ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- west-africa-sahel
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
آسکیا اسحاق دوم (تقریباً 1550ء - 1592ء) سلطنت سونگھائی کے آخری مؤثر حکمران تھے، 1588ء سے 1591ء تک۔ آسکیا داؤد کے بیٹے ہونے کے ناتے انھوں نے توندیبی کی لڑائی میں سونگھائی فوج کی قیادت کی، جہاں مراکشی آتشیں اسلحے نے سلطنت کی طاقت ختم کر دی؛ جلاوطنی میں معزولی کے بعد وہ اپریل 1592ء میں بیلانگا میں قتل ہوئے۔ 1
اقتدار تک رسائی
اسحاق آسکیا داؤد اور وسطی نائجر کی ایک فولا زغرانی کنیز کے بیٹے تھے — ان کا لقب زغرانی اسی سے ہے — اور ہون وک کے بیان کے مطابق 1549ء میں داؤد کی تخت نشینی کے بعد پیدا ہونے والے ان کے پہلے بیٹے تھے، جو مضمون کی دی ہوئی روایتی پیدائش تقریباً 1550ء، گاؤ میں، کی بنیاد ہے۔ وہ 1588ء میں اپنے بھائی آسکیا محمد بانی کی وفات پر اقتدار میں آئے، دربار کی ایک سازش کو ناکام بنایا اور کبارا کے فوجی گورنر باغی بلمعہ کو شکست دی جس کی فوج گاؤ کی طرف بڑھ رہی تھی؛ 10 اپریل 1588ء کو انھیں آسکیا قرار دیا گیا۔ 1
دورِ حکومت
انھوں نے مغربی صوبوں کے درجنوں باغی سرداروں کا صفایا کیا، نیجر کے جنوب میں گورما کے علاقے میں دو بار مہم چلائی، اور گاؤ میں مہربان، دیانت دار، سخی اور عوام میں مقبول مشہور تھے۔ مگر جو سلطنت انھیں ملی وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ طغازا کی نمک کانوں سے بھاگا ہوا ایک شاہی غلام سلطان احمد المنصور کو سونگھائی کی کمزوری کی خبر دے چکا تھا؛ المنصور کے دسمبر 1589ء کے خط نے طغازا کی آمدنی کا مطالبہ کیا، اور اسحاق کا للکارتا جواب اسے روک نہ سکا۔ 1
توندیبی و سونگھائی کا زوال
المنصور نے جودار پاشا کی قیادت میں ایک مہم — عربی مضمون کی گنتی کے مطابق تقریباً 4,000 آدمی — اکتوبر 1590ء میں صحرا کے پار بھیجی؛ وہ 28 فروری 1591ء کو نائجر تک پہنچی۔ اسحاق نے 40,000 سے زائد سپاہی جمع کیے، لیکن مارچ 1591ء میں توندیبی کی فیصلہ کن لڑائی میں ان کی فوج مراکشیوں کے بارودی ہتھیاروں کے سامنے بکھر گئی۔ گاؤ خالی کرایا گیا، پھر اسے لے کر لوٹا گیا، اسی طرح تمبکٹو و جینے بھی۔ اسحاق نے صلح کی پیشکش کی؛ المنصور نے اس کے بجائے کمک بھیجی۔ 14 اکتوبر 1591ء کو زنزان میں دوبارہ شکست کھا کر اسحاق دیندی بھاگے، معزول ہوئے اور گورما کی طرف جلاوطن کر دیے گئے۔ 1 2
وفات
بیلانگا میں پناہ ڈھونڈتے ہوئے — جو انھی قصبوں میں سے ایک تھا جن کے خلاف انھوں نے اپنے عہد میں مہم چلائی تھی — وہ اپریل 1592ء میں ایک انتقامی ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے؛ انگریزی مضمون کا اطلاع خانہ ان کی وفات مارچ/اپریل 1592ء کے درمیان رکھتا ہے، گومیز اور «تاریخ الفتاش» کے حوالے سے۔ ان کے لیے کبھی لکھی جانے والی وفات کی تاریخ 1595ء اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ سے ثابت نہیں۔ 1
مذہب
اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ نے ان کا مکتب نہیں لکھا۔ انھوں نے اس گہرائی تک مسلمان ہو چکی سلطنت پر حکومت کی جسے ان کے پردادا آسکیا محمد نے تشکیل دیا تھا، اور المنصور سے ان کا ٹکراؤ حریف مسلم بادشاہوں کے اسلوب میں ہوا۔ ان کے بارے میں عربی مضمون ایک غیر موثق بقیہ ہے اور کوئی مذہب نہیں لکھتی؛ وکی ڈیٹا کا اندراج ان کے لیے کوئی دعویٰ نہیں رکھتا۔ 1 2 3
تعلقات
- Child of
- آسکیا داؤد
- Born in
- غاو
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Askia Ishaq II — English Wikipedia
- Askia Ishaq II — Arabic Wikipedia
- Askia Ishaq II — Wikidata (Q2866681)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “آسکیا اسحاق دوم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/askia-ishaq-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.