أداء

أداء

Ada' means, in the lexicon, delivery; it is used both for timed acts and for others. For the majority it is performing, within its time and before the time ends, an act that is obligatory or recommended; for the Hanafis it is handing over the very thing commanded. 1 It is distinguished from qada' (making good after the time): by the time for the majority, by the thing performed for the Hanafis. 2 Timed acts are narrow or wide, and must be performed in their time. 2 3 For a wide time the majority hold the obligation attaches to the whole of it, and early performance is preferred. 3 A unit of prayer within its time secures the prayer for the majority; the Hanafis exempt the dawn prayer. 4 For unrestricted obligations such as zakat and expiations, the duty to perform is fixed at the end of life, when the person thinks he can still perform it. Recommended acts are performed for reward; once begun, they must be completed according to the Hanafis and Malikis. 5 Performance requires the ability to perform, and one who cannot perform in the prescribed way does so in the way he can, standing, sitting or lying on his side; an aged person who cannot fast owes no fast. 6 7 Proxy is allowed for financial acts and not for bodily acts during life; the jurists differ on proxy after death in fasting, pilgrimage and vows. 8 9 10 Delay past the time of obligation without excuse is a sin: a debt or pilgrimage due but not performed remains in the liability, and the schools differ on payment from the estate without a bequest. 11 Regular sunnas are made up according to some and not others; the Hanafis and Malikis make up only the dawn sunna. 12 One who refuses an obligation out of denial is treated as an unbeliever who is asked to repent; one who refuses out of laziness is disciplined in bodily worship and compelled in zakat, but not fought over the pilgrimage. 13 Performance in the lawful form discharges the duty by agreement, and whether it brings reward is disputed. 13

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillars

تعریف

ادا لغت میں پہنچانے کو کہتے ہیں۔ جمہور فقہاء اور اصولیین کے نزدیک یہ کسی واجب یا مستحب کام کو اس کے وقت کے اندر، وقت ختم ہونے سے پہلے، ادا کرنا ہے۔ 1 حنفیہ کے نزدیک ادا وہی چیز سپرد کرنا ہے جس کا حکم دیا گیا، اس لیے زکوٰۃ، امانت، نذر اور کفارات کی ادائیگی بھی ادا ہے۔ 1

متعلقہ الفاظ

قضاء وقت گزرنے کے بعد ادا کرنے کو کہتے ہیں؛ جمہور وقت کے لحاظ سے فرق کرتے ہیں اور حنفیہ عین اور مثل کے لحاظ سے۔ 1 2 اعادہ وقت کے اندر پہلے عمل میں خلل یا عذر کی بنا پر دوبارہ کرنا ہے؛ تنہا نماز کے بعد جماعت سے نماز پڑھنا اعادہ ہے۔ 2

وقت کے لحاظ سے عبادات کی اقسام

عبادات مطلقہ ہیں، جن کے لیے کوئی معین وقت نہیں اور پوری عمر ہی وقت کے حکم میں ہے، جیسے زکوٰۃ اور کفارات؛ اور موقتہ ہیں، جن کا شارع نے وقت مقرر کیا ہے، جیسے پانچ نمازیں اور رمضان کے روزے۔ 3 موقت وقت موسع ہوتا ہے، جیسے ظہر کا وقت، یا مضیق، جیسے رمضان۔ حج اس میں مشتبہ ہے۔ 2 3

وقت موسع میں وجوب اور تاخیر

جمہور کے نزدیک وجوب پورے وقت سے متعلق ہے، ابتدا میں ادا افضل ہے اور آخر تک تاخیر جائز ہے۔ حنابلہ اور بعض شافعیہ کے نزدیک تاخیر کا ارادہ ضروری ہے، ورنہ گناہ ہے۔ اگر کسی کو گمان ہو کہ وہ آخر وقت تک زندہ نہیں رہے گا تو وقت اس کے لیے تنگ ہو جاتا ہے۔ 3 4

