محدث

المحدّث

محدث وہ عالم ہے جو سند کے ساتھ حدیث روایت کرتا ہے، متن یاد رکھتا ہے، اور سند کے راویوں کو ثقہ یا ضعیف قرار دیتا ہے۔ یہ علمی لقب طویل تحصیل اور روایت کی اجازت سے ملتا تھا، اور بعد میں اس کی تعلیم سفر سے دار الحدیث کے اداروں میں منتقل ہوئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين · العصر الأموي · العصر العباسي المبكر · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
خطہ
arabia · levant-iraq · egypt-nile · maghreb · andalus-europe · persia-central-asia · anatolia-balkans
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

اصطلاح میں محدث وہ ہے جو سند کے ساتھ حدیث روایت کرتا ہے، متن یاد رکھتا ہے، راویوں کو جانتا ہے اور انہیں ثقہ یا ضعیف قرار دیتا ہے۔ 1 بعض علماء نے اس کی تعریف وسیع کی اور ہر اس شخص کو محدث کہا جس نے حدیث سیکھی اور معتبر طریقے سے آگے پہنچائی۔ 1 ابتدائی کتب میں «اہل الحدیث» اور «صاحب الحدیث» کے الفاظ لفظ «محدث» سے زیادہ ملتے ہیں۔ 1

آغاز

حدیث اصل میں نبی کے اقوال، افعال اور تقریر تھی۔ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق نبی نے خود اپنے کلام کے لیے یہ لفظ پہلی بار استعمال کیا۔ 2 صحابہ نے نبی سے حدیث لی، تابعین نے ان سے لی، اور یہی دو نسلیں فتوحات کے بعد بڑے مراکز میں بسیں۔ 2

سند اور راویوں کی تنقید

انسائیکلوپیڈیا تدوین کے اسباب میں سیاسی اور عقیدتی گروہوں کا ذکر کرتا ہے، جن میں سے بعض نے اپنے خیالات کی تائید میں حدیثیں گھڑیں۔ 2 سند کا سوال آٹھویں صدی عیسوی کی پہلی نصف میں اٹھا، اور اس کے بعد اہلِ سنت کے راویوں کی روایت قبول اور بدعتیوں کی رد ہوئی۔ 2 جرح و تعدیل کا علم پہلی صدی ہجری میں پیدا ہوا، جس میں راویوں کی دینداری، سچائی اور حافظے کی چھان بین کی گئی۔ 2

مراکز اور سفر

انسائیکلوپیڈیا مدینہ، مکہ، کوفہ، بصرہ، شام اور مصر کے مراکز کے نام صحابہ اور تابعین کے حوالے سے بیان کرتا ہے۔ 2 صحابہ دوسروں سے وہ حدیثیں سننے جاتے تھے جو ان تک نہ پہنچی ہوں، اور بعد کی نسلوں میں یہ «طلبِ حدیث» یا رحلہ بن گیا۔ 2 سفر دوسری اور تیسری صدی ہجری میں سب سے زیادہ تھے، اور پانچویں صدی کے آخر تک جاری رہے۔ 2 بصرہ کے علماء دس برس سے پہلے، کوفہ کے پندرہ یا بیس برس سے پہلے، اور شام کے تیس برس سے پہلے تحصیل کے لیے نکلنے کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ 1

حدیث حاصل کرنے کے طریقے اور اجازت

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق سب سے اعلیٰ طریقہ استاد کی زبان سے سننا ہے، جس میں راوی عموماً «حدثنا» کہتا ہے۔ 2 املاء، یعنی استاد کے بولنے پر لکھنا، اس کے نزدیک سب سے مضبوط طریقہ ہے۔ 2 مناولہ میں استاد کتاب طالب علم کو دے کر روایت کی اجازت دیتا ہے، اور اسے مقبول طریقہ مانا گیا ہے۔ 2 جب استاد اپنے خط میں روایت کی اجازت لکھ دے تو یہ اجازت ہے، اور اس سے حدیث «نبّأنا» کے الفاظ سے آگے بڑھتی ہے۔ 2

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق محدث کو تعلیم کا حق طویل اور تھکا دینے والی تحصیل کے بعد ملتا تھا۔ 2 بعض علماء کے نزدیک طالب علم کو علماء سے حدیث کے ہزار جزء سننے چاہئیں۔ 1

