فیصل اول

فيصل الأول

–

فیصل اول بن حسین (20 مئی 1885ء – 8 ستمبر 1933ء) شریف حسین بن علی کے تیسرے بیٹے اور ثورۂ عربیہ کبریٰ (1916ء–1918ء) میں شمالی فوج کے سالار تھے؛ اکتوبر 1918ء میں دمشق میں داخل ہوئے، 1919ء میں پیرس امن کانفرنس میں عرب وفد کی قیادت کی اور حائیم وائزمین سے معاہدہ کیا۔ 8 مارچ 1920ء کو سوری قومی کانگریس نے انہیں مملکتِ عربیہ سوریہ کا بادشاہ قرار دیا، مگر میسلون کی لڑائی (24 جولائی 1920ء) کے بعد فرانسیسیوں نے انہیں نکال دیا؛ پھر 23 اگست 1921ء کو برطانوی سرپرستی میں عراق کے بادشاہ بنے، سنی و شیعہ اتحاد اور پان عرب پالیسی کو فروغ دیا، 1932ء میں عراق کی آزادی کی نگرانی کی، اور برن میں دل کے دورے سے وفات پائی؛ جانشین ان کے بیٹے غازی ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فیصل اول بن حسین (20 مئی 1885ء – 8 ستمبر 1933ء) شریف حسین بن علی کے تیسرے بیٹے اور ثورۂ عربیہ کبریٰ میں شمالی فوج کے سالار تھے، پھر مملکتِ عربیہ سوریہ کے بادشاہ (مارچ – جولائی 1920ء) اور عراق کے پہلے ہاشمی بادشاہ (1921ء–1933ء) بنے، جیسا کہ عربی مقالہ بیان کرتا ہے۔ 1 2 اردو مقالہ بھی ان کے کردار کو نمایاں کرتا ہے: آزادی کی تحریک میں ان کی حصہ داری، عثمانی پارلیمان میں جدہ کے نمائندے کی حیثیت، پیرس امن کانفرنس میں والد کی نمائندگی، شام کی مختصر بادشاہت اور 23 اگست 1921ء کو عراق کی تخت نشینی۔ 3

    زندگی اور عہد

    انگریزی و عربی مقالے ان کی میلادی تاریخوں پر متفق ہیں — 20 مئی 1885ء تا 8 ستمبر 1933ء — مگر جائے پیدائش پر مختلف: انگریزی مکہ کہتی ہے، عربی طائف کہتی ہے اور یہ بھی کہ وہ حجاز کے صحرا میں قبیلۂ عتیبہ کے پاس پلے بڑھے؛ اردو مقالہ بھی طائف کہتا ہے مگر سال 1883ء دیتا ہے، اور وکی ڈیٹا میں تینوں سال (1883ء، 1885ء، 1886ء) اور دونوں مقامات موجود ہیں — یہ سارا اختلاف یوں ہی درج ہے۔ 2 1 3 4 1896ء میں وہ والد کے ساتھ استنبول گئے، وہاں ترکی و انگریزی سیکھی اور چچا زادی حزیمہ بنت ناصر سے شادی ہوئی؛ 1909ء میں مکہ واپسی پر جدہ سے عثمانی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔ 1 2 جنگ کے دوران انہوں نے دمشق میں خفیہ عرب جمعیتوں سے رابطے کیے، 23 اکتوبر 1916ء کو لارنس سے ملاقات کی اور شمالی فوج کی قیادت کرتے ہوئے جولائی 1917ء میں عقبہ آزاد کیا اور 1 اکتوبر 1918ء کو دمشق میں داخل ہوئے۔ 2 1919ء میں پیرس امن کانفرنس میں عرب وفد کی قیادت کی اور 4 جنوری 1919ء کو وائزمین سے معاہدہ کیا؛ 8 مارچ 1920ء کو سوریہ کے بادشاہ قرار پائے، مگر میسلون (24 جولائی 1920ء) کے بعد فرانسیسیوں نے نکال دیا۔ 2 مارچ 1921ء کے قاہرہ کانفرنس کے فیصلے اور 96 فیصد رائے شماری کے بعد 23 اگست 1921ء کو عراق کے بادشاہ بنے؛ اپنے عہد میں سنی و شیعہ اتحاد اور پان عرب پالیسی کو فروغ دیا، مساجد و مزارات اور مدارس سے رابطہ رکھا، 1929ء کی یادداشت میں بالفور اعلان کو صرف «یہودی قومی وطن» کی حد تک قبول کیا، اور مارچ 1932ء کی یادداشت میں عراقی قومی شناخت کی کمی پر لکھا۔ 2 3 اکتوبر 1932ء کو عراق آزاد ہو کر لیگ آف نیشنز میں شامل ہوا؛ 8 ستمبر 1933ء کو برن میں دل کے دورے سے وفات پائی اور بیٹے غازی جانشین ہوئے؛ ان کی میت حائفہ کے راستے بغداد لائی گئی۔ 2 3

    موقف و نقد

    یہ حصہ مآخذ میں منقول مواقف کی پیشکش ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    جمال پاشا سے ان کے رابطے (دسمبر 1917ء و بہار 1918ء) متنازع ہیں: لارنس نے انہیں حربہ قرار دیا، جب کہ مؤرخین ایفرائیم و ایناری کارش لارنس کی روایت پر سوال اٹھاتے ہیں؛ عجائب گھر اختلاف یوں ہی پیش کرتا ہے۔ 2 1925ء کی سوری بغاوت میں انہوں نے باغیوں کی خاص حمایت نہیں کی، انگریزی مقالے کے مطابق برطانوی دباؤ، احتیاط اور دمشق میں بحالی کی امید کی وجہ سے۔ 2 اردو مقالہ انہیں شریف حسین کا سب سے بڑا بیٹا کہتا ہے، جو انگریزی و عربی مقالوں کے خلاف ہے — وہ تیسرے بیٹے تھے۔ 3 2 ان کے مذہبی مکتب کی حیثیت «نامعلوم» درج ہے: انگریزی مقالہ ان کی پالیسی بیان کرتا ہے — سنی و شیعہ اتحاد کی کوشش، اور الریحانی کا قول کہ ان کا ایمان «تمام اسلامی مکاتب کی عکاسی» کرتا تھا — اور یہ بھی کہ عراق کے شیعہ ان کے والد کو «حجاز کا سنی مسلمان» سمجھتے تھے، جو والد کے بارے میں تاثر ہے، بیٹے کی شہادت نہیں؛ کوئی مأخذ ان کے لیے کوئی مکتب نامزد نہیں کرتا، اس لیے قدر نامعلوم رہتی ہے۔ 2 4

    حوالہ جات

    • اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کے بعد کے ترجمے اور ترامیم کو واضح تواریخ کے ساتھ دورانی نظرثانی درکار ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    حسین ابن علی ہاشمی
    Sibling of
    عبداللہ اول بن حسین
    Participated in
    الثورة العربية الكبرى

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الثورة العربية الكبرى· عبداللہ اول بن حسین· حسین ابن علی ہاشمی· علی بن حسین ہاشمی· القدس· بنو هاشم· أحمد زيني دحلان· عمان

    ماخذ

    1. Faisal I — Arabic Wikipedia
    2. Faisal I — English Wikipedia
    3. Faisal I — Urdu Wikipedia
    4. Faisal I — Wikidata Q212486
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فیصل اول”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/faisal-i-of-iraq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الثورة العربية الكبرى

    Draft card for the Arab Revolt, Sharif Husayn ibn Ali's Hejazi rising against the Ottoman state during the First World War beginning in 1916; its sources are not yet checked on the page.