قاضی نذر الاسلام

قاضي نذر الإسلام

–

دكا

بنگالی شاعر، ادیب اور موسیقار (1899ء–1976ء)، جنھیں ان کی 1922 کی نظم «بیدروہی» (باغی) کے بعد «باغی شاعر» کہا گیا، اور وہ بنگلہ دیش کے قومی شاعر ہیں۔ چورولیا میں پیدا ہوئے، دینی تعلیم پائی اور مؤذن رہے، برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دیں، پھر کلکتہ میں صحافی بن کر نوآبادیاتی راج کے خلاف لکھا اور بغاوت کے الزام میں قید ہوئے۔ انھوں نے تقریباً چار ہزار گیت لکھے اور ترتیب دیے جو «نذرل گیتی» کہلاتے ہیں، 1942 سے لاعلاج بیماری میں آواز اور حافظہ کھو بیٹھے، 1972 میں ڈھاکہ منتقل ہوئے اور 1976 میں وہیں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer · musician
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    قاضی نذر الاسلام بنگالی شاعر، ادیب اور موسیقار تھے، جو 24 مئی 1899 کو بنگال کے چورولیا میں پیدا ہوئے اور 29 اگست 1976 کو ڈھاکہ میں وفات پائی۔ وہ بنگلہ دیش کے قومی شاعر ہیں اور «باغی شاعر» کہلاتے ہیں۔ 1 2

    انگریزی اور عربی مضامین ان کی پیدائش 24 مئی بتاتے ہیں جبکہ کئی ثانوی فہرستیں 25 مئی 1899 دیتی ہیں؛ ریکارڈ نے دونوں مضامین کی پیروی کی اور اختلاف درج کر دیا ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ ایک غریب بنگالی مسلم قاضی خاندان میں پیدا ہوئے، مکتب و مدرسے میں قرآن و حدیث کی تعلیم پائی، والد کی وفات کے بعد دس برس کی عمر میں مسجد کے نگران اور مؤذن بنے، اور 1917 میں برطانوی ہندوستانی فوج میں شامل ہو کر کراچی میں خدمات انجام دیں۔ 1

    کام

    1920 میں کلکتہ میں صحافت شروع کی، اور 1922 میں ان کی نظم «بیدروہی» (باغی) نے انھیں شہرت کی بلندی پر پہنچایا؛ اسی سال ان کی مجلہ «دھوم کیتو» کی اشاعت پر انھیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ 1

    انھوں نے تقریباً چار ہزار گیت لکھے اور ترتیب دیے جو «نذرل گیتی» کہلاتے ہیں، بنگالی میں غزل متعارف کرائی، اور اسلامی و ہندو مذہبی گیت دونوں لکھے۔ 1

    1942 میں لاعلاج بیماری سے آواز اور حافظہ کھو بیٹھے، 1972 میں ڈھاکہ منتقل ہوئے اور 1976 میں وہیں وفات پائی اور جامعہ ڈھاکہ کی مرکزی مسجد کے پہلو میں دفن ہوئے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دكا
    Buried in
    دكا
    Lived in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری

    ماخذ

    1. Kazi Nazrul Islam — English Wikipedia
    2. نذر الإسلام — ويكيبيديا العربية
    • Kazi Nazrul Islam — Wikidata Q334818
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “قاضی نذر الاسلام”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/kazi-nazrul-islam/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