زغلول النجار

لوگ آج

زغلول النجار

–

القاهرة → عمان

مصری ماہرِ ارضیات اور داعی (1933–2025)، جو جامعہ قاہرہ کے کلیۂ سائنس سے فارغ ہوئے، 1963 میں یونیورسٹی آف ویلز سے ڈاکٹریٹ کی، کئی عرب جامعات میں ارضیات پڑھائی، مصر کی مجلسِ اعلیٰ برائے اسلامی امور کی قرآنی سائنسی اعجاز کمیٹی کے سربراہ رہے، قرآن و سنت میں «سائنسی اعجاز» پر تحریر و تقریر سے مشہور ہوئے، اور عمان میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · واعظ · writer
دور
العصر المعاصر
خطہ
egypt-nile
شناختیں
WikidataVIAF
جائزہ

متنازع فیہ: اس مضمون میں ایسے امور شامل ہیں جن پر علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ کی آراء ان کی اپنی قرار دی گئی ہیں، اور دیگر آراء پر، جہاں ابھی حوالہ موجود نہیں، نشان لگایا گیا ہے۔

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: طاہر عثمان باؤچی · ولید الخالدی · معزز علمیے چغ · کولیت خوری · علی حسن موینی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    زغلول بن راغب محمد النجار ایک مصری ماہرِ ارضیات اور داعی تھے، جو صوبہ غربیہ کے مرکز بسیون کے گاؤں مشال میں جمعہ 29 رجب 1352ھ مطابق 17 نومبر 1933ء کو پیدا ہوئے اور اتوار 18 جمادی الاولیٰ 1447ھ مطابق 9 نومبر 2025ء کو عمان میں وفات پائی۔ 1 2 3 دونوں مضامین انہیں قرآن و حدیث میں «سائنسی اعجاز» پر گہری توجہ، تقریر اور تحریر، کے لیے مشہور بتاتے ہیں۔ 1 3

    پرورش اور تعلیم

    عربی مضمون کے مطابق وہ ایسے گھرانے میں پلے جس کے دادا گاؤں کے امام اور والد حافظِ قرآن تھے، اور حفظ مکمل کرنے کے بعد والد کے ساتھ قاہرہ منتقل ہوئے، نو سال کی عمر میں پرائمری اسکول اور 1946 میں شبرا سیکنڈری اسکول میں داخل ہوئے۔ 1 انہوں نے 1955 میں جامعہ قاہرہ کے کلیۂ سائنس سے اعزاز کے ساتھ بی ایس سی کیا، اپنی جماعت میں اول، اور ارضیاتی علوم کا برکہ انعام پایا، پھر 1963 میں یونیورسٹی آف ویلز سے ارضیات میں ڈاکٹریٹ کی؛ انگریزی مضمون کے مطابق ان کا مقالہ وادیِ نیل کے علاقے اسنا و ادفو کی ارضیات پر تھا۔ 1 3 2

    گرفتاری اور پیشہ ورانہ زندگی

    عربی مضمون کہتا ہے کہ فراغت کے بعد ایک سیاسی مظاہرے میں شرکت پر انہیں گرفتار کیا گیا اور وہ بری ہوئے، مگر اخوان المسلمون سے وابستگی کی وجہ سے سیاسی فیصلے نے انہیں تدریسی معاون مقرر کرنے سے انکار کیا، چنانچہ انہوں نے ایک تیل کمپنی اور فاسفیٹ و کوئلے کی کانوں میں کام کیا۔ 1 انگریزی مضمون کہتا ہے کہ طالب علمی کے دور میں سیاسی سرگرمی پر وہ قید ہوئے اور 1960 کی دہائی کے آغاز میں مصر چھوڑ گئے، 1970 میں ہی واپس آئے۔ 3 انہوں نے عین شمس، شاہ سعود، کویت اور قطر کی جامعات اور ظہران کی شاہ فہد یونیورسٹی برائے پٹرولیم و معدنیات (1978–1996) میں کام کیا، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں وزیٹنگ پروفیسر رہے، ان میں سے کئی کے شعبۂ ارضیات کی بنیاد میں حصہ لیا، اور 1972 میں پروفیسر بنے۔ 1 پھر وہ یمن کی جامعۃ الاحقاف کے سربراہ رہے (1999–2000)، 2001 سے مصر کی مجلسِ اعلیٰ برائے اسلامی امور کی قرآنی سائنسی اعجاز کمیٹی کے صدر رہے، رابطۂ عالمِ اسلامی کی قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز کی عالمی تنظیم کے بانی ارکان میں تھے، اور اسلامی اکیڈمی آف سائنسز کے فیلو منتخب ہوئے۔ 1 3

