ایک نظر میں
- کردار
- musician · teacher
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
استاد غلام حسین کابل کے محلے خرابات کے افغان موسیقار، نغمہ نگار اور موسیقی کے استاد تھے، جو 1876ء میں پیدا ہوئے اور 1967ء میں کابل میں وفات پائی۔ انہوں نے خرابات میں موسیقی کا مدرسہ قائم کیا جو استاد قاسم جو کے مدرسے کے ساتھ کابل کے دو اہم ترین کلاسیکی و جدید موسیقی کے مدرسوں میں شمار ہوا؛ سرکاری اسکولوں میں موسیقی کی تعلیم کا تصور انہوں نے بنایا، اور ان کا دستہ ریڈیو افغانستان کے آرکسٹرا میں شامل ہوا۔ 1 2
خاندان اور تربیت
غلام حسین کا خاندان امیر شیر علی خان کے زمانے میں، سدوزئی دور میں، پنجاب (موجودہ ہندوستان) سے کابل آیا اور خرابات میں آباد ہوا، جو شور بازار کے ہندو گزار محلے کے پڑوس میں تھا جہاں زیادہ تر ہندو اور سکھ رہتے تھے۔ ان کے والد استاد عطا حسین پٹیالہ اسکول کے ان موسیقاروں میں سے تھے جو بادشاہ کی پہل پر کلاسیکی موسیقی کو زندہ کرنے کے لیے کابل آئے تھے۔ 1
غلام حسین نے سارنگی اپنے چچا استاد غلام غیلانی سے سیکھی۔ بعد میں انہوں نے پشاور میں استاد امام الدین پشاوری سے موسیقی، بشمول راگ، کی تعلیم حاصل کی اور اس تعلیم کے بعد وطن واپس آ گئے۔ 1
ان کا مدرسہ اور موسیقی کی تعلیم
خرابات میں انہوں نے اپنا موسیقی کا مدرسہ قائم کیا؛ یہ اور استاد قاسم جو کا مدرسہ کابل کی کلاسیکی اور جدید موسیقی کے سب سے اہم مدرسے بن گئے۔ 1920ء کی دہائی میں، جب حبیب اللہ خان اور امان اللہ خان کی محتاط اصلاحات نے تعلیم کو اولیت دی، غلام حسین نے اسکولوں میں موسیقی کی تعلیم کا تصور تیار کیا، اور وہ اور ان کے شاگرد — جن میں استاد ناتو اور استاد پیر بخش تھے — کابل کے نئے اسکولوں، جیسے استقلال لیسے، حبیبہ لیسے اور دارالمعلمین، میں خود بھی پڑھاتے رہے۔ 1
قدامت پسند قوتوں نے ان اصلاحات، خاص طور پر موسیقی کی تعلیم، کی مذہبی آڑ میں مخالفت کی؛ ان میں سب سے نمایاں مخالف ملا عبداللہ تھے جو «ملا لن٘گ» (لنگڑے ملا) کے نام سے مشہور تھے۔ 1
ریڈیو افغانستان اور شاگرد
1939ء میں قومی نشریاتی ادارے ریڈیو افغانستان کے قیام کے ساتھ غلام حسین کا موسیقی دستہ ریڈیو کے آرکسٹرا میں شامل ہو گیا، اور اس کے چار سالہ اندرونی مدرسے نے موسیقاروں اور گلوکاروں کی ایک نسل تیار کی؛ اس کے اساتذہ میں افغان موسیقی کی دو عظیم شخصیات استاد قاسم جو اور استاد غلام حسین اور ان کے شاگرد شامل تھے۔ ان کے دستے کے ارکان میں رباب نواز استاد محمد عمر بھی تھے۔ فارسی مضمون انہیں اپنے زمانے کا سب سے بڑا ہارمونیم اور پیانو نواز بتاتا ہے اور لکھتا ہے کہ انہوں نے بہت سے شاگرد تیار کیے۔ 1 2
بطور نغمہ نگار وہ قاسم جو کے برابر مشہور تھے؛ انہوں نے نظموں اور لوک گیتوں کو، جن میں سے بہت سے نسلوں پرانے تھے، موسیقی دی۔ وہ ایرانی اور ہندوستانی سازوں کے ساتھ پیانو بھی بجاتے تھے اور مغربی موسیقی سے اشتغال کی بھی ترغیب دیتے تھے۔ 1
وفات اور ورثہ
غلام حسین کی وفات کابل میں 1967ء میں ہوئی۔ جرمن مضمون ان کی وفات 18 ستمبر 1967ء بتاتا ہے، جبکہ فارسی مضمون 27 تیر 1346 ہجری شمسی دیتا ہے، یعنی 18 جولائی 1967ء؛ دونوں مضامین ان کے سنِ پیدائش میں بھی مختلف ہیں: جرمن 1876ء اور فارسی 1265 ہجری شمسی (تقریباً 1886ء/87ء)۔ عمر کی کمزوری کے باوجود انہوں نے 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں کے کھلے، موسیقی دوست معاشرے میں اپنی زندگی کے کام کی کامیابی دیکھ لی تھی۔ 1 2
ان کے بیٹے استاد محمد حسین سرآہنگ نے ان کے بعد ان کا کام جاری رکھا، اور ان کے شاگردوں نے بھی، جن میں عبدالوہاب مددی بھی تھے، جو نغمہ نگار اور افغان موسیقی کی اس تاریخ کے مصنف ہیں جس پر یہ بیان مبنی ہے۔ 1 2
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود· اشرف غنی· برہان الدین ربانی
ماخذ
- Ghulam Hossein — German Wikipedia
- Ustad Ghulam Hossein — Persian Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “استاد غلام حسین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ustad-ghulam-hossein/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.