محدث کی شرائط اور آداب

بعض علماء محدث سے اسناد اور ان کے عیوب، عالی اور نازل اسناد، اور راویوں کے نام جاننے، کثیر حدیثیں یاد رکھنے اور کتابیں پڑھنے کا تقاضا کرتے تھے۔ 1 انسائیکلوپیڈیا کے مطابق محدث میں پانچ خصلتیں ہونی چاہئیں: حدیث سننا، یاد رکھنا، سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور دوسروں کو سکھانا۔ 1

طالب علم کے لیے انسائیکلوپیڈیا میں یہ آداب بیان ہوئے ہیں: مقصد اللہ کی رضا اور سنت کی اشاعت ہو، استاد کا احترام کیا جائے، اور تھوڑی تحصیل کے بعد خود کو محدث نہ سمجھا جائے۔ 1 کئی محدثین، جیسے ایوب سختیانی، اعمش، احمد بن حنبل اور بخاری، حاکموں کے پاس حدیث سنانے نہیں گئے اور ان کے بھیجے ہوئے مال کو ہاتھ نہیں لگایا، حالانکہ وہ محتاج تھے۔ 1

تعداد اور القاب

ابتدائی دور میں حفظ کی تعداد کے لحاظ سے القاب مقرر نہیں تھے، اور اعتبار علم اور فہم کا تھا۔ 1 ابوبکر بن ابی شیبہ کے نزدیک محدث بننے والے کو بیس ہزار حدیثیں املاء سے لکھنی چاہئیں، اور احمد بن حنبل کے نزدیک ایک لاکھ سے دو لاکھ حدیثیں یاد رکھنے والا محدث نہیں کہلاتا۔ 1

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بخاری نے نوجوانی میں روایت شروع کی، امام مالک نے سترہ برس کی عمر میں حدیث روایت کی، اور شافعی نے جوانی میں روایت کی۔ 1 ایک مجلس کا ذکر ہے جس میں یزید بن ہارون نے بغداد میں روایت کی اور بڑا مجمع جمع ہوا، تو دیکھنے والے خلیفہ نے کہا کہ یہی اصل بادشاہی ہے۔ 1

سفر سے دار الحدیث تک

انسائیکلوپیڈیا کے مطابق سفروں کی کمی کا سبب حدیث کی کتابوں میں جمع ہونا اور چوتھی صدی ہجری سے تعلیمِ حدیث کے اداروں کا قائم ہونا تھا۔ 2 بغداد کے نظامیہ مدارس کے بعد چھٹی صدی ہجری سے دار الحدیث کے نام سے ادارے پہلے دمشق، پھر مصر اور بغداد میں قائم ہوئے، اور بعد میں سلجوقی اور عثمانی دور میں انатولیا اور دوسرے اسلامی ممالک میں بھی۔ 2 اس طرح حدیث کی تحصیل مقررہ مقامات پر ہونے لگی۔ 2

آج کی صورتحال

جن مداخل کا مطالعہ کیا گیا وہ جدید دور میں محدث کی حیثیت پر بات نہیں کرتے، اس لیے اس صفحے میں اس بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا؛ اس کے لیے الگ ذرائع درکار ہیں۔ 2

حوالہ جات

  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «HADİS»، محمد یاشار کاندمیر، جلد 15، صفحات 27–64۔ 2
  • TDV İslâm Ansiklopedisi، «MUHADDİS»، محمد یاشار کاندمیر، جلد 30، صفحات 390–392۔ 1

یہ پیشہ کس نے اختیار کیا

بغیر تاریخ کے

ابھی تحریر نہیں ہوا

حدیث کی اقسام (صحیح، حسن، ضعیف، مرسل اور دیگر) تفصیل سے ابھی نہیں لکھی گئیں۔ شیعہ نقطۂ نظر، صدیوں کے نامور اعلام، اوزار، کتب خانے اور مخطوطات، کام کی جگہ، جدید دور کے اسفار، اور تصویر کا حصہ بھی باقی ہے۔ ان کے لیے وہ ذرائع درکار ہیں جو اس ریکارڈ کے لیے نہیں پڑھے گئے۔

حوالہ جات

  1. المحدّث — موسوعة TDV الإسلامية (محمد ياشار كاندمير) , p.390-392
  2. الحديث — موسوعة TDV الإسلامية (محمد ياشار كاندمير) , p.27-64
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “محدث”. islam.museum، https://islam.museum/ur/job/muhaddith/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