغیر الافرانی · بلھے شاہ · ترياكي حاجي محمد باشا · حسین بن علی الترکی

مکان میں

مجلماسةفاس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sunni-maliki (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    موجز

    ابو العباس احمد بن مبارک السجلماسی اللمطی (1090–1156ھ / 1679–1743ء) سجلماسہ سے تعلق رکھنے والے مغربی مالکی فقیہ تھے۔12 1698ء میں خاندان سمیت فاس گئے، قرویین میں پڑھا اور اجازہ پایا، پھر صوفی شیخ عبد العزیز الدباغ کے شاگرد و مصاحب بنے اور ان کے اقوال «الابریز» میں جمع کیے۔21

    زندگی اور کام

    فاس میں پانچ شیوخ سے تعلیم حاصل کی جن کے نام عربی مقالہ دیتا ہے؛ الدباغ کی وفات (1718–1719ء) کے بعد الابریز لکھی جو صوفی مناقب کی مشہور کتاب بنی اور جس کا اثر انڈونیشیا تک پہنچا۔12 اصول و فقہ میں مزید تصانیف بھی چھوڑیں۔ آخری عمر میں زاہدانہ زندگی گزاری؛ 19 جمادی الاول 1156ھ کو فاس میں وفات پائی — انگریزی مقالہ 1742ء کہتا ہے — اور باب الفتوح میں اپنے شیخ کے پہلو میں دفن ہوئے۔12

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • فقیہ · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    مجلماسة
    Died in
    فاس
    Studied under
    عبد العزيز الدباغ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع القرويين· ابن بطوطہ کی فاس واپسی· وفد مالي بالزرافة إلى فاس (762هـ)· انقسام ملك بني مرين بين فاس ومراكش (776هـ)· عبد الحفیظ بن الحسن· أبو حسون الوطاسي· رشید بن الشریف· علال الفاسی

    ماخذ

    1. السجلماسي اللمطي — Arabic Wikipedia
    2. Ahmed Sijilmasi — English Wikipedia
    • Ahmad ibn Mubarak al-Lamti (Q4696104)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد بن مبارک اللمطی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-ibn-mubarak-al-lamti/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع القرويين

    Draft card for the Qarawiyyin mosque of Fez, the great congregational mosque and seat of learning built by the Kairouan emigres in Fez, named from an open reference description (Wikidata); its Mujam al-Buldan entry is not yet read on the page.