مولای سلیمان بن محمد

مولاي سليمان بن محمد

–

مراكش

مولای سلیمان بن محمد (28 جون 1766ء – 28 نومبر 1822ء) 1792ء سے 1822ء تک المغرب کے علوی سلطان اور سلطان محمد سوم کے بیٹے تھے۔ فاس کے علما کی تربیت یافتہ عالم سلطان تھے؛ بھائیوں کے خلاف سات سالہ خانہ جنگی میں کامیاب ہوئے، المغرب کے ساحلوں سے بحری قزاقی ختم کی، اور والد کی کھلی تجارتی پالیسی الٹ کر مملکت کو یورپ کے لیے بند کر دیا، البتہ امریکہ سے قریبی تعلقات رکھے اور 1821ء میں اسے طنجہ میں لیگی شن کی عمارت عطا کی۔ 1811ء کے بعد وہابی دعوت سے متاثر ہو کر اولیا کی تعظیم میں غلو اور صوفیانہ بدعات کے خلاف مہم چلائی۔ 1819ء میں آیت اومالو کے ہاتھوں شکست اور مختصر قید کے بعد ان کی گرفت کمزور پڑ گئی؛ مراکش میں وفات پائی اور بھتیجے عبد الرحمن کو جانشین نامزد کر گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · writer
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1740عیسوی1750عیسوی1760عیسوی1770عیسوی1780عیسوی1790عیسوی1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد الرحمن الجبرتي · عبد الرحمن ابراہیم ابن سوری · أحمد الأحسائي · اکبر شاہ ثانی · الرحمتي

مکان میں

مراكش

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مولای سلیمان بن محمد (28 جون 1766ء – 28 نومبر 1822ء) 1792ء سے 1822ء تک المغرب کے علوی سلطان رہے 1۔ سلطان محمد سوم کے بیٹے تھے؛ والد کی مرکزیت کی پالیسی جاری رکھی، المغرب کے ساحلوں سے عرصے سے چلنے والی بحری قزاقی ختم کی، اور والد کی یورپ سے کھلی تجارتی پالیسی الٹ دی، البتہ امریکہ سے قریبی تعلقات برقرار رکھے 1۔

    تربیت

    سلیمان سیدی محمد سوم اور ان کی ایک زوجہ، جو احلاف قبیلے کی خاتون تھیں، کے ہاں پیدا ہوئے 1۔ والد نے ان کی دینی تعلیم کی خاص نگہداشت کی: انہوں نے آسفی کی ایک زاویہ میں قرآن حفظ کیا، قصر الکبیر میں سیرت پڑھی، اور 1783ء سے تافیلالت میں فاس کے ممتاز علما جیسے عبد القادر بن شقرون اور حمدون بن الحاج سے تعلیم پائی 1۔ عربی مضمون اس میں اضافہ کرتا ہے کہ قرآن کے ان کے پہلے استاد آسفی کے قاری عبد الوہاب اجانا تھے، فقیہ حمدون بن الحاج ان کے اتالیق مقرر ہوئے، اور مغربی مؤرخین متفق ہیں کہ علم کی لگن کی وجہ سے وہ والد کو سب بھائیوں سے زیادہ عزیز تھے؛ والد کا ان کے بارے میں قول نقل ہے کہ سلیمان کی طرف سے انہیں کبھی کوئی ناگوار بات نہیں پہنچی اور وہ ان سے راضی ہیں 2۔ وہ شریعت کا بڑا احترام رکھتے تھے 1۔

    خانہ جنگی اور استحکام

    جب ان کے سوتیلے بھائی الیزید 17 فروری 1792ء کو مراکش میں وفات پا گئے تو مارچ میں اہلِ فاس نے سلیمان کو تخت کی پیشکش کی؛ انہوں نے اس شرط پر قبول کیا کہ انہیں بھائیوں سے لڑنا نہ پڑے، تاہم کشمکش 1795ء تک اور بعض حصے 1798ء تک چلے 1 2۔ 1798ء میں انہوں نے وجدہ اور مشرقی صوبے عثمانیوں سے واپس لیے، اور 1800ء میں توات کے باشندوں نے سلطان کو محصول دینا مان لیا، یوں مخزن کی عملداری جنوب تک پھیل گئی 1۔ مراکش میں انہوں نے مسجد علی بن یوسف کو ازسرِ نو تعمیر کیا جو 1819ء یا 1820ء تک مکمل ہوئی 1۔

