مریانا مراش

مريانا مراش

–

حلب

حلب سے تعلق رکھنے والی سوری مصنفہ اور شاعرہ (1848–1919)، نہضہ کی اہم شخصیت؛ شاعری کا مجموعہ («بنت فكر»، 1893) شائع کرنے والی پہلی سوری خاتون، عربی صحافت میں لکھنے والی اولین خواتین میں سے ایک، اور اپنے حلبی ادبی صالون کی میزبان۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: أكبر إلهآبادي · علی حاجی اکوشا · دلی فواد پاشا · سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے) · حسن رامی پاشا

مکان میں

حلب

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مریانا بنت فتح اللہ بن نصر اللہ مراش (1848–1919) نہضہ یعنی عرب نشاۃ ثانیہ کی سوری مصنفہ اور شاعرہ تھیں۔ انہوں نے عرب دنیا میں ادبی صالونوں کی روایت کو ازسرِ نو زندہ کیا، وہ شاعری کا مجموعہ شائع کرنے والی پہلی سوری خاتون تھیں، اور شاید عربی روزناموں میں لکھنے والی پہلی خاتون بھی۔ 1 2

    پس منظر اور تعلیم

    وہ عثمانی شام کے شہر حلب میں ایک قدیم ملکانی تاجر خاندان میں پیدا ہوئیں جو اپنے ادبی ذوق کے لیے مشہور تھا۔ اس خاندان نے اٹھارویں صدی میں دولت اور مقام حاصل کر لیا تھا، اگرچہ اسے آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا: ان کے ایک رشتے دار بطرس مراش 1818 میں کیتھولک و آرتھوڈوکس تصادم میں مارے گئے اور قس جبرائیل مراش سمیت دیگر ملکانی کیتھولک حلب سے جلاوطن ہوئے۔ ان کے والد فتح اللہ نے 1849 میں ایک رسالہ لکھ کر فرقہ وارانہ تصادم کو کم کرنے کی کوشش کی اور ایک بڑی ذاتی لائبریری بنائی جس سے اپنے تین بچوں — فرنسیس، عبد اللہ اور مریانا — کو خصوصاً عربی زبان و ادب کی تعلیم دی۔ 1 2

    ان کے والد نے پانچ سال کی عمر میں انہیں ایک مارونی اسکول میں داخل کیا؛ بعد میں انہوں نے حلب میں سینٹ جوزف کی راہباؤں سے تعلیم پائی اور آخر میں بیروت کے ایک انگریزی اسکول میں پڑھا، ساتھ ہی والد اور بھائیوں سے بھی تربیت حاصل کی۔ اس زمانے میں جب مشرقی بحیرۂ روم کی خواتین کو تعلیم نہیں ملتی تھی، لڑکی کو پڑھانا رائج عقیدے کو چیلنج تھا۔ وہ فرانسیسی، عربی اور ریاضی میں ماہر تھیں، قانون بجاتی اور خوب گاتی تھیں۔ حلبی مؤرخ محمد راغب الطباخ نے لکھا کہ وہ حلب میں یکتا تھیں اور لوگ انہیں دوسری نگاہ سے دیکھتے تھے۔ 1

    بہت سے خواستگاروں کے باوجود وہ ابتدا میں شادی نہ کرنا چاہتی تھیں؛ والدہ کے انتقال کے بعد انہوں نے ایک مقامی مسیحی خاندان کے فرزند حبیب غضبان سے شادی کی، جن سے ان کے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ 1 2

