صاحبزادہ عبد القیوم

صاحبزاده عبد القيوم

–

طوبی (صوابی) کے پشتون ماہرِ تعلیم اور سیاست دان (1863ء–1937ء)۔ وہ برطانوی ہند کی انتظامیہ میں ترقی کر کے خیبر اور چترال کے پولیٹیکل ایجنٹ بنے، 1893ء میں ڈیورنڈ لائن کے مذاکرات میں مورٹیمر ڈیورنڈ کے معاون رہے، سر سید احمد خان کے نمونے پر پشاور میں اسلامیہ کالج قائم کیا، اور 1937ء میں شمال مغربی سرحدی صوبے کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بنے؛ اپنی وزارت کے خاتمے کے چند ماہ بعد وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · educator
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · اشرف علی تھانوی · جماعت علی شاہ · توغولوق مولدو

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    صاحبزادہ عبد القیوم (12 دسمبر 1863ء – 4 دسمبر 1937ء) صوابی کے قصبے طوبی میں ایک معروف دینی خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کا آبائی سلسلہ لودی خاندان سے اور نانیہالی سلسلہ حسین بن علی سے جوڑا جاتا ہے۔1 تین برس کی عمر میں والدہ اور دس برس کی عمر میں والد کے قتل کے بعد ان کی پرورش ماموں نے کوٹھا میں کی؛ مقامی مدرسے میں پڑھے، پھر ایک مہمان مبلغ، ریورنڈ ہیوز، نے خاندان کو قائل کیا کہ انھیں پشاور بھیجا جائے، جہاں انھوں نے 1880ء اور 1883ء میں اسکول کے امتحانات اور 1886ء میں نائب تحصیلدار کا امتحان پاس کیا۔1

    انتظامی خدمات

    وہ 1887ء میں برطانوی ہند کی انتظامیہ میں نائب تحصیلدار بنے، 1888ء کی «بلیک ماؤنٹین» مہم میں شریک ہوئے — ان کی روزانہ رپورٹوں کی تعریف ہوئی اور انھیں «ہزارہ 88» کا چاندی کا تمغہ ملا — اور ترقی کر کے خیبر اور چترال میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ بنے۔1 1893ء میں وہ پاراچنار میں ڈیورنڈ لائن کمیشن میں سر مورٹیمر ڈیورنڈ کے ہمراہ برطانوی ہند کی طرف سے شریک ہوئے۔1

    اسلامیہ کالج اور سیاست

    ان کی دائمی یادگار اسلامیہ کالج، پشاور ہے، جو سر سید احمد خان کی مسلمانوں کی تعلیم کی پالیسی پر قائم ہوا؛ 1913ء میں حاجی صاحبِ تورنگزئی نے ان کی دعوت پر اس کا سنگِ بنیاد رکھا۔12 وہ 1924ء سے 1932ء تک ہندوستانی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے، 1928ء کی تعلیمی کمیٹی میں بیٹھے، اور 1931ء–1933ء کی گول میز کانفرنسوں میں صوبے کی نمائندگی کی۔1 صوبہ گورنر کا صوبہ بننے پر وہ یکم اپریل 1937ء کو اس کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بنے؛ کانگریس نے انھیں برطانوی سامراج کا ترجمان سمجھا، اسی ستمبر تحریکِ عدم اعتماد سے ان کی وزارت ختم ہوئی اور ڈاکٹر خان صاحب ان کے جانشین بنے۔1 ان کی مختصر وزارت نے ملاکنڈ بجلی گھر کے لیے رقم دی، تعلیمی سہولتیں بڑھائیں اور صوبے میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اٹھائی۔1

    وفات

    اسلامیہ کالج کا وفد 3 دسمبر 1937ء کو کالج کی سلور جوبلی کی منصوبہ بندی کے لیے طوبی میں ان سے ملا؛ مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد وہ گرے، بے ہوش ہوئے اور صبح کے اوائل میں وفات پائی — مضمون کا معلوماتی خانہ اور متن 4 دسمبر 1937ء بتاتے ہیں، ریڈیو پاکستان بھی اسی دن سالگرہ مناتا ہے، جب کہ ویکی ڈیٹا 3 دسمبر دیتا ہے، اس لیے وفات ان کے ریکارڈ میں متنازع درج ہے۔13 ایسٹرن ٹائمز نے ان کے جنازے کی خبر میں انھیں صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت قرار دیا۔1

    شناخت اور مذہب

    کسی بھی پڑھے گئے ماخذ میں ان کے مسلک یا سلسلے کا نام نہیں ملتا۔13 مضمون جو کچھ بتاتا ہے وہ پس منظر ہے: دینی خاندان، والد کی طرف سے لودی سلاطین اور والدہ کی طرف سے حسین بن علی تک پہنچایا گیا نسب، مدرسے کی تعلیم، اور مسلمانوں کی تعلیم کے لیے عمر بھر کا کام۔ نسب، خاندان اور عوامی کردار مسلک کی شہادت نہیں ہوتے، اس لیے ان کا مذہب تحفظ کے ساتھ «نامعلوم» درج ہے اور شہادتیں ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔

    ماخذ

    1. Sahibzada Abdul Qayyum — English Wikipedia
    2. Haji Sahib of Turangzai — English Wikipedia
    3. Sahibzada Abdul Qayyum — Wikidata Q69575
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “صاحبزادہ عبد القیوم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sahibzada-abdul-qaiyum/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