    یورپ سے بندش اور امریکہ

    1798ء میں مصر و شام پر فرانسیسی حملے کی خبریں جب فرانسیسی سپاہیوں کے مصریوں سے لوٹ مار و بدسلوکی کی اطلاعات کے ساتھ المغرب پہنچیں تو سلیمان نے والد کی خارجی تجارتی پالیسی الٹ دی: یورپ سے تجارتی تعلقات گھٹا دیے گئے، غیر ملکی تاجروں کو جانے کی ترغیب دی گئی، اور سلطان نے مغربی داخلہ کی طرف رجوع کیا جہاں سے روایتی قرآنی محصولات، زکاۃ و عشر، وصول کیے 1۔ طرابلس جنگ کے دوران جون 1802ء میں المغرب نے امریکہ سے جنگ کا اعلان کیا، مگر ستمبر 1803ء میں ایڈورڈ پریبل کی طنجہ میں سلطان سے ملاقات پر امن بحال ہو گیا 1۔ 1821ء میں انہوں نے امریکہ کو طنجہ میں مٹی و پتھر کی دو منزلہ عمارت عطا کی — یہ امریکی حکومت کی بیرون ملک پہلی ملکیت تھی — جو 140 سال امریکی لیگی شن و قونصل خانے کا مرکز رہی 1۔

    مذہبی پالیسی

    ان کے عہد میں وہابی تحریک المغرب پہنچی: سعود بن عبد العزیز نے اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کو اپنی دعوت کی وضاحت کے خطوط بھیجے، اور ان کا خط 1811ء میں سلیمان کو پہنچا 1۔ عربی مضمون کے مطابق سلطان نے علما سے مشورہ کیا اور بیٹے ابراہیم کے ہمراہ ایک علمی وفد حج کے لیے بھیجا تاکہ دعوت کا قریب سے جائزہ لے؛ وفد نے حرمین کے علما سے مناظرہ کیا اور واپس آ کر بتایا کہ جو کچھ دیکھا وہ ظاہرِ شریعت کے مطابق تھا، جس کے بعد سلطان نے مردوں کی تعظیم میں غلو کے خلاف اپنا مشہور خط لکھا 2۔ احیائی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنے اختیار سے مذہبی تقریبات میں موسیقی و رقص کی مذمت کی، اولیا کے مزارات کی زیارت اور مذہبی تہواروں پر پابندی لگائی، حتیٰ کہ 1812ء میں والد کی قبر پر بنا قبہ بھی اس بنا پر ہٹا دیا کہ وہ حد سے بڑھی آرائش ہے 1۔ الناصری کے مطابق انہوں نے ایک کتاب لکھی جس میں ان صوفیوں سے خبردار کیا جو — ان کے بیان میں — سنت سے انکار اور بدعت کی حمایت کرتے تھے، نیک لوگوں کی زیارت کا درست طریقہ بیان کیا، اور ایک خطبہ لکھا جس میں اللہ کی توحید پر زور اور بدعات کی مذمت تھی اور جسے تمام جامع مساجد میں تقسیم کرنے کا حکم دیا، اور صوفی نماز خانے بند کرا دیے 1۔

