مہمان کی تکریم (ikram al-dayf)

إكرام الضيف

شیخ عمر عبدالکافی کے بیان کے مطابق عرب میں مہمان کی تکریم: بغیر سوال کے خیر مقدم، بے تکلف سخاوت، اور میزبان کا مہمان کے ساتھ کھانا، کچھ قصے اور اقوال جن کے قائل معلوم نہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
arabia
جائزہ

ethics-and-charactertradition-versus-culture

خلاصہ

شیخ عمر عبدالکافی مہمان کی تکریم کو عرب کی ایک قدیم عادت کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور اسے بے تکلف سخاوت کے بارے میں اقوال اور قصوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ 1 وہ ایک غریب شخص کا قصہ بیان کرتے ہیں جس کے پاس مہمان کے لیے صرف روٹی اور زیتون کا تیل تھا، اور ایک شخص کا جو اصرار کرتا تھا کہ مہمان اس کے ساتھ کھانا کھائے، اور وہ عبداللہ بن مسعود سے منسوب ایک قول بھی ذکر کرتے ہیں جو مہمان کے مقام کے بارے میں ہے۔ 2 3 4

بغیر سوال کے مہمان کا استقبال

وہ کہتے ہیں کہ عرب مہمان کی میزبانی کرتے تھے اور اس سے اس کا نام یا آنے کا سبب نہیں پوچھتے تھے۔ 1 وہ مہمان کے خیر مقدم کے بارے میں ایک عرب حکیم کا قول نقل کرتے ہیں؛ ملاحظات میں اس کے قائل کا نام درج نہیں (needs_source: unattributed-saying)۔ 1 شیخ تاکید کرتے ہیں کہ سخاوت تکلف پر قائم نہیں ہوتی۔ 1

قناعت اور مہمان

شیخ اپنے گاؤں کے ایک غریب شخص کا قصہ بیان کرتے ہیں جس کے پاس مہمان کے لیے صرف روٹی اور زیتون کا تیل تھا؛ جب مہمان نے زعتر مانگا تو اس شخص نے اپنی مشکیزہ بیچ کر اسے خریدا (needs_source: anecdote-unattributed)۔ 2 وہ تبصرہ کرتے ہیں کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اس پر قناعت تکلف سے بہتر ہے۔ 2

ابن مسعود کا قول مہمان کے بارے میں

شیخ عبداللہ بن مسعود سے منسوب ایک قول نقل کرتے ہیں کہ مہمان اپنے میزبان کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے، کیونکہ اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے (needs_source: saying-attribution-garbled; hadith-ref: Ibn-Masud)۔ 3 وہ کہتے ہیں کہ سخی شخص اپنے مہمان کو بے تکلف کھانا پیش کرتا ہے، اور سخاوت کی مثال کے طور پر حاتم طائی کا ذکر کرتے ہیں۔ 3

وہ شخص جو اکیلا نہیں کھاتا

شیخ ایک عرب شخص کا قصہ بیان کرتے ہیں جو اصرار کرتا تھا کہ اس کا مہمان اس کے ساتھ کھانا کھائے، اور جب تک مہمان اس کے پاس ہوتا وہ اکیلا نہیں کھاتا تھا (needs_source: anecdote-unattributed)۔ 4 وہ اسے نبی کے کریم ہونے کے بیان اور ان کے نسب کی سخاوت سے جوڑتے ہیں، اور ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کا نام ملاحظات میں درج نہیں (needs_source: hadith-unnamed)۔ 4

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ذرائع ابلاغ اور ان کے ذمہ داروں کی ذمہ داری· عیافہ (پرندوں سے فال اور کھانے سے کراہت)· أحرف الجمل على أسماء ملوك مدين· أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 13, 00:15:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 13, 00:16:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  3. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 13, 00:18:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  4. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 13, 00:19:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مہمان کی تکریم (ikram al-dayf)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/practice/ikram-al-dayf/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

زندہ اسلام

خطے کے لحاظ سے عبادات، اسلامی سال، تہوار، کھانا، لباس اور موسیقی۔
متعلقہ

ذرائع ابلاغ اور ان کے ذمہ داروں کی ذمہ داری

شیخ عمر عبدالکافی کا موقف ان پروگراموں اور چینلوں پر جو توہم پرستی، نجومی پیش گوئی اور مسخرہ پن پیش کرتے ہیں، ان کے بنانے، پیش کرنے اور سرپرستی کرنے والوں کی اللہ اور لوگوں کے سامنے ذمہ داری، اور ان کے نہ دیکھنے کی ان کی رائے۔