فقیہ

الفقيه

فقیہ وہ عالم ہے جو شریعت کے عملی احکام جانتا ہے، انہیں ماخذ سے نکالتا ہے یا کسی معتبر مذہب سے لیتا ہے، پھر فتویٰ دیتا اور پڑھاتا ہے۔ ابتدائی دور میں لفظ دین کی عمومی گہری سمجھ کے لیے آتا تھا، اور دوسری صدی ہجری کے آخر سے یہ فقہ کے علم کا نام بن گیا۔ فقیہ قاضی نہیں: وہ حکم جانتا اور فتویٰ دیتا ہے، جبکہ قاضی مقرر ہو کر جھگڑا نمٹاتا ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين · العصر الأموي · العصر العباسي المبكر · عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث
خطہ
arabia · levant-iraq · egypt-nile · maghreb · persia-central-asia · anatolia-balkans
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

فقیہ وہ عالم ہے جو شریعت کے عملی احکام جانتا ہے، انہیں ماخذ سے نکالتا ہے یا کسی معتبر مذہب سے لیتا ہے، پھر فتویٰ دیتا اور پڑھاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اہلِ اصول لفظ «فقیہ» کو «مجتہد» کے معنی میں لیتے تھے، اور جو خود اجتہاد نہ کرے اسے مقلِّد کہتے تھے۔ 1

لفظ کا مفہوم

قرآن میں اس مادے کے کلمات تقریباً بیس جگہ آئے ہیں، زیادہ تر سمجھ اور ادراک کے معنی میں۔ 1 حدیث میں فقیہ کو دین کے عالم کی صفت کے طور پر بیان کیا گیا، اور اس کے ساتھ دنیا سے بے رغبتی، خوفِ خدا اور صبر کی شرط بھی رکھی گئی۔ 1

آغاز

انسائیکلوپیڈیا وحی کو فقہ کا اصل مانتا ہے، یعنی قرآن و سنت، پھر صحابہ کی آراء اور اجتہادات۔ 2 ابتدائی دور میں مدینہ میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زید بن ثابت، عائشہ اور ابن عمر فتویٰ دیتے تھے، اور کوفہ میں ابن مسعود۔ 2

اموی دور: مدینہ اور عراق

اموی دور، انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، 132 ہجری (750) تک جاری رہا، اور اس میں صحابہ کی اکثریت وفات پا گئی اور علم تابعین کی طرف منتقل ہوا۔ 2 فقہاء دو بڑے مکاتب میں بٹ گئے: حجاز (مدینہ) اور عراق (کوفہ)۔ مدینہ والے اپنے شہر کے عمل کو زندہ سنت مانتے تھے، جبکہ کوفہ والے رائے پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔ 2

عباسی دور اور تدوین

عباسی دور میں سنن جمع ہوئیں، اور فقہ کی کتابیں لکھی گئیں جن میں مسائل کے ساتھ ان کے دلائل بھی درج تھے۔ انہی میں مالک کی موطأ، شیبانی کی کتب، ابو یوسف کا خراج اور شافعی کی الأم شامل ہیں۔ 2 3

تقلید اور مذاہب

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق تیسری صدی ہجری کے بعد مذہب کی بنیاد پر تعصب پیدا ہوا، اور لوگ ایک مجتہد کے قول کو وحی کی طرح لینے لگے۔ 2 چار مذاہب اس وقت تک مستحکم نہیں ہوئے تھے، اور مسلمان چوتھی صدی ہجری تک چار مذاہب میں تقسیم نہیں ہوئے تھے۔ 2

اجتہاد اور درجات

اجتہاد کو انسائیکلوپیڈیا نے نص یا استنباط کے دوسرے طریقوں سے ظنی علم تک پہنچنے کی کوشش کہا ہے۔ 1 مجتہد مطلق پوری شریعت کے احکام نکال سکتا ہے، جبکہ مقید مجتہد اپنے امام کے اصولوں کے اندر رہتا ہے۔ 4 حنفیہ کے ہاں فقہاء کے سات درجات ہیں، اور دوسرے مذاہب کے ہاں پانچ۔ 1

فقیہ اور قاضی

انسائیکلوپیڈیا اجتہاد، فتویٰ اور قضاء کو الگ کرتا ہے: اجتہاد نظری عمل ہے، فتویٰ اور قضاء اس کا عملی اطلاق۔ 4 قاضی کا اصل تقاضا اجتہاد تھا، لیکن تابعین کے زمانے سے یہ کم ہی پورا ہوا، چنانچہ قاضی مقرر کیے گئے جنہیں معتمد اقوال سے باہر نہ جانے کا پابند کیا گیا۔ 4 فقیہ حکم جانتا اور فتویٰ دیتا ہے، جبکہ قاضی تقرری کے اختیار سے جھگڑا نمٹاتا ہے۔ 1

دیگر مذاہب اور مرجعیت

امامیہ (اثنا عشریہ) کے فقہ کے اپنے مصادر ہیں، اور ان کی چار حدیثی کتابیں کلینی، ابن بابویہ اور طوسی کی ہیں۔ 3 محمد باقر بہبہانی نے تقریباً ایک سو پچاس سال کے اخباری غلبے کے بعد اصولی طریقہ بحال کیا۔ 3 محمد باقر بہبہانی