    شکست، بغاوتیں اور وفات

    مئی 1819ء میں سلطان نے وسطی اطلس کے آیت اومالو کے خلاف بڑی مہم کی قیادت کی؛ جنگ کے دوسرے دن ان کا حلیف محمد بن الغازی دشمن سے جا ملا، قبائلی دستے انہیں چھوڑ گئے، اور سلیمان خود قیدی بنے — مگر شریف ہونے کے ناطے ان سے پورا احترام کیا گیا اور تین دن بعد رہا کر دیا گیا 1۔ اس کے بعد 1820ء سے 1822ء تک فاس و تطوان میں بغاوتیں ہوئیں جنہیں طویل محاصروں ہی سے دبایا جا سکا 1۔ 1822ء میں مراکش کے قریب ایک اور شکست کے بعد ان کے پاس اقتدار نہ ہونے کے برابر رہ گیا؛ انہوں نے اہلِ فاس کو ہدایت کی کہ ان کی وفات پر بھتیجے عبد الرحمن کو سلطان بنائیں؛ عربی مضمون ان کی تحریری وصیت محفوظ رکھتا ہے جس میں انہوں نے عبد الرحمن کو اس لیے چنا کہ — ان کے الفاظ میں — وہ نہ شراب پیتا ہے، نہ زنا کرتا ہے، نہ جھوٹ بولتا ہے، نہ خیانت کرتا ہے، اور نہ بلا وجہ خون و مال پر ہاتھ ڈالتا ہے 2۔ سلیمان 28 نومبر 1822ء کو وفات پا گئے اور عبد الرحمن بن ہشام جانشین ہوئے 1۔

    مذہبی رجحان

    کسی بھی پڑھے گئے ماخذ نے اس شخص کے لیے کوئی فقہی مذہب نامزد نہیں کیا، اور وکی ڈیٹا میں صرف عام قدر «اسلام» درج ہے 3۔ انگریزی مضمون کا متن انہیں 1857ء کی ایک نشریہ کے حوالے سے وہابیت کا پیرو کہتا ہے اور اس کا معلوماتی خانہ ان کا مذہب «سنی اسلام (وہابیت)» دیتا ہے 1۔ ان کا موثق عمل — سعود کے خط پر علما سے مشورہ، 1811ء کا علمی وفد، مردوں کی تعظیم میں غلو کے خلاف خط، مزارات کی زیارت اور تقریبات میں موسیقی و رقص پر پابندی، والد کی قبر کا قبہ ہٹانا، صوفیانہ اعمال کی تنقید پر رسالہ اور توحید پر خطبہ 1 2 — ان کے ریکارڈ میں مکمل درج ہے۔ ان کے علوی دربار کا مذہب مالکی تھا؛ یہ سلطانی سیاق ہے، خود اس شخص کے مذہب کی نامزدگی نہیں، اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج کیا گیا ہے۔

    محققین کے لیے نوٹس

    ان کی جائے پیدائش تین طرح آئی ہے — انگریزی مضمون اور اردو مضمون کی تمہید میں تافیلالت، عربی مضمون میں مراکش، اور وکی ڈیٹا و اردو معلوماتی خانے میں فاس 4 3 — اس لیے ان کے ریکارڈ میں جائے پیدائش کی کوئی صلہ نہیں۔ دن بہرحال پختہ ہے: عربی مضمون کی 20 محرم 1180ھ انگریزی مضمون کی 28 جون 1766ء سے بالکل ملتی ہے 2۔ مراکش میں 28 نومبر 1822ء کی وفات، جس کے ساتھ عربی مضمون 13 ربیع الاول 1238ھ جوڑتا ہے، تینوں مضامین اور وکی ڈیٹا میں متفق ہے 3۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    محمد بن عبداللہ علوی
    Died in
    مراكش

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فتح مراكش الموحدي· يوسف بن تاشفين يؤسس مراكش· ابن رشد طبيباً للخليفة (١١٨٢)· جامع الكتبية بمراكش· عبد الواحد بن إدريس الموحدي· عبد الواحد الثاني المأمون الموحدي· ابن بقي الظاهري قاضي مراكش· ابن قطرة

    ماخذ

    1. Slimane of Morocco — English Wikipedia
    2. Sulayman of Morocco — Arabic Wikipedia
    3. Slimane of Morocco — Wikidata Q1355038
    4. Slimane of Morocco — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مولای سلیمان بن محمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/moulay-slimane/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فتح مراكش الموحدي

    Draft card for the Almohad conquest of Marrakesh in 1146–47, the Almoravid capital's fall to Abd al-Mu'min; its sources are not yet checked on the page.