    تصانیف

    عربی مضمون کے مطابق ان کے ڈیڑھ سو سے زیادہ تحقیقی مقالے و مضامین اور کئی زبانوں میں پینتالیس کتابیں ہیں، اور الاہرام اخبار میں «من اسرار القرآن» کے عنوان سے ہفتہ وار کالم۔ 1 انگریزی مضمون ان کی کتابوں میں «قرآن میں پہاڑوں کا ارضیاتی تصور» (2003) اور «قرآنِ کریم کے سائنسی اعجاز کا مسئلہ اور اس سے برتاؤ کے ضوابط» کا ذکر کرتا ہے۔ 3

    وفات

    انہوں نے عمان میں وفات پائی؛ اگلے دن ساتویں چوراہے کے قریب مسجد ابو عیشہ میں نمازِ جنازہ ہوئی، اور ناعور کے قبرستان ام القطین میں تدفین ہوئی۔ 1

    مآخذ کے مطابق مواقف اور تنقید

    انگریزی مضمون متنازع دعووں کے عنوان کے تحت ان سے منسوب بیانات گنواتا ہے، جن میں اونٹ کے پیشاب کو علاج تجویز کرنا، گیارہ ستمبر کے حملوں کے بیان کا انکار، اور 2004 میں یہ دعویٰ کہ ناسا نے ایک ٹیلی وژن پروگرام میں شقِ قمر کی تصدیق کی؛ یہ بھی کہتا ہے کہ سائنسی اعجاز پر ان کی تحریروں کی ماہرانہ جانچ نہیں ہوئی۔ 3 یہ یہاں مضمون کے بیانات کے طور پر درج ہیں، عجائب گھر کے کسی فیصلے کے بغیر۔

    ان کے ریکارڈ شدہ دروس میں

    اسابیل آرکائیو میں ان کے دروس کے دو سلسلے محفوظ ہیں: ویتفکرون، کونی آیات میں سائنسی اعجاز پر انتیس ویڈیو اقساط، اور «الحضارۃ النبویہ»، تیس صوتی اقساط۔ 9 10 «ویتفکرون» میں وہ کہتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں انہوں نے قرآن میں پہاڑوں پر انگریزی میں ایک کتاب لکھی تاکہ انگریزی بولنے والوں کے لیے «دعوت کا ورق» ہو۔ 11 وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر سائنسی اعجاز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بہت سے سائنسی اور شرعی ضوابط وضع کیے۔ 12 وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں قاہرہ میں ایک امریکی عہدیدار سے گفتگو کے لیے بلایا گیا جو اسلام کے بارے میں پڑھنے سے انکار کرتا تھا، اور آسمانوں اور زمین کے جڑے ہونے اور جدا کیے جانے کی آیت نے اسے قرآن پڑھنے پر آمادہ کیا، اور کہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے ملے جو اس کی آیات سن کر ہی مسلمان ہو گئے۔ 13 14

    سلسلہ «الحضارة النبوية» میں

    الحضارة النبوية کی تیس اقساط میں النجار اکیلے سنت میں سائنسی اعجاز پر بات کرتے ہیں: اس کے ضوابط رکھتے ہیں، ان لوگوں کے مقابلے میں جنہیں وہ مستشرقین اور قرآنی کہتے ہیں حجیتِ سنت کا دفاع کرتے ہیں، پھر زمین و آسمان، طب، کھانے، خاندان اور قیامت کی نشانیوں سے متعلق کوئی تیس احادیث کی شرح کرتے ہیں۔ 15 16 17 وہ اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ سعودی عرب میں امراضِ قلب کی دو کانفرنسوں میں شریک ہوئے، پہلی میں ڈاکٹروں کو یاد دلایا کہ قرآن دل سے پمپ کرنے کے سوا اور کردار بھی منسوب کرتا ہے، اور دوسری میں کیلیفورنیا کے سائنس دان آئے۔ 18 19 20 وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے برلن کی ایک یونیورسٹی کا دورہ کیا اور ماہرِ جنینیات ہانس شپیمان کا کام دیکھا، اور ہڈیوں کے بہت سے ڈاکٹروں سے انسانی جسم کے جوڑوں کی تعداد پوچھی۔ 21 22 وہ روایت کرتے ہیں کہ ایک خلیجی ملک میں مصنوعی بارش کی ایک امریکی پیشکش ان کے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے اسے «اسلامی نقطۂ نظر سے» رد کر دیا۔ 23 وہ سائنسی اعجاز کو بار بار سائنس کے دور کے لیے «دعوت کا عمدہ کارڈ» کہتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ اسلام پر ایک شدید حملہ ہے جس کے مقابلے میں امت کے پاس اچھی بات، واضح دلیل اور سائنسی زبان میں دعوت کے سوا کچھ نہیں بچا، اور عرب و مسلم ممالک کے حکمرانوں سے اس کی سرپرستی کی اپیل کرتے ہیں۔ 24 25 26 27 ان دروس میں وہ کہتے ہیں کہ اسلامی تہذیب نے گیارہ صدیوں سے زیادہ علم کا پرچم اٹھائے رکھا اور عثمانی خلافت کے سقوط ہی سے شکست کھائی۔ 28 29

