شیخ مجیب الرحمان

مجيب الرحمن

–

دكا

بنگلہ دیشی سیاست دان (17 مارچ 1920ء – 15 اگست 1975ء)، بنگلہ دیش کے بانی اور اس کے پہلے صدر۔ انھوں نے 1970ء کے پاکستانی عام انتخابات میں عوامی لیگ کو فتح دلائی، مارچ 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا اور جنگ آزادی کے دوران مغربی پاکستان میں قید رہتے ہوئے عبوری حکومت کی سربراہی کی، پھر 1972ء سے 1975ء تک وزیر اعظم اور 1975ء میں صدر رہے، حتیٰ کہ ڈھاکہ میں ایک فوجی بغاوت میں اپنے بیشتر خاندان سمیت قتل کر دیے گئے۔ ان کی بڑی بیٹی شیخ حسینہ ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شیخ مجیب الرحمان (17 مارچ 1920ء – 15 اگست 1975ء) بنگلہ دیشی سیاست دان، انقلابی اور مدبر تھے، بنگلہ دیش کے بانی اور اس کے پہلے صدر۔ وہ تونگیپاڑہ، بنگال میں پیدا ہوئے، مسلم لیگ اور پھر عوامی لیگ کے ذریعے آگے بڑھے اور مشرقی پاکستان کے بلا مقابلہ رہنما بن گئے؛ 1970ء کے پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں اپنی جماعت کو فتح دلائی، اور جب فوجی حکومت نے اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا تو وہ آزادی کی اس جدوجہد کا چہرہ بن گئے جس سے 1971ء میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ مغربی پاکستان میں قید رہتے ہوئے عبوری حکومت کی سربراہی کی، پھر 1972ء سے 1975ء تک وزیر اعظم اور 1975ء میں صدر رہے، حتیٰ کہ ایک فوجی بغاوت میں اپنے بیشتر خاندان سمیت قتل کر دیے گئے۔ بنگلہ دیشی انھیں «بنگا بندھو» یعنی بنگال کے دوست کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    مجیب 17 مارچ 1920ء کو برطانوی ہندوستان کے بنگال کے ضلع فریدپور کی گوپال گنج تحصیل کے گاؤں تونگیپاڑہ کے بنگالی مسلم شیخ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ لطف الرحمان گوپال گنج کی عدالت کے اہلکار تھے اور والدہ شیخ سائرہ خاتون تھیں۔ مضمون ان کے خاندان کا نسب شیخ عبد الاول درویش سے جوڑتا ہے جو مسلمان مبلغین کے ایک گروہ کے ساتھ بنگال آئے تھے۔ مجیب چھ بچوں میں تیسرے تھے اور گھر میں انھیں «خوکا» کہا جاتا تھا۔ گوپال گنج میں تعلیم اور آنکھ کے آپریشن کی وجہ سے چار سال کے وقفے کے بعد 1942ء میں میٹرک کیا اور کلکتہ کے اسلامیہ کالج سے 1947ء میں گریجویشن کی۔ طالب علمی میں وہ بنگال صوبائی مسلم لیگ کی طرف مائل ہوئے اور حسین شہید سہروردی کی سرپرستی میں پاکستان تحریک کے لیے کام کیا۔ 1

    آزادی کا راستہ

    تقسیم کے بعد مجیب نے 1948ء میں مشرقی پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس لیگ اور 1949ء میں عوامی مسلم لیگ (بعد ازاں عوامی لیگ) کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا، اور 1954ء میں مشرقی پاکستان صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1950ء کی دہائی میں انھوں نے پاکستان کی پارلیمان میں مشرقی بنگال کے حقوق کا دفاع کیا اور برطانوی اور پاکستانی دونوں ادوار میں طویل قید کاٹی۔ 1966ء میں انھوں نے چھ نکات پیش کیے، جن میں مشرقی پاکستان کے لیے وسیع خودمختاری کا مطالبہ تھا، اور وہ بنگالی قوم پرستی کے تسلیم شدہ رہنما بن گئے۔ ان کی جماعت نے 1970ء کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی لیکن یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ 7 مارچ 1971ء کو مجیب نے ڈھاکہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے لوگوں کو جدوجہد آزادی کی تیاری کی تلقین کی؛ یونیسکو نے بعد میں اس تقریر کو عالمی یادداشت کے رجسٹر میں شامل کیا۔ 25 مارچ 1971ء کو فوجی کارروائی میں گرفتار ہو کر وہ مغربی پاکستان میں قید رہے جبکہ جنگ آزادی ان کے نام پر لڑی گئی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ان کی صدارت میں تشکیل پائی۔ 1

    بنگلہ دیش کے رہنما

    مجیب جنوری 1972ء میں ڈھاکہ واپس آئے اور وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔ ان کی حکومت نے جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو کی، 1972ء میں قوم پرستی، اشتراکیت، جمہوریت اور سیکولرازم پر مبنی آئین دیا، 1973ء میں پہلے عام انتخابات کرائے اور دنیا کے بیشتر ممالک سے تعلقات معمول پر لائے؛ 1974ء میں انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی بنگالی تقریر کی۔ مضمون بیان کرتا ہے کہ ان کی حکومت بدامنی، بدعنوانی اور اقتصادی بحران سے دوچار رہی، 1974ء کے قحط میں بڑی تعداد میں لوگ مرے، اور ان کی بنائی ہوئی نیم فوجی فورس جاتیہ رکھی باہنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہی۔ جنوری 1975ء میں انھوں نے «دوسرا انقلاب» شروع کیا: پارلیمان نے انھیں صدر بنا دیا اور ان کی جماعت بکسل ملک کی واحد قانونی جماعت بن گئی، دیگر جماعتیں ختم اور شہری آزادیاں محدود کر دی گئیں۔ سربراہ مملکت کی حیثیت سے ان کی مذہبی پالیسی میں سیکولر آئین کے ساتھ یہ عوامی بیانات بھی شامل تھے کہ سیکولرازم کا مطلب مذہب دشمنی نہیں، اسلامی فاؤنڈیشن کا قیام، اور 1974ء میں بنگلہ دیش کا اسلامی تعاون تنظیم میں شامل ہونا — یہ ریاستی پالیسی ہے، جسے عجائب گھر اسی حیثیت میں درج کرتا ہے، ذاتی وابستگی کا بیان نہیں۔ 1

    قتل اور میراث

    15 اگست 1975ء کو مجیب کو ڈھاکہ کے دھانمنڈی میں ان کے گھر پر ایک فوجی بغاوت میں ان کی اہلیہ، تین بیٹوں اور موجود خاندان کے بیشتر افراد سمیت قتل کر دیا گیا؛ ان کی بیٹیاں حسینہ اور ریحانہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بچ گئیں۔ انھیں تونگیپاڑہ میں دفن کیا گیا جہاں ان کا مزار ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کی میراث متنازع رہی ہے — انھیں ملک کو آزادی دلانے اور بنگالی خودمختاری بحال کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے اور قحط، خلاف ورزیوں اور آخری دور کی آمریت پر تنقید بھی کی جاتی ہے — لیکن 2004ء کے بی بی سی رائے شماری میں انھیں ہر دور کا سب سے بڑا بنگالی منتخب کیا گیا۔ 1

    ماخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ وحدتیں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر تبدیل شدہ حقیقت کا ماخذ نامزد ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    شیخ حسینہ
    Died in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری

    ماخذ

    1. Sheikh Mujibur Rahman — English Wikipedia
    2. Sheikh Mujibur Rahman — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شیخ مجیب الرحمان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sheikh-mujibur-rahman/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