انشاء اللہ خان انشاء

إن شاء الله خان

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

سید انشاء اللہ خان انشاء (تقریباً 1752ء – 1817ء) ہندوستانی شاعر اور مصنف تھے جو اردو، فارسی اور ہندی میں لکھتے تھے اور دہلی و لکھنؤ کے درباروں سے وابستہ رہے۔ مرشد آباد میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد طبیب میر ماشا اللہ خان نواب بنگال کی خدمت میں تھے؛ شاہ عالم ثانی کے دربار کے بعد لکھنؤ میں سعادت علی خان کے ہاں مقام پایا۔ ان کی ”دریائے لطافت“ (1807ء) اردو زبان کی پہلی گرامر ہے، ”رانی کیتکی کی کہانی“ ہندی نثر کے اولین نمونوں میں سے ہے، اور ان کے دیوان میں کئی زبانوں میں غزلیں اور ریختی شامل ہے۔ 1817ء میں لکھنؤ میں انتقال ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: بيرم الثاني محمد بن محمد · حمدان خوجة · نظیر اکبر آبادی · شاہ عبدالعزیز دہلوی · شاہ رفیع الدین دہلوی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید انشاء اللہ خان انشاء (تقریباً 1752ء – 1817ء) ہندوستانی شاعر اور مصنف تھے، اردو، فارسی اور ہندی میں لکھتے تھے اور اردو کی پہلی گرامر کے مصنف ہیں 1۔

    مرشد آباد سے دہلی اور لکھنؤ تک

    ان کے والد میر ماشا اللہ خان مرشد آباد میں نواب سراج الدولہ کی خدمت میں مشہور طبیب تھے اور انشاء وہیں پیدا ہوئے 1۔ اردو مقالہ ان کے سادات خاندان کا اصل نجف بتاتا ہے اور دادا کو وہ طبیب کہتا ہے جنھیں بادشاہ فرخ سیر نے دہلی بلایا تھا 2۔ انشاء شاہ عالم ثانی کے عہد میں دہلی آئے، 1780ء میں مرزا نجف خان کی فوج میں شامل ہوئے اور دربار تک پہنچے، جہاں ان کی حاضر جوابی نے شہرت بھی دی اور دہلی کے شاعروں کو ناراض بھی کیا 1۔ 1788ء میں شاہ عالم ثانی کی بینائی جانے کے بعد 1791ء میں لکھنؤ گئے، جلاوطن شہزادے مرزا سلیمان شکوہ کے دربار میں ان کے استاد مصحفی سے مشہور رقابت ہوئی اور انھیں ہٹا دیا، پھر سعادت علی خان کے دربار سے وابستہ ہوئے مگر نواب پر مذاق کی وجہ سے نظر سے گر گئے اور آخری سال بے سہارا اور کمزور صحت میں گزار کر 1817ء میں انتقال کیا 1۔

    تصانیف

    انشاء اردو، فارسی، عربی اور کبھی ہندی، پنجابی اور دیگر زبانوں میں کہتے تھے اور ان کا کلام ”کلیات انشاء“ میں جمع ہے 1۔ ان کی لسانی استعداد دو تصانیف میں نمایاں ہے: ”رانی کیتکی کی کہانی“، ہندی نثر کے اولین نمونوں میں ایک مختصر داستان جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہیں آنے دیا گیا، اور ”دریائے لطافت“ (1807ء)، فارسی میں اردو کے قواعد و بیان اور دہلی و لکھنؤ کی بولیوں پر کتاب، جس کی نحوی اصطلاحات آج تک مستعمل ہیں 1 2۔ ان کے موضوعات جان بوجھ کر انوکھے تھے، یہاں تک کہ عورت کے زیرجامے پر پوری غزل اور مرغ بازی پر مثنوی 1۔

    مذہب

    پڑھے گئے مصادر میں سے کوئی بھی اس شخص کے لیے خود اس کا کوئی مذهب یا سلسلہ نام نہیں لیتا؛ ان کے سادات خاندان کا نجف سے تعلق نسب اور خاندانی پس منظر ہے جو کبھی گنتی میں نہیں آتا، اور ویکی ڈیٹا میں ان کے لیے کوئی مذہبی قدر درج ہی نہیں 2 3۔ اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔

    محققین کے لیے نوٹس

    سالِ ولادت مختلف فیہ ہے: انگریزی مقالے کا صدر اور معلوماتی خانہ اور اردو مقالے کا صدر تقریباً 1752ء دیتے ہیں، اردو مقالے کا متن مرشد آباد میں 1756ء کہتا ہے، اور ویکی ڈیٹا دونوں سال متنافس بیانات کے طور پر رکھتا ہے 1 2 3۔ میوزیم نے 1752ء لیا ہے اور 1756ء کی قراءت سجل میں محفوظ ہے۔ تمام مصادر ان کی وفات پر متفق ہیں: 19 مئی 1817ء، لکھنؤ 1 2۔ مرشد آباد اور لکھنؤ کے میوزیم میں مقام سجل ابھی موجود نہیں، اس لیے کوئی مکانی علاقہ درج نہیں۔

    ماخذ

    1. Insha Allah Khan — English Wikipedia
    2. Insha Allah Khan — Urdu Wikipedia
    3. Insha Allah Khan — Wikidata Q1664527
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “انشاء اللہ خان انشاء”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/insha-allah-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