ایک نظر میں
- کردار
- شاعر
- خطہ
- south-asia · persia-central-asia
خلاصہ
مارک زیبروسکی کے نزدیک ظہوری ان ایرانی مصوروں اور ادیبوں کی لہر کا حصہ تھے جو سرپرستوں کی تلاش میں ہندوستان ہجرت پر مجبور ہوئے؛ وہ 988ھ/1580–81ء میں شاہ عباس کے دربار سے دکن آئے، پہلے احمد نگر میں سلاطین مرتضیٰ اول، حسین دوم اور برہان دوم کے لیے لکھا، پھر خانہ جنگیوں اور مغل یلغار میں بہت سے مہذب ایرانیوں کی طرح بیجاپور چلے گئے۔ 1
بیجاپور میں
وہ ابراہیم عادل شاہ دوم کے ملک الشعرا بنے؛ وہاں ان کا بڑا کام سہ نثر ہے، جس میں کتابِ نورس کا دیباچہ شامل ہے۔ اس میں وہ خود کو چھ درباریوں میں گنتے ہیں اور مصور فرخ حسین کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی تصویر سے بہتر کا تصور نہیں، اور ماہر مصور ان کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں۔ 1 2 مصنف کے نزدیک ان کی نثر دکنی ادب کی طرح استعاراتی مدح ہے جس میں حقائق کم ہیں۔ 3
تعلقات
- Patronized by
- إبراهيم عادل شاه الثاني
- Lived in
- بيجاپور
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
فرخ حسین (بیجاپور کے مصور)· سہ نثر (ظہوری)· إبراهيم عادل شاه الثاني· عباسی قلعی دار لعاب والے ظروف· احمد نگر کی مصوری· خطِ منسوب اور اقلامِ ستہ· الأرابيسك (الزخرفة الإسلامية)· بیجاپور کی مصوری
ماخذ
- مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 67
- مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 68
- مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 155
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ظہوری (بیجاپور کے ملک الشعرا)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/zuhuri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON