محمد محمود الطبلاوی

محمد محمود الطبلاوي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

القاهرة

مصری قاریِ قرآن ⁦(1934ء–2020ء)⁩، جنھوں نے بارہ برس کی عمر میں محفلوں میں تلاوت شروع کی، الازہر اور سرکاری تقریبات میں پڑھا، بین الاقوامی مقابلوں کے منصف رہے اور 2011ء سے 12 رمضان 1441ھ کو اپنی وفات تک مصر کی نقابتِ قراء کے سربراہ رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
reciter · judge
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی · علي يافعي · طاہر عثمان باؤچی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات2020

    ڈیجیٹل نقش

    ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:ararzen (2026-11-06 کو پڑھا گیا)

    ویکی ڈیٹا:Q12240983

    خلاصہ

    محمد محمود الطبلاوی (14 نومبر 1934ء – 5 مئی 2020ء) مصری قاریِ قرآن تھے اور بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں مصری تلاوت کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے جامع ازہر اور سرکاری تقریبات میں تلاوت کی، بہت سے بین الاقوامی مقابلوں میں منصف رہے، اور 2011ء سے اپنی وفات تک مصر کی نقابتِ قراء کے سربراہ رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ جیزہ کے میت عقبہ میں پیدا ہوئے؛ خاندان کی جڑیں شرقیہ اور منوفیہ میں تھیں۔ نو برس کی عمر میں عبد الفتاح القاضی، احمد مرعی، رزق خلیل حبہ، محمود حافظ برانق اور عبد الحمید المسیری جیسے اساتذہ سے قرآن حفظ کیا۔ 1 3

    بارہ برس کی عمر سے وہ اکیلے قرآنی محفلیں پڑھنے لگے اور بڑے سرکاری افسروں اور معروف خاندانوں کی تعزیتی مجالس میں بلائے جانے لگے؛ پندرہ سال کے ہونے سے پہلے ان کی تلاوتیں ریڈیو کے مشہور قاریوں کے انداز پر ریکارڈ ہوئیں، اور اسی عمر میں وہ پیشہ ور قاری بنے۔ 1 2

    مسیرت

    انھوں نے بڑی مذہبی تقریبات میں، جن میں مصری صدور بھی شریک ہوتے، تلاوت کی۔ ان کی آواز کے اتار چڑھاؤ اور سانس پر قابو کا ذکر کیا جاتا ہے؛ انھوں نے قرآن کئی متواتر قراءتوں میں ریکارڈ کیا اور جامع ازہر میں قاری رہے۔ 2

    وہ یورپ اور ایشیا کے بہت سے ملکوں میں تلاوت اور بین الاقوامی مقابلوں کی منصفی کے لیے گئے۔ انگریزی مضمون، الاہرام آن لائن اور اِکنا کے حوالے سے، بتاتا ہے کہ سعودی عرب کے ایک سفر میں وہ شاہ خالد بن عبد العزیز کی دعوت پر کعبہ کے اندر گئے اور وہاں تلاوت کی۔ 1 2

    2011ء میں وہ ابو العینین شعیشع کے بعد نقابتِ قراء کے سربراہ منتخب ہوئے اور وفات تک اسی منصب پر رہے؛ ان کے بعد محمد صالح حشاد آئے۔ 84 برس کی عمر میں انھوں نے پیشہ ورانہ تلاوت ترک کر دی۔ 2

    وفات

    وہ منگل 12 رمضان 1441ھ، 5 مئی 2020ء کو بیماری کے بعد فوت ہوئے۔ عجوزہ میں ان کے گھر کے سامنے نمازِ جنازہ ہوئی اور 6 مئی کو جنوبی قاہرہ کے البساتین میں خاندانی قبرستان میں تدفین ہوئی؛ کووِڈ-19 کی پابندیوں کے سبب جنازہ خاندان اور قاریوں کے نمائندوں تک محدود رہا۔ 1 2

    شیخ الازہر احمد الطیب نے انھیں جدید تاریخِ تلاوت کی اہم شخصیت کہا، اور وزیرِ اوقاف محمد مختار جمعہ نے ان کی خدمات اور نقابت کی قیادت کو یاد کیا۔ 2

    ڈیجیٹل موجودگی

    6 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے تین نسخوں (عربی، مصری عربی اور انگریزی) میں مضامین تھے۔ 3

    مراجع

    • عربی ویکیپیڈیا مضمون، نظرِ ثانی 16 جون 2026ء۔ 1

    • انگریزی ویکیپیڈیا مضمون، نظرِ ثانی 6 نومبر 2026ء۔ 2

    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q12240983۔ 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Buried in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· باب الفتوح، قاہرہ· باب النصر، قاہرہ· باب زویلہ، قاہرہ· بئرِ یوسف، قلعۂ قاہرہ· قلعۂ قاہرہ ⁦(قلعۂ صلاح الدین)⁩· دار الحكمة بالقاهرة· سلطان الاشرف اینال کا جنازی مجموعہ، قاہرہ

    ماخذ

    1. Mohamed Mahmoud al-Tablawi — Arabic Wikipedia
    2. Mohamed Mahmoud al-Tablawi — English Wikipedia
    3. Mohamed Mahmoud al-Tablawi — Wikidata Q12240983
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد محمود الطبلاوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohamed-mahmoud-al-tablawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.