    ادبی زندگی

    1870 کے آس پاس سے انہوں نے بیروت کے رسالوں «الجنان» اور «لسان الحال» میں مضامین اور نظمیں لکھنا شروع کیا۔ اپنے مضامین میں انہوں نے عرب خواتین کے حالات پر تنقید کی اور انہیں — ان کی مذہبی وابستگی سے قطع نظر — تعلیم حاصل کرنے اور اپنی بات کہنے کی ترغیب دی۔ ان کا شعری مجموعہ «بنت فكر» 1893 میں بیروت سے شائع ہوا، جو سلطان عبد الحمید ثانی کی مدح میں نظم لکھ کر انہوں نے عثمانی حکومت سے طباعت کی اجازت حاصل کی تھی۔ ان کی شاعری اپنے بھائی فرنسیس کے مقابلے میں زیادہ روایتی تھی، جیسا کہ ان کے مرثیے سے ظاہر ہوتا ہے، لیکن وہ فرانسیسی رومانوی شعرا، خصوصاً لامارتین اور مُسے، سے بھی خوب واقف تھیں۔ ان کی غیر ادبی تصانیف میں «تاريخ سورية الحديث» بھی شامل ہے، جو اس موضوع پر پہلی کتاب تھی۔ 1 2

    صالون

    وہ اس ادبی صالون کے لیے مشہور ہوئیں جو وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہائش گاہ میں منعقد کرتی تھیں۔ یورپ کے ایک سفر سے متاثر ہو کر انہوں نے واپسی پر اپنے گھر کو معروف ادیبوں کی باقاعدہ مجلس بنا دیا، جہاں ادب، موسیقی اور سیاسی و سماجی مسائل پر گفتگو ہوتی؛ ارکان میں حلب کے معروف دانشور، سیاست دان اور غیر ملکی سفارت کار شامل تھے، اور وہ خود قانون بجا کر اور گا کر محفل میں شریک ہوتیں۔ جوزف زیدان نوٹ کرتے ہیں کہ بیشتر ارکان پہلے ہی ان کے خاندانی گھر کے باقاعدہ مہمان تھے۔ 1

    وہ 1919 میں حلب میں وفات پا گئیں۔ 1 2

    ان کے مذہب پر ایک نوٹ

    انگریزی مضمون کہتا ہے کہ وہ ایک قدیم ملکانی خاندان میں پیدا ہوئیں اور عربی مضمون کہتا ہے کہ ان کا خاندان ملکانی فرقے سے تھا — دونوں صورتوں میں یہ بات خاندان کے بارے میں ہے، خود مریانا کے بارے میں نہیں — جبکہ ویکیپیڈیا کے مضامین انہیں ملکانی و مسیحی زمروں میں رکھتے ہیں، اور زمرہ بندی ثبوت نہیں ہوتی۔ کوئی متن خود ان کے لیے کوئی کلیسائی وابستگی بیان نہیں کرتا، اس لیے ان کے اندراج میں ایمان «نامعلوم» درج ہے اور یہ شواہد محفوظ رکھے گئے ہیں۔ 1 2 3 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    حلب
    Died in
    حلب
    Sibling of
    فرنسیس مراش

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فرنسیس مراش· حلب· نقل العادل إلى حلب والملك العزيز إلى مصر· الفارابي في بلاط سيف الدولة بحلب· نقل الملك الصالح إلى حلب وتسلط سعد الدين كمشتكين· مناقلة حلب من الموصل إلى سنجار· معركة أعزاز (١٠٣٠)· ملك الروم مدينة حلب

    ماخذ

    1. Maryana Marrash — English Wikipedia
    2. Maryana Marrash — Arabic Wikipedia
    3. Maryana Marrash — Urdu Wikipedia
    4. Maryana Marrash — Wikidata Q3296283
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مریانا مراش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/maryana-marrash/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فرنسیس مراش

    حلب سے تعلق رکھنے والے سوری مصنف، شاعر اور طبیب (1836–1874)، نہضہ کی سرکردہ شخصیت؛ «غابة الحق» (تقریباً 1865) اور «رحلة باريس» (1867) کے مصنف، جدید عربی ادب میں نثری شاعری کے اولین لکھنے والوں میں سے ایک، اور اصلاح، تعلیم اور انسانی آزادی کے داعی۔