شعر فروة بن مسيك في يوم الردم وفي مسيره إلى النبي

مصنف فروة بن مسيك المرادي

شعر فروة بن مسيك في يوم الردم وفي مسيره إلى النبي

A nun-rhymed poem Farwa ibn Musayk al-Muradi composed on the Day of al-Radm: if they win they have long been winners and if beaten they are not the oft-beaten, cowardice is not their way, fortune turns by turns, and had kings lived forever so would they; and two verses he said when he set out for the Prophet, leaving the kings of Kinda. Ibn Hisham marks the first line and the phrase 'if we win' as from other than Ibn Ishaq and gives Abu Ubayda's reading of the second couplet.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
شبه الجزيرة العربية قبل الإسلام · العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

literaturebattles

موجز

ابن اسحاق نے فروہ بن مسیک مرادی کے دو کلام نقل کیے: یوم الردم کا ایک قصیدہ، اور نبی کی طرف سفر کے وقت دو شعر۔ 1 2

یوم الردم کا قصیدہ

قصیدہ ان اونٹوں کے ذکر سے شروع ہوتا ہے جو گہری آنکھوں والی زمینوں پر چلتے ہیں اور لگامیں کھینچتے ہیں۔ پھر شاعر کہتا ہے کہ اگر ہم غالب آئیں تو ہم پہلے بھی غالب رہے ہیں، اور اگر مغلوب ہوں تو ہم بار بار مغلوب ہونے والے نہیں۔ ہمیں بزدلی نے نہیں گرایا، بلکہ ہماری موت اور دوسروں کا حصہ اس کا سبب بنے۔ دہر کی دولت باری باری بدلتی ہے، اس کے واقعات کبھی ایک کے بعد ایک پلٹتے ہیں؛ جب ہم خوش اور مطمئن تھے تو زمانے کے پہیے پلٹے، اور جن پر رشک کیا جاتا تھا وہ پیس دیے گئے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اگر بادشاہ ہمیشہ رہتے تو ہم بھی ہمیشہ رہتے، اور اگر شرفاء باقی رہتے تو ہم بھی باقی رہتے؛ مگر زمانے نے میری قوم کے سرداروں کو ایسے فنا کیا جیسے پہلی قوموں کو فنا کیا تھا۔ 1 2

اسی قصیدے کے ایک شعر میں شاعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ہم غالب آئیں تو پہلے بھی غالب رہے ہیں، اور اگر مغلوب ہوں تو ہم ایسے نہیں کہ بار بار مغلوب ہوں۔ 1

سفر کے دو شعر

جب وہ نبی کی طرف روانہ ہوئے اور کندہ کے بادشاہوں سے الگ ہوئے، تو کہا کہ جب کندہ کے بادشاہوں نے دیکھا کہ میں منہ موڑ گیا ہوں، جیسے کولہے کی ٹیسوں کا مریض، تو میں نے اپنی سواری محمد کی طرف موڑ دی، ان کے احسانات اور اچھی مہمان نوازی کی امید میں۔ 2

روایت

ابن ہشام کہتے ہیں کہ قصیدے کا پہلا شعر اور وہ شعر جس میں «فإن نغلب» کا ذکر ہے، ابن اسحاق کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں، اور ابو عبیدہ نے ایک مصرع دوسرے انداز میں سنایا جو امید اور تعریف سے متعلق ہے۔ 2

محققین کی شرح

محققین معجم البلدان سے نقل کرتے ہیں کہ «لُفات» مراد کی سرزمین کے علاقوں میں سے ہے، اور معجم ما استعجم کے مطابق یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔ لسان العرب میں «طبّنا» کی تفسیر یہ ہے کہ اگر ہمدان یوم الردم میں ہم پر غالب آئی تو ہم مغلوب ہوئے، مگر ہم بار بار مغلوب ہونے والے نہیں۔ «سجال» باری باری کے مقابلے کو کہتے ہیں جیسے کنویں پر ڈول کھینچنا، اور «النسا» ران کی وہ رگ ہے جس کا ذکر شعر میں آیا۔ 1 2

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Authored by
فروة بن مسيك المرادي
Mentions
يوم الردم بين مراد وهمدان· قدوم فروة بن مسيك المرادي وإسلامه· بنو همدان

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

يوم الردم بين مراد وهمدان· مراد· فروة بن مسيك المرادي· قدوم فروة بن مسيك المرادي وإسلامه· الأجدع بن مالك الهمداني· مالك بن حريم الهمداني· محمد· بنو همدان

ماخذ

  1. السيرة النبوية لابن هشام — طبعة السقا 1355هـ/1936م , 4/228
  2. السيرة النبوية لابن هشام — طبعة السقا 1355هـ/1936م , 4/229
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “شعر فروة بن مسيك في يوم الردم وفي مسيره إلى النبي”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/farwa-ibn-musayk-poems/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

متعلقہ

يوم الردم بين مراد وهمدان

A battle shortly before Islam between Murad and Hamdan in which Hamdan did as they wished with Murad and inflicted heavy losses; Hamdan was led by al-Ajda' ibn Malik according to Ibn Ishaq, by Malik ibn Harim al-Hamdani according to Ibn Hisham. Farwa ibn Musayk of Murad composed verses on it, and the Prophet asked him on his arrival whether what befell his people on the Day of al-Radm grieved him.