ایک نظر میں
- کردار
- عالم · واعظ · writer
- دور
- العصر الحديث
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
سنی (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد متولی الشعراوی مصر کے مفسرِ قرآن، عالمِ دین اور سابق وزیرِ اوقاف تھے۔ وہ 15 اپریل 1911 (17 ربیع الاول 1329ھ) کو صوبہ دقہلیہ کے مرکز میت غمر کی بستی دقادوس میں پیدا ہوئے اور 17 جون 1998 (22 صفر 1419ھ) کو وفات پائی۔ 1 2
وہ اپنی «خواطر» سے مشہور ہوئے جن میں انہوں نے قرآن کریم کی سادہ اور آسان زبان میں تفسیر پیش کی، اور یوں عرب اور اسلامی دنیا کے لاکھوں مسلمانوں تک پہنچے؛ بعض نے انہیں «امام الدعاة» (داعیوں کے امام) کا لقب دیا۔ 1 انگریزی مضمون انہیں مصر کے مقبول ترین اور کامیاب ترین داعیوں میں شمار کرتا ہے اور انہیں ستر، اسی اور نوے کی دہائیوں میں «مصری عوامی ثقافت کی نمایاں ترین علامتوں» میں سے ایک قرار دیتا ہے۔ 3
ابتدائی زندگی اور تعلیم
شعراوی دقادوس میں پیدا ہوئے اور گیارہ برس کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر چکے تھے۔ 1
وہ 1922 میں زقازیق کے ازہری ابتدائی ادارے میں داخل ہوئے، 1923 میں ابتدائی سند حاصل کی، پھر ازہری ثانوی ادارے میں داخل ہوئے جہاں شعر و ادب سے ان کی دلچسپی بڑھی اور ساتھی طلبہ نے انہیں طلبہ انجمن اور ادبی انجمن کا صدر منتخب کیا۔ 1
ان کی زندگی کا اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کے والد نے انہیں قاہرہ کے ازہر میں داخل کرانا چاہا، جبکہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھیتوں میں رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے شرط رکھی کہ والد انہیں ورثے، زبان، علومِ قرآن، تفاسیر اور حدیث کی بڑی بڑی کتابیں خرید دیں۔ والد نے ان کی چال سمجھ لی اور سب کچھ خرید دیا اور کہا: «بیٹے، میں جانتا ہوں کہ یہ ساری کتابیں تمہارے نصاب میں شامل نہیں، لیکن میں نے انہیں اس لیے خریدا کہ تمہیں علم کے وسائل مہیا کروں۔» 1
وہ 1937 میں عربی زبان کے کلیے میں داخل ہوئے، قومی تحریک اور ازہری تحریک میں سرگرم رہے، اور تقریریں کرنے کے باعث ایک سے زیادہ بار گرفتار ہوئے۔ وہ 1940 میں کلیے سے فارغ التحصیل ہوئے (انگریزی مضمون 1941 بتاتا ہے) اور 1943 میں تدریس کے اجازے کے ساتھ «عالمیہ» کی سند حاصل کی۔ 1 3
خدمات
فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ طنطا کے دینی ادارے میں مقرر ہوئے، پھر زقازیق اور اسکندریہ کے اداروں میں رہے۔ 1 3
1950 میں وہ سعودی عرب منتقل ہوئے اور مکہ مکرمہ کی جامعہ ام القریٰ میں شریعت کے استاد مقرر ہوئے؛ وہاں انہیں اپنی اصل مہارت یعنی زبان کے بجائے عقائد پڑھانے پڑے اور انہوں نے اس میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ 1 2
وطن واپسی پر وہ ازہری اور دعوتی مناصب پر فائز ہوتے رہے: 1960 میں طنطا کے ادارے کے نائب مدیر، 1961 میں وزارتِ اوقاف میں دعوتِ اسلامی کے مدیر، اور پھر شیخ الازہر حسن مامون کے دفتر کے مدیر مقرر ہوئے۔ 1
1966 میں وہ ازہر کے وفد کے سربراہ بن کر الجزائر گئے اور تقریباً سات برس وہاں تدریس کی۔ واپسی پر وہ جامعہ ملک عبد العزیز میں پڑھاتے رہے: 1970 میں مکہ مکرمہ کی کلیۂ شریعت میں مہمان استاد اور 1972 میں جامعہ کے شعبۂ تحصیلاتِ علیا کے صدر ہوئے۔ 1 3
نومبر 1976 میں وزیرِ اعظم ممدوح سالم نے انہیں وزیرِ اوقاف و امورِ ازہر مقرر کیا اور وہ اکتوبر 1978 تک اس منصب پر رہے۔ انہیں مصر میں پہلا اسلامی بینک، فیصل اسلامک بینک، قائم کرنے کے لیے پہلا وزارتی فیصلہ جاری کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1 3
انہیں مشیخۂ ازہر اور کئی اسلامی ممالک میں مناصب کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے دعوت کے لیے خود کو وقف کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے انکار کر دیا۔ 1987 میں وہ عربی زبان اکیڈمی (مجمع الخالدین) کے رکن منتخب ہوئے۔ 1 3
ٹیلی ویژن تفسیر
مصری ٹیلی ویژن پر ان کی پہلی پیشی 1973 میں احمد فراج کے پروگرام «نور علیٰ نور» میں ہوئی؛ انہوں نے تفسیر کے تعارف کے بعد سورۂ فاتحہ سے آغاز کیا اور سورۂ ممتحنہ کے آخر اور سورۂ صف کے آغاز تک پہنچے، اور وفات نے انہیں پورے قرآن کی تفسیر مکمل نہ کرنے دی۔ 1
