سامیہ صلوحی حسن

سامية صلوحي حسن

زنجبار

تنزانیہ کی سیاست دان (پیدائش 1960ء) جن کا تعلق زنجبار سے ہے؛ وہ 19 مارچ 2021ء سے تنزانیہ کی چھٹی صدر اور اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ وہ 2000ء سے 2010ء تک زنجبار حکومت میں وزیر رہیں، رکنِ پارلیمان اور وزیرِ مملکت برائے یونین امور رہیں، پھر 2015ء سے جان ماگوفولی کی نائب صدر رہیں اور ان کی وفات پر صدر بنیں؛ 2025ء میں متنازع انتخابات میں دوبارہ منتخب ہوئیں۔ مضامین کے زمرے انہیں تنزانیہ کے مسلمانوں میں شمار کرتے ہیں، مگر کوئی متن ان کا مذہبی مکتب فکر بیان نہیں کرتا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
east-africa
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

زنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    سامیہ 27 جنوری 1960ء کو مکوندوچی، زنجبار میں پیدا ہوئیں، مزومبے یونیورسٹی، تنزانیہ کی اوپن یونیورسٹی اور مانچسٹر یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، 2000ء سے 2010ء تک زنجبار حکومت میں وزیر رہیں، پھر رکنِ پارلیمان اور وزیرِ مملکت برائے یونین امور رہیں، اور 2015ء میں تنزانیہ کی پہلی خاتون نائب صدر بنیں۔12 جان ماگوفولی کی وفات پر 19 مارچ 2021ء کو وہ صدر بنیں؛ ان کے دور میں کووڈ-19 کے تدارک کی پالیسیاں اپنائی گئیں، جن سے ان کے پیش رو انکار کرتے تھے، اور 2025ء کے متنازع انتخابات میں وہ دوبارہ منتخب ہوئیں۔1

    ریکارڈ پر ایک نوٹ

    کوئی متن ان کا مذہب بیان نہیں کرتا اور نہ کوئی مکتب فکر: ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف «اسلام» درج کرتی ہے، بلا شاخ، اور تینوں مضامین کے زمرے انہیں «تنزانیہ کے مسلمان»، «مسلم اشتراکی» اور «اکیسویں صدی کے مسلمان» میں شمار کرتے ہیں، اور زمرہ بندی شہادت نہیں ہوتی۔2134 اس لیے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا گیا ہے۔

    مآخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    زنجبار

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبید کرومی· علی بن سعید· علی حسن موینی· امانی عبید کرومی· سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· حسین مونی· ماجد بن سعید· سعید بن سلطان

    ماخذ

    1. Samia Suluhu Hassan — English Wikipedia
    2. Samia Suluhu Hassan — Wikidata Q16193885
    3. Samia Suluhu Hassan — Arabic Wikipedia
    4. Samia Suluhu Hassan — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سامیہ صلوحی حسن”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/samia-suluhu-hassan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبید کرومی

    تنزانیہ کے سیاست دان (1905ء–1972ء) جو ملاح رہے، پھر افروشیرازی پارٹی کی قیادت کی اور جنوری 1964ء کے انقلاب کے بعد زنجبار کے پہلے صدر بنے؛ تین ماہ بعد انہوں نے ٹینگانیکا کے ساتھ اتحاد پر رضامندی ظاہر کی جس سے تنزانیہ وجود میں آیا، اور وہ اس کے پہلے نائب صدر بنے۔ انہوں نے زمینوں کو قومی تحویل میں لیا اور مفت تعلیم و صحت قائم کی، اور 7 اپریل 1972ء کو زنجبار شہر میں پارٹی دفتر میں باؤ کھیلتے ہوئے چار مسلح افراد نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وہ زنجبار کے چھٹے صدر امانی عبید کرومی کے والد تھے۔