ایک نظر میں
- کردار
- writer · شاعر · مؤرخ · سیاست دان
- خطہ
- levant-iraq
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
سنی (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شکیب ارسلان (25 دسمبر 1869 – 9 دسمبر 1946) لبنانی مصنف، شاعر، مؤرخ، سیاست دان اور امیر تھے، جو اپنی مؤثر تحریروں کی وجہ سے «امیر البیان» کہلائے: تقریباً بیس کتب، دو ہزار مضامین، دو شعری مجموعے اور وسیع خط کتابت۔ جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ کے افکار سے متاثر ہو کر وہ اسلامی وحدت اور عرب وحدت کے نمایاں داعی بنے، اور دو عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے کا بڑا حصہ جنیوا میں جلاوطنی میں گزارا، جہاں وہ شام و فلسطین کے غیر سرکاری نمائندے کی حیثیت سے لیگ آف نیشنز میں کام کرتے رہے۔ 1 2
زندگی اور خدمات
وہ بیروت کے قریب شویفات میں پیدا ہوئے — عربی مضمون ان کی پیدائش کو یکم رمضان 1286 ہجری سے جوڑتا ہے۔ عبد الحمید ثانی کی پان اسلامی پالیسیوں کے حامی کے طور پر ان کا مؤقف تھا کہ سلطنتِ عثمانیہ کی بقا ہی امت کی تقسیم اور یورپی طاقتوں کے قبضے کے خلاف واحد ضمانت ہے؛ ان کے نزدیک عثمانیت اور اسلام ناقابلِ علیحدگی تھے۔ فرانسیسی انتداب کی انتظامیہ نے انہیں جلاوطن کر دیا تو وہ جنیوا میں مقیم ہوئے، جہاں انہوں نے شامی جلاوطن احسان الجابری کے ساتھ اخبار «لا ناسیون عراب» کی بنیاد رکھی اور اس کی ادارت کی اور عرب صحافت میں مستقل لکھتے رہے۔ وہ برلن سے شائع ہونے والے اخبار «برید الشرق» میں بھی لکھتے تھے، لیکن ذاتی طور پر نازیت سے متفق نہ تھے: 1939 میں انہوں نے لکھا کہ اگر جرمن عربوں کے لیے بہتر ثابت نہ ہوئے تو عربوں نے صرف آقا بدلے ہوں گے۔ 1
ارسلان نے اسلام کی ایک ایسی تفسیر پیش کی جو سیاسی قوت اور اخلاقی جرأت سے بھرپور تھی؛ انہوں نے مراکش سے عراق تک کے مسلمانوں کو اپنے اختلافات کے باوجود اسلام سے مشترکہ وابستگی یاد رکھنے کی ترغیب دی اور اسلام کو سماجی اخلاق کا لازمی جز قرار دیا۔ اسی دور میں انہوں نے اپنی مشہور ترین کتاب «لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم؟» لکھی اور قاہرہ کے مجلہ «الفتح» میں بھی لکھا۔ انہوں نے اردنی نژاد چرکس خاتون سلیمہ الخاص حاتوق سے شادی کی؛ ان کی بیٹی مئی کی شادی کمال جنبلاط سے ہوئی یوں ولید جنبلاط ان کے نواسے ہوئے۔ لبنان واپسی کے تین ماہ بعد 9 دسمبر 1946 کو ان کا انتقال ہوا — عربی مضمون اس تاریخ کو 15 محرم 1366 ہجری سے جوڑتا ہے۔ وفات کے مقام میں اختلاف ہے: انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا بیروت بتاتے ہیں، جبکہ عربی مضمون کا اطلاعات خانہ شویفات بتاتا ہے۔ 1 2 3
ان کے مذہب پر ایک نوٹ
شکیب ارسلان ایک دروز خاندان میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون، ولیم کلیولینڈ کی سوانح «اسلام مغرب کے خلاف» (1985) کے حوالے سے، کہتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے عقیدے کو عمومی اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی لیکن بعد میں سنی اسلام قبول کر لیا اور خود کو سنی اسلام کے مفادات کی خدمت کرنے والے قدامت پسند مسلمان کے طور پر قائم کیا؛ اردو مضمون، ان کی ایک عربی سوانح کے حوالے سے، آزادانہ طور پر کہتا ہے کہ وہ اہلِ سنت کے طریقے پر عبادت کرتے تھے۔ اس لیے ان کے اندراج میں ایمان «سنی» درج ہے، کیونکہ دو آزاد مآخذ خود ان کی وابستگی نامزد کرتے ہیں؛ ان کی دروز پیدائش پس منظر کے طور پر درج ہے، قدر کے طور پر نہیں — عجائب گھر کی ایمانی اقدار کی فہرست میں ویسے بھی «دروز» کی کوئی قدر موجود نہیں۔ 1 4 2
ماخذ
- Shakib Arslan — English Wikipedia
- Shakib Arslan — Arabic Wikipedia
- Shakib Arslan — Wikidata Q2474371
- Shakib Arslan — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شکیب ارسلان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shakib-arslan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.