ایک نظر میں
- کردار
- شاعر · عالم
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
احمد پاشا بورسوی (تقریباً 1426ء – 1496/97ء) پندرھویں صدی کی عثمانی ترکی کے صفِ اول کے دیوان شاعر تھے — ان کے عہد نے انھیں «سلطان الشعراء» کہا — اور ساتھ ہی علماء کی ریاست کے بڑے عہدیدار: مدرّس، قاضی، قاضی عسکر، محمد ثانی کے اتالیق اور وزیر کے رتبے کے حامل۔ 1 2 یہ صدرِ اعظم ہرسک زادہ احمد پاشا نہیں، نہ برسا کے بعد والے مفتی احمد پاشا بن خضر بگ؛ یہ مراد ثانی کے قاضی عسکر ولی الدین آفندی کے بیٹے تھے۔ 2 ان کی جائے پیدائش واقعی غیر طے شدہ ہے: لطیفی اور گلیبولو علی برسا بتاتے ہیں، جبکہ سہی، بلیغ اور عاشق چلبی — شاعر کے چچیرے بھائی اور وارث ناظر چلبی کے بیان پر — ادرنہ بتاتے ہیں، اور ترک انسائیکلوپیڈیا ادرنہ کو زیادہ محتمل قرار دیتی ہے۔ 1 2 فواد کوپرولو نے اندازہ لگایا کہ وہ 830ھ/1426ء سے کچھ پہلے یا کچھ بعد پیدا ہوئے۔ 1
قاضی عسکر کے بیٹے
احمد پاشا نے ادرنہ میں تعلیم پائی، عربی و فارسی سمیت اپنے زمانے کے علوم سیکھے، برسا کی مرادیہ مدرسہ میں مدرّس کے طور پر آغاز کیا، اور 855ھ/1451ء میں ملا خسرو کی جگہ ادرنہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ 1 2 ان کے استاد شاعر مليحی تھے، جنھیں انھوں نے بعد میں محمد ثانی سے متعارف کرا کر دربار میں جگہ دلوائی۔ 2 محمد ثانی کے دور میں ان کی ترقی تیز رہی: قاضی عسکر، پھر سلطان کے مصاحب و اتالیق، پھر وزارت کا رتبہ؛ استنبول کی فتح کے وقت سلطان نے انھیں اپنے قریب رکھا اور فوج کے حوصلے بڑھانے میں ان سے کام لیا، اور سہی لکھتے ہیں کہ لشکر میں ان کی باریک بینی کی وجہ سے انھیں «سپاہیوں کا مفتی» کہا جاتا تھا۔ 2
نازِش اور «کرم» قصیدہ
اس عنایت نے حسد پیدا کیا اور افواہوں کی بنیاد پر — تذکرے کہیں کہتے ہیں کہ انھوں نے سلطان کے کسی خادم سے کچھ کہہ دیا، کہیں کہ کسی پسندیدہ پر نظر ڈالی، کہیں کہ سازشیوں نے انھیں پھنسایا — سلطان کا غضب ان پر ٹوٹا: عاشق چلبی کے مطابق سلطان پہلے انھیں قتل کرنا چاہتا تھا پھر دربانوں کے کمرے میں قید پر اکتفا کیا، جبکہ لطیفی قید خانہ یدی قولہ بتاتے ہیں۔ 1 2 قید سے انھوں نے سلطان کو اپنا مشہور «کرم» ردیف والا قصیدہ بھیجا، پینتیس اشعار، جس سے ان کی جان بچی اور معافی ملی، اگرچہ ادبی مورخ علی نہاد تارلان نے اس قصے پر شبہ ظاہر کیا اور قصیدے کی کوئی اور مناسبت سمجھی۔ 1 اس کے بعد وہ دربار واپس نہ آئے: برسا بھیجے گئے، تیس آقچہ یومیہ پر اورخانیہ، مرادیہ اور امیر سلطان مدارس کے اوقاف کے متولی بنے، پھر سلطان اونو (اسکی شہر)، تیرہ اور انقرہ کے سنجق بے رہے۔ 1 2
برسا اور دیوان
محمد ثانی کی وفات (1481ء) کے بعد بایزید ثانی نے ان کا مقام بحال کیا اور انھیں برسا کا سنجق بے مقرر کیا — وہی شہر جہاں وہ رہے اور مرے، اسی لیے «بورسوی» کہلائے۔ 1 2 ترک انسائیکلوپیڈیا ان کی وفات صرف 902ھ یعنی 1496–97ء بتاتی ہے؛ ترک مضمون کے عنوان میں 1497 اور متن میں 1496 ہے، فارسی مضمون 1496 کہتا ہے، اور ویکیمیڈیا دونوں قیمتیں محفوظ رکھتا ہے۔ 2 1 3 4 وہ مرادیہ مسجد کے قریب اپنی بنائی ہوئی مدرسہ کے پہلو میں اپنے ہی تعمیر کردہ تربے میں دفن ہوئے۔ 1 ان کا دیوان، جو انھوں نے بایزید ثانی کے حکم پر مرتب کیا، 120 اشعار کی مناجات اور نعتِ نبی سے شروع ہوتا ہے اور اس میں 352 غزلیں، مشہور «کرم»، «بنفشہ» اور «آب» قصیدے، عربی و فارسی کلام، بلکہ ایک یونانی شعر بھی شامل ہے۔ 2 بعد کے شعراء — آحی و لامعی سے نجاتي و باقی تک — نے ان پر نظیریں کہیں، اور تذکرہ روایت، جس کی پیروی ضیاء پاشا اور معلم ناجی نے کی، انھیں شیخی اور نجاتي کے درمیان پیدا ہونے والا سب سے بڑا شاعر قرار دیتی ہے۔ 2
پیشہ ورانہ سفر
-
قاضی ادرنہ اصل پیشہ 1451 عیسوی · 855 ھ†
Appointed judge of Edirne in 855 AH (1451), in place of Molla Hüsrev, according to the DİA entry. The same entry records his later rise to kazasker.
ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔
- مدرس · ایک اور پیشہ · بورصة · بغیر تاریخ
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الجامع الأخضر ببورصة· دارالحکومت بورصہ سے ادرنہ منتقل· 1855ء کا بورصہ کا عظیم زلزلہ· ترک جنگِ آزادی میں بورصہ· فتح بورصة· جم سلطان کی بورصہ میں اٹھارہ دن کی بیعت· کلندر اوغلو کی بورصہ پر لوٹ مار· قرامانیوں کا بورصہ کا محاصرہ
ماخذ
- Ahmed Pasha (poet) — Turkish Wikipedia
- AHMED PAŞA, Bursalı — TDV İslâm Ansiklopedisi
- Ahmed Pasha of Bursa — Persian Wikipedia
- Ahmed Pasha of Bursa — Wikidata (Q3652239)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “احمد پاشا بورسوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-pasha-bursali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.