اپنے طریقۂ تفسیر کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: «قرآن کریم کے بارے میں میرے خواطر قرآن کی تفسیر نہیں ہیں؛ یہ وہ پاکیزہ القا ہیں جو کسی مومن کے دل پر ایک آیت یا چند آیات کے بارے میں وارد ہوتے ہیں۔» 1
ان کے طریقے کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں: زبان کو متن کے فہم کی بنیاد بنانا، قرآن کی فصاحت کو اجاگر کرنا، سماجی اصلاح، مستشرقین کے اعتراضات کا جواب، ذاتی تجربات کا ذکر، مصری عوامی لہجے کے ذریعے گہرائی اور سادگی کا امتزاج، اور صوفیانہ رنگ۔ 1
مواقف
1954 میں جب مقامِ ابراہیم کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی تجویز سامنے آئی تو شعراوی نے اسے شریعت کے خلاف سمجھا اور بادشاہ سعود کو پانچ صفحات کا ٹیلی گرام بھیجا جس میں مسئلہ فقہی اور تاریخی اعتبار سے پیش کیا؛ بادشاہ نے علما کو جمع کیا، انہوں نے ٹیلی گرام کے مندرجات سے اتفاق کیا، اور مقام کو منتقل کرنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا۔ 1
انگریزی مضمون کے مطابق انہوں نے اعضا کے عطیے اور فروخت کے بارے میں فتویٰ دیا کہ انسان اپنے جسم کا مالک نہیں، اس لیے اعضا کی فروخت حرام ہے، اور اس فتوے کے بعد مصری پارلیمنٹ نے اعضا کی پیوند کاری کی قانون سازی بار بار روکی۔ 3
تصانیف اور وفات
ان کی تصانیف میں سب سے مشہور ان کی تفسیرِ قرآن «تفسیر الشعراوی» ہے؛ ان کی دیگر کتابوں میں «قضیة السنة» اور «الاسراء والمعراج» شامل ہیں۔ 1 4
وہ 17 جون 1998 کو وفات پا گئے۔ ان کی وفات کی وجہ کے بارے میں خبریں مختلف ہیں: بعض ذرائع نے دل کا دورہ بتایا اور بعض نے دمے کی پیچیدگی۔ بتایا جاتا ہے کہ قاہرہ کی سڑکوں پر دس لاکھ سے زیادہ سوگوار جمع ہوئے۔ 3
انہیں متعدد اعزازات ملے، جن میں درجۂ اول کا وسامِ استحقاق اور 1983 اور 1988 میں درجۂ اول کا وسامِ جمہوریہ شامل ہیں، اور دبئی بین الاقوامی قرآن ایوارڈ نے اپنی پہلی ہی دور میں، 1418ھ/1998 میں، انہیں «سال کی اسلامی شخصیت» منتخب کیا۔ 1 2
ان کی زندگی پر ٹیلی ویژن سلسلہ «امام الدعاة» بنایا گیا (انگریزی مضمون 2002 اور عربی مضمون 2003 بتاتا ہے) جس میں حسن یوسف اور عفاف شعیب نے اداکاری کی۔ 3 1
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کے بعد کے تراجم اور ترامیم کو واضح تازہ کاری کی تاریخوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً جانچنے کی ضرورت ہے۔
شیخ عمر عبدالکافی کے درس سے: الدین القیم
شیخ عمر عبدالکافی محمد متولی الشعراوی کا ذکر دو مقامات پر کرتے ہیں۔ وہ شیخ الشعراوی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے الجزائر کی سڑک پر ایک شخص کو لفٹ دی، جو ایک گورنر سے اپنا حق دلوانے کا منتظر تھا، اور اسے اپنے ساتھ لے گئے (needs_source) 5۔
وہ کہتے ہیں کہ الشعراوی اور الغزالی ان علماء میں شامل تھے جن کے قریب وہ رہے، اور یہ علماء ملاقات پر ان کے بارے میں پوچھتے تھے 6۔
تعلقات
- Lived in
- القاهرة· مكة المكرمة· الجزائر
- Authored
- الإسراء والمعراج (الشعراوي)· تفسير الشعراوي (الخواطر)
- Taught
- نادیہ عمارہ
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ابن الفارض· محمد ماکین صینی· وانگ جنگژائی· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· دار الندوة· الكعبة· المسجد الحرام
ماخذ
- محمد متولي الشعراوي — ويكيبيديا العربية
- Muhammad Mutawalli al-Sha'rawi — Wikidata Q4164538
- Muhammad Mutawalli al-Sha'rawi — English Wikipedia
- قضية السنة — محمد متولي الشعراوي
- أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Dinu Al Qayem، قسط 7, 01:00:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Dinu Al Qayem، قسط 11, 01:00:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- الأعلام — خير الدين الزركلي
- الإسراء والمعراج — محمد متولي الشعراوي
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد متولی الشعراوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-mutawalli-al-shaarawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.