    سوال پر آراء

    پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · أهل السنة: اہل سنت کا موقف (زغلول النجار، ان کے دروس میں ان کی رائے)بنیادی حوالہ

    ان کے نزدیک قرآن ہر پہلو سے معجز ہے، سائنسی اعجاز سائنس کے دور کے لیے دعوت کا سب سے موزوں ذریعہ ہے، اور اکتسابی علوم کے زیادہ تر قوانین ایسے لوگوں نے وضع کیے جو دین پر ایمان نہیں رکھتے، اس لیے ان کی رائے میں انہیں اسلامی فریم میں از سرِ نو ترتیب دینا لازم ہے۔ 4 5 6
    مزید آراء (2)

    حالاتِ حاضرہ پر مقرر کی رائے (ان کی رائے) نقطۂ نظردیگر رائے

    ان کے نزدیک مخالف قوتوں نے انیسویں صدی سے مسلم سرزمینوں پر قبضے اور خلافت گرانے کی کوشش کی، اور اسلام پر میڈیا میں حملہ ہو رہا ہے، اور وہ جواب اچھی بات اور واضح دلیل کو قرار دیتے ہیں۔ 7 8

    علمی اور دیگر آرا نقطۂ نظردیگر رائے

    انگریزی مضمون کی نقل کردہ تنقید کے لیے اوپر «مآخذ کے مطابق مواقف اور تنقید» دیکھیے، اور قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز میں پیش کردہ آرا۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    عمان
    Lived in
    القاهرة
    Subject of
    الحضارة النبوية: «نبوی تہذیب» (دروس کا سلسلہ)· ویتفکرون: «اور وہ غور کرتے ہیں» (دروس کا سلسلہ)

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز — حقیقت یا مبالغہ· ابن نفیس· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· غیبِ مطلق· کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور· طبِ نبوی اور متبادل طب — اس کی حقیقت اور حدود· أشراط الساعة

    ماخذ

    1. زغلول النجار — عربی ویکیپیڈیا
    2. زغلول النجار — ویکی ڈیٹا Q6572895
    3. زغلول النجار — انگریزی ویکیپیڈیا
    4. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 1, 00:06:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    5. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 4, 00:03:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    6. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 3, 00:09:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    7. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 3, 00:03:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    8. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 3, 00:05:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    9. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 1 · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    10. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 1 · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    11. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 20, 00:06:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    12. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 4, 00:04:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    13. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 5, 00:11:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    14. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , Wa Yatafakkarun، قسط 2, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    15. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 1, 00:02:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    16. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 2, 00:02:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    17. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 2, 00:12:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    18. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 9, 00:05:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    19. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 9, 00:06:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    20. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 9, 00:06:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    21. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 26, 00:05:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    22. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 28, 00:06:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    23. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 20, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    24. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 8, 00:11:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    25. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 23, 00:09:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    26. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 23, 00:10:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    27. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 23, 00:10:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    28. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 13, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    29. زغلول النجار کے دروس کا Assabile آرکائیو , El Hadara El Nabaouia، قسط 13, 00:09:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “زغلول النجار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/zaghloul-el-naggar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز — حقیقت یا مبالغہ

    قرآن و سنت میں سائنسی اعجاز پر «الوسطیہ» کی قسط۔ اسٹوڈیو حاضرین میں سے 60% نے ووٹ دیا کہ قرآن سائنسی معجزات سے بھرا ہے، 14% نے کہ اس میں صرف علوم کے اصول ہیں، اور 26% نے کہ اس کا یہ مقصد ہی نہیں؛ 55% نے سائنسی اعجاز کو دعوت کا بہت مؤثر ذریعہ اور 33% نے اس کی تاثیر کو مبالغہ کہا؛ اور موضوع سے واقف افراد میں سے 43% نے اس کی تحقیقات کو غیر علمی کہا۔ اس میں زغلول النجار اور ازہر و دار الافتاء کے علما نے بحث کی، اور میزبان نے ضوابط اور ایک مستند علمی ادارے کی دعوت پر اختتام کیا۔