مرجع تقلید وہ مجتہد ہے جس کی طرف عام مومن فتویٰ کے لیے رجوع کرتا ہے، اور اس کی موجودہ صورت اصولی مدرسے کے ساتھ اٹھارہویں صدی کے آخر سے بنی۔ 5 مرجع کی شرائط میں مرد ہونا، بالغ، عاقل، امامی ایمان، جائز ولادت اور عدالت شامل ہیں۔ 5

تربیت اور اجازہ

طالب علم استاد کے پاس بیٹھ کر علم حاصل کرتا، پھر اجازہ پاتا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اجازہ کسی عالم کی طرف سے طالب علم کو روایت، تدریس یا فتویٰ کی اجازت ہے۔ 6 تحریری اجازت کی سب سے قدیم معلوم صورت الربیع بن سلیمان المرادی نے سنہ 265 ہجری (879) میں اپنے استاد شافعی کے «الرسالہ» کے تین حصوں کی نقل کے لیے دی تھی، اور انہوں نے اسے خود لکھا۔ 6 الربیع بن سلیمان المرادی

مدارس میں اجازۂ افتاء و تدریس عموماً امتحان کے بعد دیا جاتا تھا، جس سے حامل کو پڑھانے، فتویٰ دینے اور مناظرہ کرنے کا حق ملتا تھا۔ 6 شیوخ کے ہاں اجازت زبانی بھی ہوتی تھی۔ 6

عثمانی اور جدید دور

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق «علمیہ» سے مراد عثمانی ریاست میں مدرسے کے وہ علماء ہیں جو تعلیم، صحت، عدالت، فتویٰ اور دینی امور چلاتے تھے۔ 1 مصر میں 1872 اور استنبول میں 1914 میں اجازت کو باقاعدہ سند کی شکل دی گئی، اور فقہ کی اجازت رکھنے والا قاضی یا مفتی بننے کا اہل سمجھا جاتا تھا۔ 6 جدید دور میں تقنین کی تحریک نمایاں ہوئی۔ 2

منصب کا انجام

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق انیسویں صدی کے بعد فقہ تدوین شدہ قانون کی طرف گیا، اور اہل تشیع میں مرجعیت آج بھی قائم ہے۔ 2 5

حوالہ جات

  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «FIKIH»، حیرالدین کارامان، احمد اوزل، علی بارداقوغلو، جلد 13، صفحات 1–27۔ 7
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «FAKİH»، حیرالدین کارامان، جلد 12، صفحات 126–127۔ 1
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «İCTİHAD»، یونس اپایدین، جلد 21، صفحات 432–445۔ 4
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «İCÂZET»، تعلیمی حصہ، جمیل آقپینار اور محمد علی ساری، جلد 21، صفحات 393–401۔ 8
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «İCÂZET»، فقہی حصہ، یونس اپایدین، جلد 21، صفحات 401–403؛ عقد میں اجازت کے قانونی معنی کو علمی اجازت سے الگ کرنے کے لیے پڑھا گیا۔ 9
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «MERCİ-i TAKLÎD»، حامد الکار، جلد 29، صفحات 172–174۔ 5

یہ پیشہ کس نے اختیار کیا

بغیر تاریخ کے

ابھی تحریر نہیں ہوا

فقیہ کے کام کی جگہ (حلقہ، مسجد، مدرسہ)، اس کے آلات اور رجسٹر، اجتماعات، سفر کی تفصیل، اور تصویر کے حصے ابھی نہیں لکھے گئے۔ ان کے لیے ایسے مصادر درکار ہیں جو اس ریکارڈ کے لیے نہیں پڑھے گئے۔

حوالہ جات

  1. الفقيه — موسوعة TDV الإسلامية (حيرالدين كارامان) , p.126-127
  2. الفقه — موسوعة TDV الإسلامية (حيرالدين كارامان، أحمد أوزَل، علي بارداقوغلو) , p.1-14
  3. الفقه — موسوعة TDV الإسلامية (حيرالدين كارامان، أحمد أوزَل، علي بارداقوغلو) , p.14-22
  4. الاجتهاد — موسوعة TDV الإسلامية (يونس أبايدين) , p.432-445
  5. مرجع التقليد — موسوعة TDV الإسلامية (حامد ألكار) , p.172-174
  6. الإجازة (في التعليم) — موسوعة TDV الإسلامية (جميل آقبينار، محمد علي ساري) , p.393-400
  7. الفقه — موسوعة TDV الإسلامية (حيرالدين كارامان، أحمد أوزَل، علي بارداقوغلو) , p.1-27
  8. الإجازة (في التعليم) — موسوعة TDV الإسلامية (جميل آقبينار، محمد علي ساري) , p.393-401
  9. الإجازة (في الفقه) — موسوعة TDV الإسلامية (يونس أبايدين) , p.401-403
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “فقیہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/job/faqih/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