شاہ رفیع الدین دہلوی

شاه رفيع الدين الدهلوي

–

شاہ رفیع الدین دہلوی (1163ھ/1750ء – 1233ھ/1818ء) دہلی کے محدث و مفسر، شاہ ولی اللہ دہلوی کے صاحبزادے اور شاہ عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی تھے۔ آپ نے 1200ھ میں قرآن کا پہلا تحت اللفظ اردو ترجمہ مکمل کیا؛ آپ کی تصانیف میں تفسیر رفیع، «دفع الباطل» اور «اسرار المحبہ» شامل ہیں، اور آپ اپنے بھائی کی کبرسنی میں مدرسہ رحیمیہ کی مسندِ تدریس پر بیٹھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
muhaddith · عالم
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: بيرم الثاني محمد بن محمد · حمدان خوجة · نظیر اکبر آبادی · شاہ عبدالعزیز دہلوی · سليمان الحوات

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شاہ رفیع الدین دہلوی (1163ھ/1750ء – 1233ھ/1818ء) دہلی کے محدث و مفسر، شاہ ولی اللہ دہلوی کے صاحبزادے اور شاہ عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی تھے۔ آپ نے 1200ھ میں قرآن کا پہلا تحت اللفظ اردو ترجمہ مکمل کیا، اور اپنے بھائی کی کبرسنی میں مدرسہ رحیمیہ کی مسندِ تدریس پر بیٹھے 1۔

    زندگی و تصانیف

    آپ کا مکمل نام عبدالوہاب بن ولی اللہ بن عبدالرحیم العمری الدہلوی تھا؛ اردو مضمون نے آپ کے نام کی ہیئت عبدالحئی لکھنوی کی «نزھۃ الخواطر» سے لی ہے 1۔ آپ نے اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز سے علم حاصل کیا 2۔ آپ کی تصانیف تقریباً بیس گنی جاتی ہیں، جن میں «تفسیر رفیع»، «دفع الباطل» (جسے «دمغ الباطل» بھی پڑھا جاتا ہے)، «اسرار المحبہ»، «راہ نجات»، «التکمیل» اور «مقدمات العلم» شامل ہیں؛ 1200ھ میں مکمل ہونے والا آپ کا لفظی اردو ترجمۂ قرآن آپ کا سب سے بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے، اور بھائی کی کبرسنی میں آپ خاندان کی مسندِ تدریس پر بیٹھے 1۔

    مسلک و تصوف

    دو آزاد ماخذ رفیع الدین کی ذاتی صوفیانہ نسبت کی گواہی دیتے ہیں: عربی مضمون، الزرکلی کی روایت میں، بیان کرتا ہے کہ آپ نے شیخ محمد عاشق بن عبید اللہ البھاتلی سے سلسلۂ تصوف میں بیعت لی 2، اور اردو مضمون آپ کو درویش سیرت عالم کے طور پر پیش کرتا ہے اور آپ کی تصانیف میں صوفیانہ رسالہ «اسرار المحبہ» شمار کرتا ہے 1۔ تاہم دونوں میں سے کوئی آپ کے سلسلے کا نام نہیں لیتا، اور کوئی ماخذ جو ہم نے دیکھا آپ کے لیے ذاتی طور پر فقہی مسلک کا نام نہیں لیتا؛ دہلوی خاندان کی حنفی روایت وہ سیاق ہے جس میں آپ نے پڑھایا، خود آپ کے بارے میں گواہی نہیں۔

    محققین کے لیے نوٹس

    دونوں مضامین آپ کی ہجری تاریخوں پر متفق ہیں مگر ان کے عیسوی مقابلوں میں مختلف ہیں: ولادت 1163ھ کے مقابل اردو مضمون (دائرۃ معارف اسلامیہ کے حوالے سے) 1750ء رکھتا ہے اور عربی مضمون 1749ء، اور وفات 1233ھ کے مقابل بالترتیب 1818ء اور 1817ء آتے ہیں 1 2۔ وکی ڈیٹا کے دو غیر مجتمع عناصر بھی اسی طرح بٹے ہوئے ہیں — Q25550023 (1750ء–1818ء) اردو مضمون کی خدمت کرتا ہے اور Q12213581 (1749ء، بلا وفات) عربی مضمون کی 3 4۔ آپ کے والد شاہ ولی اللہ کا عجائب گھر میں ریکارڈ ایک مسودہ کارڈ ہے؛ یہاں درج فرزندی کا تعلق صرف مضامین اور Q25550023 پر قائم ہے۔

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • محدث · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    شاه ولي الله الدهلوي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    شاه ولي الله الدهلوي

    ماخذ

    1. Shah Rafiuddin Dehlawi — Urdu Wikipedia
    2. Rafiuddin al-Dihlawi — Arabic Wikipedia
    3. Shah Rafiuddin Dehlavi — Wikidata Q25550023
    4. Rafiuddin al-Dihlawi — Wikidata Q12213581
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شاہ رفیع الدین دہلوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shah-rafiuddin-dehlawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    شاه ولي الله الدهلوي

    Draft card for Shah Waliullah al-Dahlawi, the eighteenth-century hadith scholar and renewer of India, author of Hujjat Allah al-Baligha; he died in 1762 and his entry is not yet checked on the page.