خواجہ عبد الغنی

خواجة عبد الغني

–

دكا

ڈھاکہ کے دوسرے نواب (1813ء–1896ء) اور اپنے خاندان کے پہلے فرد جن کا یہ خطاب انگریز حکومت کی منظوری سے موروثی ہوا۔ انھوں نے 1846ء میں والد خواجہ علیم اللہ کی جائیداد سنبھالی اور اسے بڑھایا، احسن منزل کو خاندان کی رہائش گاہ بنایا، اور ڈھاکہ میں گیس کی روشنی، پانی کی فراہمی، پنچایت نظام، چڑیا گھر اور اخبار متعارف کرائے؛ وہ تنازعات کے ثالث اور بڑے خیراتی کاموں کے لیے مشہور تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · philanthropist
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: قرمانجان داتقا · محمد النووي البنتني · ضياء السلطنة · ميرزا أبو تراب آخوندزاده · وارث علی شاہ

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نواب خواجہ عبد الغنی (30 جولائی 1813ء – 24 اگست 1896ء) ڈھاکہ کے دوسرے نواب تھے اور اپنے خاندان کے پہلے فرد جنھیں انگریز حکومت نے موروثی نواب کا خطاب دیا۔ 1 2 1846ء میں وہ والد خواجہ علیم اللہ کی جائیداد کے متولی بنے اور اسے اتنا بڑھایا کہ خاندان اپنے عروج کو پہنچا؛ انھوں نے احسن منزل کو نوابوں کی رہائش گاہ بنایا، اور ڈھاکہ میں گیس کی روشنی، پانی کی فراہمی، پنچایت نظام، چڑیا گھر اور پہلا اخبار متعارف کرایا۔ وہ تنازعات کے بڑے ثالث اور بڑے پیمانے کی خیرات کے لیے مشہور تھے۔ 1

    وہ بنگالی، اردو، انگریزی، عربی اور فارسی جانتے تھے، اور ڈھاکہ میں اردو و فارسی ادب، تھیٹر اور موسیقی کے سرپرست تھے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    عبد الغنی 30 جولائی 1813ء کو ڈھاکہ کے بیگم بازار میں پیدا ہوئے؛ وہ خواجہ علیم اللہ کے دوسرے بیٹے تھے — علیم اللہ نے خاندان کی جائیداد جوڑ کر اس کے پہلے نواب بنے — اور والدہ زینت بیگم تھیں۔ 1 2 بنگلہ پیڈیا کے مطابق علیم اللہ کشمیر سے اتر پردیش کے راستے ڈھاکہ آئے اور زمینیں خرید کر امیر ہوئے؛ انگریزی مضمون محمد مجلوم خان کے حوالے سے خاندان کا اصل فارس بتاتا ہے۔ 2 1 انھوں نے عربی و فارسی گھر پر اور انگریزی ڈھاکہ کالیجیٹ اسکول میں پڑھی، جہاں وہ اس کی پہلی جماعت کے طالب علم تھے؛ مادری زبان اردو تھی اور بنگالی میں بھی مہارت حاصل کی۔ 1 2

    1846ء میں والد نے وقف نامے کے ذریعے انھیں تمام خاندانی جائیداد کا متولی بنا دیا: پورے انتظام، خاندان کی نمائندگی، آمدنی کی تقسیم اور اپنا جانشین چننے کا اختیار انھی کے پاس تھا۔ 1 2 ان کے جانشین خواجہ احسان اللہ ان کے دوسرے بیٹے تھے۔ 1

    دور

    1857ء کی بغاوت میں عبد الغنی انگریزوں کے ساتھ رہے اور اپنے ہاتھی، کشتیاں، گھوڑے اور گاڑیاں ان کے حوالے کیں؛ بنگلہ پیڈیا کے مطابق بغاوت کے بعد انھوں نے انگریز فوج سے سپاہیوں کے لیے عام معافی یا کم سزا کی درخواست بھی کی۔ 1 2 پھر عہدے ملتے گئے: ڈھاکہ بلدیہ کے رکن اور 1864ء میں اس کے کمشنر، اعزازی مجسٹریٹ (بنگلہ پیڈیا: 1861ء؛ انگریزی فہرست: 1866ء)، 1866ء میں بنگال قانون ساز کونسل اور 1867ء میں گورنر جنرل کی قانون ساز کونسل کے رکن۔ 1869ء میں انھوں نے ڈھاکہ میں شیعہ سنی فساد ثالثی سے ختم کرایا، اور پنچایت نظام کے صدر کی حیثیت سے محلوں کے سربراہوں کو پگڑیاں دے کر شہر کا نظم برقرار رکھا۔ 1 2 القاب: 1871ء میں CSI، 1875ء میں نواب، 1877ء میں موروثی نواب، 1886ء میں KCSI اور 1892ء میں نواب بہادر۔ 1

