حاجی صاحب تورنگزئی

حاجي تورنغزي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

فضل وحید (1858ء–1937ء)، ضلع چارسدہ کے قصبے تورنگزئی کے پشتون عالم اور تعلیمی رہنما۔ وہ آخوندزادہ نجم الدین صاحبِ ہدہ کے شاگرد اور خلیفہ تھے، دارالعلوم دیوبند میں پڑھے، 1890ء میں شیخ محمود حسن کے ساتھ حج کیا، 1897ء کی بغاوت میں انگریزوں سے لڑے، پھر تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور عبد الغفار خان کے ساتھ مل کر تقریباً 120 اسکول قائم کیے؛ 1915ء میں برطانوی وارنٹ کے بعد مہمند کے علاقے میں پناہ لی اور وہیں سے مزاحمت جاری رکھی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · جماعت علی شاہ · لیلیٰ ساز · پیر مہر علی شاہ

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ملا ہدہ کے شاگرد

    فضل وحید، جو حاجی صاحبِ تورنگزئی کے نام سے مشہور ہوئے (1858ء–1937ء)، ضلع چارسدہ کے قصبے تورنگزئی میں محمدزئی خاندان میں پیدا ہوئے، ابتدائی دینی تعلیم گھر پر پائی، پھر دارالعلوم دیوبند میں پڑھے، جہاں شیخ محمود حسن سے تعلق پیدا ہوا اور 1890ء میں ان کے ساتھ حج کیا۔1 انگریزی مضمون اس نسبت کا ذکر نہیں کرتا جسے دو علمی مآخذ ان کی دینی زندگی کے مرکز میں رکھتے ہیں: ایڈورڈز، مریدین کی اولاد کی زبانی روایات کی بنیاد پر، حاجی صاحبِ تورنگزئی کو نجم الدین آخوندزادہ (ملا ہدہ) کے شاگردوں اور اہم خلفاء میں شمار کرتے ہیں اور ان کی اپنی سنائی ہوئی داستان محفوظ رکھتے ہیں کہ انھوں نے صاحبِ ہدہ کو پہچان کر ان کے شاگرد بنے۔2 ٹرائبل اینالیسس سینٹر کی رپورٹ، جو ثنا ہارون کی سرحدی مطالعے پر مبنی ہے، بھی درج کرتی ہے کہ نجم الدین کے شاگرد حاجی تورنگزئی نے اپنے استاد کی چاروں صوفی طریقوں کی ملی جلی تعلیم ورثے میں پائی۔3

    1897ء اور اسکولوں کی تحریک

    حج سے واپسی پر انھوں نے 1897ء کی سرحدی بغاوت میں انگریزوں سے جنگ کی۔1 1908ء میں دوسرے حج کے بعد وہ سماجی کام، خصوصاً تعلیم، کی طرف متوجہ ہوئے اور خان عبد الغفار خان کے ساتھ گاؤں گاؤں گئے؛ اس تحریک نے چند برسوں میں تقریباً 120 اسکول قائم کیے۔1 انگریزوں نے دونوں پر متوازی حکومت چلانے کا الزام لگا کر انھیں گرفتار کیا؛ ثبوت نہ ملنے پر وہ رہا ہوئے، اور 1913ء میں صاحبزادہ عبد القیوم نے پشاور میں دارالعلوم اسلامیہ (موجودہ اسلامیہ کالج) کے سنگِ بنیاد کی تقریب کے لیے انھیں منتخب کیا۔1

    مہمند اور وفات

    جون 1915ء میں انگریزوں نے ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا؛ وہ آدھی رات کو پشاور سے نکل کر مہمند کے علاقے پہنچے، جہاں سے ان کے ساتھیوں نے چمرکنڈ کے مجاہدین کے ساتھ برطانوی ٹھکانوں پر حملے کیے، جن میں اگست 1915ء میں مردان کے قریب رستم کا کیمپ شامل تھا۔1 1923ء کی برطانوی مہم جنگ کے بجائے صلح پر ختم ہوئی، اور وہ مہمند ایجنسی میں مقیم ہو کر مسجد کی تعمیر میں مصروف رہے۔1 1936ء میں وہ شدید بیمار ہوئے اور 14 دسمبر 1937ء کو وفات پائی۔14 مضمون ان کی ولادت میں اندرونی طور پر متضاد ہے — متن 1858ء اور معلوماتی خانہ 1842ء دیتا ہے — اس لیے سالِ ولادت متنازع درج ہے۔

    شناخت اور مذہب

    ان کی صوفیانہ نسبت ذاتی طور پر ثابت ہے، صرف کردار سے نہیں: دو آزاد متن — ایڈورڈز کی زبانی تاریخ پر مبنی تصنیف اور ہارون پر مبنی ٹرائبل اینالیسس سینٹر کی رپورٹ — انھیں ملا ہدہ کا شاگرد اور خلیفہ کہتے ہیں، اور ایڈورڈز نے ان کی شاگرد بننے کی اپنی روایت محفوظ کی ہے۔23 ان کے لیے کوئی ایک متعین سلسلہ ثابت نہیں، اس لیے ان کا مذہب بغیر سلسلے کی قیمت کے «صوفی» درج ہے — وہی فیصلہ جو ان کے استاد کے لیے ہوا۔ دیوبند کی تعلیم ان کی تربیت ہے، اور کوئی ماخذ ان کے لیے فقہی مسلک کا نام نہیں لیتا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    نجم الدین آخوندزادہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نجم الدین آخوندزادہ

    ماخذ

    1. Haji Sahib of Turangzai — English Wikipedia
    2. Edwards, Heroes of the Age: Moral Fault Lines on the Afghan Frontier (UC Press, 1996)
    3. Tribal Analysis Center, Mad Mullahs, Opportunists and Family Connections
    4. Haji Sahib of Turangzai — Wikidata Q5639927
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حاجی صاحب تورنگزئی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/turangzai-haji-saheb/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نجم الدین آخوندزادہ

    ننگرہار کے علاقے ہدہ کے افغان صوفی پیر (وفات 1902ء)، آخوندِ سوات عبدالغفور کے شاگرد اور خلیفہ، جو ملا ہدہ اور صاحبِ ہدہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے استاد نے انہیں ہدہ بھیجا تاکہ اسلام اور طریقت کی تبلیغ کریں؛ وہاں انہوں نے مسجد اور خانقاہ بنائی، اور سرحدی قبائل میں ان کے خلفاء و مریدین کے جال نے انہیں 1897ء کی انگریز مخالف بغاوت کا مرکزی دینی منتظم بنا دیا۔