ایک نظر میں
- کردار
- military · author
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سلیمان حسنی پاشا (1838ء – 8 اگست 1892ء)، استنبول سے تعلق رکھنے والے عثمانی مشیر؛ 1877–1878ء کی جنگ کے آغاز میں بلقان میں عثمانی عملیات کے سپہ سالارِ اعلیٰ رہے۔ عوام نے انھیں «شپکا درے کا ہیرو» کہا، بعد میں مقدمہ چلا، سزائے موت سنائی گئی جو جلاوطنی میں بدل دی گئی، اور چودہ برس بغداد میں رہ کر وہیں وفات پائی۔ وہ معلم اور مصنف بھی تھے اور اولین علمی ترکیت پسندوں میں سے تھے۔ 1 2
دونوں مضامین ان کی وفات 8 اگست 1892ء بتاتے ہیں؛ ویکی ڈیٹا کی 11 اگست والی قیمت اس ریکارڈ میں اختیار نہیں کی گئی۔ 3
عسکری زندگی
سلیمان حسنی استنبول کے ملا گورانی محلے میں پیدا ہوئے، ایک یني چری آغا کے فرزند تھے، 1863ء میں عسکری کالج سے فارغ ہوئے، ینی پازار، ہرزیگووینا اور اشقودرہ میں خدمات انجام دیں اور کریٹ بغاوت کے برسوں میں فرقہ کمان تک ترقی پائی۔ عسکری مدارس کے کمانڈر کی حیثیت سے 1876ء میں سلطان عبدالعزیز کی معزولی میں حصہ لیا۔ اکتوبر 1877ء میں انھوں نے محمد علی پاشا سے ڈینیوب محاذ کی کمان سنبھالی اور شپکا درے کی لڑائیاں لڑیں۔ 1 2
مقدمہ اور جلاوطنی
شکست کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر وہ طاش قشلہ میں قید رہے، ایک سال مقدمہ چلا، سزائے موت سنائی گئی اور عہدے چھین لیے گئے؛ عبدالحمید ثانی نے سزا جلاوطنی میں بدل دی۔ وہ چودہ برس بغداد میں رہے اور 8 اگست 1892ء کو وہیں وفات پائی؛ امام ابو یوسف مسجد کے صحن میں دفن ہوئے۔ 2
تصانیف
ترکیت پسند مصنف کی حیثیت سے ان کا خیال تھا کہ عسکری مدارس میں پڑھائی جانے والی مترجمہ تاریخ کی کتب اسلام اور قومی شناخت سے بیگانہ ہیں، اور جواب میں انھوں نے اپنی عالمی تاریخ «تاریخِ عالم» لکھی۔ ان کی تصانیف میں «علمِ صرفِ ترکی»، ترکی قواعد کی پہلی کتاب، اور «علمحالِ کبیر» شامل ہیں۔ 2
عقیدہ
مشاورت کردہ کوئی ماخذ سلیمان حسنی پاشا کے لیے شخصاً کوئی مذہب یا مکتب نامزد نہیں کرتا: کسی مضمون میں مذہب کا خانہ نہیں اور ویکی ڈیٹا میں ان کے لیے مذہب کی کوئی قیمت درج نہیں۔ ان کی علمحال اور دینی عالم کی حیثیت سے ان کا کام ان کی تصانیف اور پیشہ ہے، کسی مکتب کی شہادت نہیں، لہٰذا عجائب گھر کے ڈیٹا میں ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے۔ 2 3
مصادر
- مذکورہ بالا معرف ماخذ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
محمود شوکت پاشا· عثمان حمدی بے· المدرسة النظامية ببغداد· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري
ماخذ
- Süleyman Hüsnü Pasha — English Wikipedia
- Süleyman Hüsnü Pasha — Turkish Wikipedia
- Süleyman Hüsnü Pasha — Wikidata Q924251
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سلیمان حسنی پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/suleyman-husnu-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.