    خدمات اور کارنامے

    احسن منزل: 1859ء سے 1872ء کے درمیان انھوں نے یورپی فرم مارٹن اینڈ کمپنی سے کمارٹولی کی فرانسیسی کوٹھی کو از سرِ نو بنوایا؛ یہ محل بیٹے اور جانشین احسان اللہ کے نام پر «احسن منزل» کہلایا اور خاندان کی طاقت کا مرکز بنا۔ 1 2 شاہ باغ: پرانے مغل باغ «باغِ بادشاہی» کو «شاہ باغ» کے نام سے بحال کیا، اسے 26.5 ہیکٹر تک پھیلایا، وہاں چڑیا گھر اور سالانہ زرعی و صنعتی میلے شروع کیے۔ 1 عوامی کام: تقریباً ڈھائی لاکھ روپے اپنے خرچ سے شہر کی آب رسانی قائم کی جس کا سنگِ بنیاد لارڈ نارتھ بروک نے 6 اگست 1874ء کو رکھا، سڑکوں پر گیس کی روشنی کرائی، بکلینڈ بند کے پہلے عطیہ دہندہ بنے، 1866ء میں دلکشا باغ اور مساکین خانہ (لنگر خانہ) بنایا، کمارٹولی میں ہائی اسکول (1863ء) قائم کیا اور مٹفورڈ ہسپتال میں خواتین کا پہلا وارڈ بنوایا۔ 1

    ان کے عطیات کی فہرست لمبی ہے: حسینی دالان کی مرمت کے لیے 20,000 روپے — انگریزی مضمون کے مطابق وہ خود سنی ہوتے ہوئے شیعہ مرکز کی سرپرستی کرتے تھے — مکہ میں نہرِ زبیدہ کی مرمت کے لیے 40,000 روپے، اور قحط، سیلاب اور زلزلوں کے متاثرین کے لیے ہندوستان سے آئرلینڈ اور ایران تک امداد؛ بنگلہ پیڈیا کے مطابق بہت سے لوگوں نے ان کے مال سے حج کیا۔ 1 2 وہ «ویکلی ڈھاکہ نیوز» (1856ء–1858ء) کے شریک مالک تھے، جو ڈھاکہ کا پہلا اخبار تھا، اور 1876ء میں بمبئی کی تھیٹر ٹیم بلا کر ڈھاکہ کے اسٹیج پر پہلی بار زنانہ اداکارائیں پیش کیں۔ 1

    ان کا انتقال احسن منزل، ڈھاکہ میں پیر 24 اگست 1896ء کو ہوا اور بیٹے احسان اللہ ان کے جانشین ہوئے؛ تدفین کے بارے میں انگریزی مضمون کرتالاب خان مسجد اور بنگلہ پیڈیا بیگم بازار کی خاندانی قبرستان بتاتی ہے — مسجد اسی بیگم بازار میں ہے۔ 1 2 3

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ماخذ انھیں راج کے وفادار کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور 1857ء کے اپنے موقف کی انھوں نے خود یہ وجہ بتائی کہ شہر کے لوگوں کا اعتماد اور امن برقرار رہے؛ بنگلہ پیڈیا یہ بھی درج کرتی ہے کہ بعد میں انھوں نے ہارے ہوئے سپاہیوں کی معافی کی کوشش کی۔ 1 2 بنگلہ پیڈیا انھیں «شدید مذہبی آدمی» کہتی ہے اور تھیٹر میں زنانہ اداکاروں کی حمایت پر انھیں «آزاد خیال اور تعصب سے پاک» قرار دیتی ہے۔ 2 ان کے مسلک کا نام صرف انگریزی مضمون دیتا ہے — اس کے خانے میں ان کا مذہب سنی اسلام درج ہے — اس لیے ڈیٹا ریکارڈ میں ان کا اعتقاد اس اکیلے شاہد کے بیان کے ساتھ «نامعلوم» رکھا گیا ہے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دكا
    Died in
    دكا
    Buried in
    دكا
    Built
    منزل إحسان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری

    ماخذ

    1. Khwaja Abdul Ghani — English Wikipedia
    2. Khwaja Abdul Ghani — Banglapedia
    3. Khwaja Abdul Ghani — Wikidata Q6403412
    • Khwaja Abdul Ghani — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خواجہ عبد الغنی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khwaja-abdul-ghani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