رقیہ سخاوت حسین

رقية سخاوات حسين

–

بنگالی مصنفہ، ماہرِ تعلیم اور سماجی مصلح (1880ء–1932ء)، بنگال میں خواتین کی آزادی کی پیش رو۔ اسکول سے روکے جانے پر انھوں نے گھر پر بنگلہ اور انگریزی سیکھی؛ «سلطاناز ڈریم» (1905ء) اور «ابارودھ باسنی» (1931ء) لکھیں، شوہر کی وفات کے بعد کلکتہ میں سخاوت میموریل گرلز اسکول قائم کیا اور وفات تک چلایا، اور 1916ء میں انجمنِ خواتینِ اسلام قائم کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · teacher · activist
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    رقیہ سخاوت حسین (9 دسمبر 1880ء – 9 دسمبر 1932ء)، جو بیگم رقیہ کے نام سے مشہور ہیں، بنگالی مصنفہ، ماہرِ تعلیم اور سماجی مصلح تھیں اور بنگلہ دیش و ہند میں حقوقِ نسواں کی پیش رو سمجھی جاتی ہیں۔ 1 ان کا موقف تھا کہ مرد و زن عقلی اعتبار سے برابر ہیں، خواتین کی معاشی پسماندگی کی جڑ تعلیم سے محرومی ہے، اور تعلیم ہی خواتین کی آزادی کی بنیادی شرط ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ پائی رابند، رنگپور میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد ظہیر الدین ابو علی حیدر صابر کثیر اللسان عالم تھے۔ 2 والد نے بیٹوں کو اسکول بھیجا مگر بیٹیوں کو نہیں، اس لیے انھوں نے بھائیوں کی مدد سے گھر پر بنگلہ اور انگریزی سیکھی۔ 2 1898ء میں ان کی شادی نائب مجسٹریٹ سید سخاوت حسین سے ہوئی جنھوں نے ان کے مطالعے اور لکھنے کی حوصلہ افزائی کی؛ وہ 1909ء میں وفات پا گئے۔ 2 1

    اسکول اور انجمن

    شوہر کی وفات کے پانچ ماہ بعد، یکم اکتوبر 1909ء کو، انھوں نے بھاگلپور میں پانچ طالبات سے سخاوت میموریل گرلز اسکول شروع کیا اور 1911ء میں اسے کلکتہ منتقل کر دیا؛ انھوں نے اسے چوبیس برس تک مخالفت اور رکاوٹوں کے باوجود چلایا۔ 2 1 1916ء میں انھوں نے انجمنِ خواتینِ اسلام قائم کی جو خواتین کی تعلیم، روزگار اور حقوق کے لیے کام کرتی تھی۔ 2 1

    تصانیف

    ان کی بڑی تصانیف میں «ماٹی چور» (مضامین، 1904ء و 1922ء)، «سلطاناز ڈریم» — خواتین کی حکومت والی سرزمین پر طنزیہ قصہ، انگریزی مضمون اسے 1905ء اور بنگلہ پیڈیا 1908ء بتاتا ہے — «پدمراگ» (1924ء) اور «ابارودھ باسنی» (1931ء) شامل ہیں، آخری کتاب سخت پردے پر جرات مندانہ تنقید ہے۔ 1 2

    وفات اور اثر

    وہ 9 دسمبر 1932ء کو کلکتہ میں وفات پا گئیں؛ بنگلہ دیش میں ہر سال 9 دسمبر کو یومِ رقیہ منایا جاتا ہے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Begum Rokeya — English Wikipedia
    2. Rokeya Sakhawat Hossain — Banglapedia
    • Rokeya Sakhawat Hossain — Wikidata Q467083
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “رقیہ سخاوت حسین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rokeya-sakhawat-hossain/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