ذوالفقار گھوش

ذو الفقار غوش

–

ذوالفقار گھوش (1935–2022) پاکستانی نژاد شاعر، ناول نگار اور مضمون نگار تھے۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، بمبئی میں پلے بڑھے، تقسیمِ ہند کے بعد خاندان کے ساتھ انگلستان ہجرت کی، 1959 میں کیل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے، اور 1969 میں یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن منتقل ہو گئے جہاں 2007 میں پروفیسر ایمریٹس کی حیثیت سے سبکدوشی تک انگریزی ادب اور تخلیقی تحریر پڑھاتے رہے۔ ان کی کتابوں میں خودنوشت «Confessions of a Native-Alien» (1965)، «The Murder of Aziz Khan» (1967)، «The Incredible Brazilian» سہ جلدی سلسلہ (1972–1978) اور «The Triple Mirror of the Self» (1992) شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
خطہ
south-asia · americas-oceania
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علی حسن موینی · علي يافعي · بہاء طاہر · کولیت خوری · طاہر عثمان باؤچی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات2022

    خلاصہ

    ذوالفقار گھوش (1935–2022) پاکستانی نژاد شاعر، ناول نگار اور مضمون نگار تھے۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، بمبئی میں پلے بڑھے، تقسیمِ ہند کے بعد خاندان کے ساتھ انگلستان ہجرت کی، 1959 میں کیل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے، اور 1969 میں یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن منتقل ہو گئے جہاں 2007 میں پروفیسر ایمریٹس کی حیثیت سے سبکدوشی تک انگریزی ادب اور تخلیقی تحریر پڑھاتے رہے۔ 1 ان کی کتابوں میں خودنوشت «Confessions of a Native-Alien» (1965)، «The Murder of Aziz Khan» (1967)، «The Incredible Brazilian» سہ جلدی سلسلہ (1972–1978) اور «The Triple Mirror of the Self» (1992) شامل ہیں۔ 1

    زندگی

    گھوش 13 مارچ 1935 کو برطانوی ہند کے پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد خواجہ محمد گھوش کاروباری تھے، اور ویکی ڈیٹا ان کا پیدائشی نام خواجہ ذوالفقار احمد بتاتا ہے۔ 1 2 1942 میں خاندان بمبئی منتقل ہو گیا، اور تقسیمِ ہند کے بعد انگلستان ہجرت کر گیا۔ 1 انہوں نے 1959 میں کیل یونیورسٹی سے گریجویشن کی، لندن کے ایلنگ میڈ اسکول میں پڑھایا، اور 1963 سے 1969 تک «دی آبزرور» کے لیے کرکٹ اور ہاکی پر آزاد کھیل صحافی کے طور پر کام کیا۔ 1 1964 میں ان کی شادی برازیلی فنکارہ ہیلینا ڈی لا فونٹین سے ہوئی؛ بعد میں برازیل ان کے چھ ناولوں کا پس منظر بنا۔ 1 1969 میں وہ تدریس کے لیے یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن چلے گئے، 2007 میں وہیں سے پروفیسر ایمریٹس کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے، اور 2004 میں امریکی شہری بنے۔ 1 برٹانیکا اور انگریزی مقالہ انہیں سیالکوٹ اور بمبئی میں مسلمان گھرانے میں پلا بڑھا بتاتے ہیں؛ کوئی ماخذ ان کے بالغ عمر کے دینی انتماء کا نام نہیں لیتا، اس لیے عجائب گھر ان کے لیے کوئی مذہب درج نہیں کرتا۔ 1 ان کا انتقال 30 جون 2022 کو آسٹن، ٹیکساس میں 87 برس کی عمر میں ہوا۔ 1 2

    کام

    ان کی ابتدائی کتابوں میں شعری مجموعے «The Loss of India» (1964) اور «Jets from Orange» (1967)، خودنوشت «Confessions of a Native-Alien» (1965)، اور ناول «The Contradictions» (1966) اور «The Murder of Aziz Khan» (1967) شامل ہیں، جس میں ایک چھوٹا کسان لالچی ڈیولپروں سے اپنی روایتی زمین بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ 1 ستر کی دہائی میں «The Incredible Brazilian» سہ جلدی سلسلے — «The Native» (1972)، «The Beautiful Empire» (1975) اور «A Different World» (1978) — نے انہیں عالمی شہرت دی؛ اس کا مرکزی کردار برازیل کی تاریخ میں کئی جنم لیتا ہے۔ 1 بعد کے ناولوں میں «Crump's Terms» (1975)، «A New History of Torments» (1982)، «Don Bueno» (1983)، «Figures of Enchantment» (1986) اور «The Triple Mirror of the Self» (1992) شامل ہیں، اور ساتھ تنقید کی پانچ کتابیں بھی، جن میں «Shakespeare's Mortal Knowledge» (1993) ہے۔ 1 1963 میں انہیں ای سی گریگوری ٹرسٹ کا خصوصی انعام ملا جس کے منصفین میں ٹی ایس ایلیٹ، ہنری مور، ہربرٹ ریڈ اور بونامی ڈوبری تھے، اور 1989 میں «دی ریویو آف کنٹیمپریری فکشن» نے میلان کنڈیرا اور گھوش پر مشترکہ شمارہ نکالا۔ 1 ان کے کاغذات اور ناول نگار تھامس برجر کے ساتھ چالیس سالہ خط کتابت یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن کے ہیری رینسم سینٹر میں محفوظ ہیں۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ کيانات، data/source/ کے تحت درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Zulfikar Ghose — English Wikipedia
    2. Zulfikar Ghose — Wikidata
    • Zulfikar Ghose — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ذوالفقار گھوش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/zulfikar-ghose/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