سعید حلیم پاشا

سعيد حليم باشا

–

القاهرة → إسطنبول

عثمانی سیاست دان اور اسلامی مفکر (1864-1921)، محمد علی پاشا والیِ مصر کے پوتے؛ 1913 سے 1917 تک سلطنتِ عثمانیہ کے صدرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ رہے، جنگ میں شمولیت کے مخالف ہونے کے باوجود عثمانی جرمن اتحاد پر دستخط کیے اور آرمنی بے دخلی کے احکامات پر بھی دستخط کیے؛ جنگ کے بعد مالٹا جلاوطن ہوئے، بری ہوئے اور روم میں قتل کر دیے گئے۔ ان کی آٹھ فکری رسائل «بحران‌لارمز» (1919) میں جمع ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
وزیر · سیاست دان · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الرشید ابراہیم · عدلی يکن · أحمد الحملاوي · أحمد راسم

مکان میں

القاهرةإسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سعید حلیم پاشا (19 فروری 1864 – 5 دسمبر 1921) عثمانی سیاست دان اور اسلامی فکر کے اہم مفکر تھے، اور مصر کے بانی محمد علی پاشا کے پوتے تھے۔ 1 2

    1913 سے 1917 تک وہ سلطنتِ عثمانیہ کے صدرِ اعظم رہے، لیکن اصل اقتدار انجمنِ اتحاد و ترقی کے پاس تھا۔ انہوں نے عثمانی جرمن اتحاد پر دستخط کیے حالانکہ وہ جنگ میں شمولیت کے مخالف تھے، اور آرمنی بے دخلی کے احکامات پر بھی دستخط کیے۔ 3 2

    زندگی اور مناصب

    وہ قاہرہ کے قصرِ شبرا میں پیدا ہوئے، 1870 میں خاندان استنبول منتقل ہوا؛ نجی اساتذہ سے عربی، فارسی، انگریزی اور فرانسیسی سیکھی اور سوئٹزرلینڈ میں سیاسیات پڑھی۔ 3 2

    1888 میں شوریٰ الدولة کے رکن بنے، 1903 میں ترکِ شبان سے تعلق کے الزام میں جلاوطن ہوئے، 1908 میں واپس آ کر سینیٹ کے رکن بنے، اور محمود شوکت پاشا کے قتل (11 جون 1913) کے اگلے دن صدرِ اعظم مقرر ہوئے۔ 2 3

    1914 میں بحری بیڑے کے روسی بندرگاہوں پر حملے — جو ان کی منظوری کے بغیر ہوا — سے سلطنت جنگ میں داخل ہوئی؛ انہوں نے استعفیٰ چاہا مگر سلطان کی درخواست پر رہے، اور 3 فروری 1917 کو مستعفی ہوئے۔ 2

    مالٹا، بریت اور قتل

    جنگ کے بعد ان پر خیانت کا مقدمہ چلا اور انہیں مالٹا جلاوطن کیا گیا؛ جرم کا ثبوت نہ ملنے پر 29 اپریل 1921 کو رہا ہوئے۔ استنبول واپسی کی اجازت نہ ملی تو روم مقیم ہوئے، جہاں 5 دسمبر 1921 کو آرمنی انقلابی فیڈریشن کے ایک کارندے ارشاویر شراکیان نے انہیں قتل کر دیا۔ 3 2

    انگریزی مضمون نوٹ کرتا ہے کہ آرمنی نسل کشی میں ان کے دستخط شدہ بے دخلی احکامات کے باوجود ان کی اصل ذمہ داری غیر یقینی مانی جاتی ہے، کیونکہ ان کے پاس حقیقی اقتدار نہیں تھا۔ 3

    فکر و تصانیف

    انہوں نے «محمد» کے قلمی نام سے آٹھ علمی رسالے لکھے جو 1919 میں «بحران‌لارمز» (ہمارے بحران) میں جمع ہوئے؛ مشہور ترین «اسلاملاشمق» ہے، جس میں اسلام کو عقیدہ، اخلاق، معاشرہ اور سیاست کا مجموعہ قرار دیا گیا۔ TDV انسائیکلوپیڈیا انہیں اپنے دور کے اسلامی فکر کے اہم ترین قائدین میں شمار کرتی ہے۔ 2

    حوالہ جات

    • انگریزی ویکیپیڈیا (نظرثانی 1370289223)؛ عربی ویکیپیڈیا (نظرثانی 76474106)؛ ترکی ویکیپیڈیا (نظرثانی 38092722)؛ ویکی ڈیٹا Q2034890؛ TDV اسلام انسائیکلوپیڈیا کا مدخل از م. حنفی بوستان۔
    • پیدائش و وفات کی تاریخوں میں ماخذوں کے اختلاف مضمون کے حوالہ نوٹ میں درج ہیں: پیدائش 1864 (متبع) بمقابلہ 1865 و 1863 کی روایات؛ وفات 5 دسمبر (متبع) بمقابلہ 6 دسمبر۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Lived in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نازلی فاضل· شرف الدین مغمومی· الجامع الأزهر· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· دار الحكمة بالقاهرة· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان

    ماخذ

    1. Said Halim Pasha — Turkish Wikipedia
    2. Said Halim Pasha — TDV İslâm Ansiklopedisi
    3. Said Halim Pasha — English Wikipedia
    • Said Halim Pasha — Arabic Wikipedia
    • Said Halim Pasha — Wikidata Q2034890
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سعید حلیم پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/said-halim-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نازلی فاضل

    مصر کی علوی خاندان کی شہزادی (1853-1913)، مصطفیٰ فاضل پاشا کی بیٹی۔ 1880 کی دہائی سے انہوں نے قاہرہ کے اپنے محل میں عرب دنیا کے ان پہلے ادبی صالونوں میں سے ایک قائم کیا جن کی میزبانی کوئی خاتون کرتی تھی؛ اس کے شرکا میں محمد عبدہ، سعد زغلول اور قاسم امین شامل تھے۔ 1900 میں دوسری شادی کے بعد انہوں نے تیونس کے علاقے المرسى میں دوسرا صالون قائم کیا۔