وقت تنگ ہو جائے تو

جمہور کے نزدیک ایک رکعت (دو سجدوں کے ساتھ) وقت میں ادا ہو جائے تو پوری نماز ادا ہے۔ اشہب کے نزدیک صرف رکوع کافی ہے۔ حنفیہ اور بعض حنابلہ کے نزدیک تکبیرِ تحریمہ کافی ہے۔ صبح کی نماز کا حکم حنفیہ کے نزدیک الگ ہے کہ وہ طلوعِ آفتاب سے پہلے مکمل ادا ہونی چاہیے۔ 4

واجب مطلق اور مندوب

جس واجب کا شریعت نے وقت مقرر نہیں کیا، جیسے زکوٰۃ، کفارات اور مطلق نذریں، اس کے ادا کے وقت میں اختلاف اس پر مبنی ہے کہ امر فوری ہے یا تراخی کے ساتھ۔ سب متفق ہیں کہ آخر عمر میں، جب ادا کا غالب گمان ہو، وجوب متعین ہو جاتا ہے، اور جو ادا کیے بغیر مر جائے وہ گنہگار ہے۔ 5 مندوب کا ثواب اس کے کرنے میں ہے، ترک پر ملامت نہیں، مگر کرنا ترک سے بہتر ہے۔ اس کی مثالیں: موقت (جیسے سنن رواتب)، مسبب (جیسے نمازِ کسوف) اور مطلق (جیسے تہجد)۔ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک شروع کیا ہوا نفل پورا کرنا واجب ہے؛ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک مستحب ہے، مگر نفلی حج اور عمرے کی تکمیل بالاتفاق واجب ہے۔ 5 6

عذر والوں کی ادائیگی

ادائیگی کے لیے اہلیتِ ادا اور قدرت شرط ہے۔ جو اول وقت میں اہل تھا اور آخر وقت میں عذر پیش آیا، جیسے حائضہ، مجنون یا بے ہوش، تو جمہور کے نزدیک قضا واجب ہے؛ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک قضا نہیں، کیونکہ وجوب آخر وقت میں متعین ہوتا ہے۔ جو اول وقت میں اہل نہ تھا اور آخر وقت میں عذر زائل ہوا، اس میں حنفیہ کے دو قول ہیں اور دوسرے مذاہب کے کچھ اقوال ہیں۔ 6 7 قدرت یہ ہے کہ عبادت شریعت کی بتائی ہوئی صورت میں ادا ہو؛ جو کھڑا نہ ہو سکے وہ بیٹھ کر، اور جو بیٹھ بھی نہ سکے وہ پہلو پر لیٹ کر ادا کرے۔ بڑھاپے یا ایسی بیماری کی وجہ سے روزہ جس کی شفا کی امید نہ ہو، اس پر روزہ واجب نہیں؛ جمہور کے نزدیک فدیہ واجب ہے۔ حج صرف مستطیع پر واجب ہے۔ 6 7 مالی عبادات میں جمہور کے نزدیک بچے اور مجنون کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے اور ان کا ولی ادا کرے گا؛ حنفیہ کے نزدیک واجب نہیں۔ کفارے میں اگر وجوب اور ادا کے درمیان حالت بدل جائے تو حنفیہ اور مالکیہ ادا کا وقت معتبر مانتے ہیں، جبکہ حنابلہ اور شافعیہ کا ایک قول وجوب کا وقت معتبر مانتا ہے۔ 7 8

وجوب سے پہلے ادا کرنا

جن عبادات کا سبب وقت ہے، جیسے نماز اور روزہ، ان کا وقت سے پہلے ادا بالاتفاق جائز نہیں۔ زکوٰۃ جمہور کے نزدیک نصاب مکمل ہونے کے بعد اور سال پورا ہونے سے پہلے دی جا سکتی ہے؛ مالکیہ کے نزدیک یہ صرف تھوڑی مدت کے لیے جائز ہے۔ صدقۂ فطر حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک پیشگی دیا جا سکتا ہے۔ کفارۂ یمین جمہور کے نزدیک حنث سے پہلے دیا جا سکتا ہے، حنفیہ کے نزدیک نہیں۔ 7 8

عبادات میں نیابت

مالی عبادات، جیسے زکوٰۃ، صدقات اور کفارات، میں نیابت جائز ہے، کیونکہ ان میں مال نکالنا ہی مقصود ہے۔ خالص بدنی عبادات، جیسے نماز اور روزہ، میں زندگی میں بالاتفاق نیابت جائز نہیں۔ 8 وفات کے بعد حنفیہ، مالکیہ اور شافعیہ نماز میں نیابت جائز نہیں سمجھتے۔ روزے میں شافعیہ کا راجح قول یہ ہے کہ ولی میت کی طرف سے روزہ رکھے، صحیحین کی اس حدیث کی بنا پر۔ حنابلہ اس چیز میں نیابت جائز سمجھتے ہیں جو انسان نے نذر سے خود پر لازم کی ہو۔ 8 9

حج میں نیابت

مالکیہ کے مشہور قول کے مطابق حج میں نیابت جائز نہیں، جبکہ باقی فقہاء دائمی طور پر عاجز شخص (بہت بوڑھا، معذور یا لا علاج بیمار) کی طرف سے نیابت جائز کہتے ہیں، اور مال ہو تو اس پر حج کرانا لازم ہے۔ دائمی عذر میں خود کی طرف سے حج کرانے کے بعد عذر جاتا رہا تو حنفیہ کے نزدیک وہ حج کافی نہیں، حنابلہ کے نزدیک کافی ہے۔ 9 10 نذر کا حج، فرض کا حج اور عمرہ اس حکم میں یکساں ہیں۔ نفلی حج حنفیہ کے نزدیک عذر کے ساتھ اور بغیر عذر دونوں طرح جائز ہے، حنابلہ کے نزدیک صرف عذر کی صورت میں، اور مالکیہ اسے مکروہ کہتے ہیں۔ 10 جو شخص استطاعت سے پہلے مر جائے تو حنابلہ اور شافعیہ کے نزدیک اس سے فرض ساقط ہے؛ جو استطاعت کے بعد بھی حج کیے بغیر مر جائے اس کی طرف سے ترکہ سے قضا واجب ہے۔ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک میت کی طرف سے حج تب واجب ہے جب اس نے وصیت کی ہو۔ 10

تاخیر کا حکم اور ادا کا اثر

بغیر عذر تاخیر گناہ ہے۔ موقت عبادت، جیسے نماز یا روزہ، کی قضا واجب ہے، اور معین نذر کی بھی۔ جن عبادات کا وقت عمر ہے، جیسے زکوٰۃ اور حج، شرائط پوری ہونے پر ادا نہ کی جائیں تو وہ ذمہ میں دین کی طرح باقی رہتی ہیں۔ مطلق واجبات، جیسے نذریں اور کفارات، کا بھی یہی حکم ہے؛ مرنے والے کے ترکہ سے ان کی ادائیگی میں حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک وصیت شرط ہے، جبکہ حنابلہ اور شافعیہ کے نزدیک وصیت کے بغیر بھی ترکہ سے ادا ہوگی۔ 11 نفل، خواہ مطلق ہو یا کسی سبب یا وقت سے وابستہ، فوت ہو جائے تو اس کی قضا میں اختلاف ہے۔ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک فجر کی سنت کے سوا کسی سنت کی قضا نہیں؛ ان کی دلیل ام سلمہ کی روایت ہے، اور فجر کی سنت کو وہ فرض کے ساتھ استحساناً قضا کرتے ہیں۔ حنابلہ اور شافعیہ کے اقوال میں رواتب کی قضا کا اختلاف ہے۔ فجر کی سنت کی قضا میں حنفیہ کے نزدیک زوال تک اور حنابلہ کے نزدیک چاشت تک کی حد ہے، جبکہ شافعیہ کے نزدیک ہمیشہ قضا ہو سکتی ہے۔ 11 12

ادا سے انکار

فرض عین یا فرض کفایہ عبادات، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد اور نمازِ جنازہ، اسلام کے معلوم فرائض ہیں اور ہر مکلف پر ان کی ادائیگی لازم ہے۔ جو وجوب کا انکار کرتے ہوئے ادا سے رکے وہ کافر ہے اور توبہ کا کہا جائے گا؛ جو سستی کی بنا پر بدنی عبادت چھوڑے اسے تعزیر دی جائے گی، اور جمہور کے نزدیک اصرار پر حد کے طور پر قتل کیا جائے گا، جبکہ حنفیہ کے نزدیک نماز پڑھنے تک قید رکھا جائے گا۔ زکوٰۃ بخل کی بنا پر روکنے والے سے جبراً وصول کی جائے گی، جیسا کہ ابوبکر نے زکوٰۃ روکنے والوں کے ساتھ کیا۔ حج چھوڑنے والے سے لڑائی نہیں ہوگی، بلکہ ترغیب دی جائے گی، کیونکہ اس کی شرط استطاعت ہے۔ 13 مندوب، جسے سنت یا نفل کہتے ہیں، کرنے پر ثواب اور چھوڑنے پر ملامت نہیں۔ جماعت، اذان، اقامت اور دو عیدوں کی نماز جیسی بعض سنتیں دین کا شعار ہیں، اس لیے اگر کسی شہر والے ان کے ترک پر متفق ہوں تو ان سے قتال کیا جائے گا۔ 13

ادا کا اثر

شرعی طریقے پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کی گئی عبادت اجزاء کو لازم کرتی ہے، یعنی ذمہ بری ہو جاتا ہے، اور اس پر اتفاق ہے۔ صحیح فعل وہ ہے جو شرعی طریقے پر ادا ہو؛ ورنہ فاسد یا باطل ہے، اور حنفیہ ان میں فرق کرتے ہیں۔ صحت اجزاء سے عام ہے کیونکہ وہ عبادات اور معاملات دونوں کی صفت ہو سکتی ہے۔ 13 ذمہ بری ہونے کے بعد ثواب ملے گا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے: ایک قول کے مطابق برأت سے ثواب لازم نہیں، اور یہی قبول کا معنی ہے؛ دوسرا قول یہ ہے کہ شریعت میں ہر صحیح واجب مقبول اور ثواب والا ہے۔ 13

موسوعہ کا بیان

موسوعۃ الاسلامیہ (طبع دوم) «ادا» کو فقہ کی ایک اصطلاح کے طور پر لیتی ہے، جس کا لغوی مطلب «ادائیگی» یا «تکمیل» ہے۔ اس سے مراد شریعت کے مقررہ وقت میں کسی فرض کی ادائیگی ہے، اس کے مقابلے میں قضا، یعنی جب تاخیر جائز ہو تو وقت گزرنے کے بعد ادا کرنا۔ کامل ادا اور ناقص ادا میں بھی فرق کیا جاتا ہے۔ قرآن کی قراءت میں ادا سے مراد حروف کا روایتی تلفظ ہے، اور یہ قراءت کا ہم معنی ہے۔ 14

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

حكم تارك الصلاة· اذان (نماز کی اطلاع: حکم، الفاظ، شرائط، سنتیں اور مؤذن کی صفات)· ہڈی (عظم)· خواہشات کی زینت اور دنیا کا متاع· اہل صفہ· الأرض مسجداً وطهوراً· الإنفاق في سبيل الله· میزان

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1976
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1977
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1978
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1979
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1980
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1981
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1982
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1983
  9. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1984
  10. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1985
  11. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1986
  12. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1987
  13. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.1988
  14. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 188
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “أداء”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/ada/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

حكم تارك الصلاة

Al-Sallabi quotes Ali: whoever does not pray is an unbeliever. He then reports from al-Nawawi the dispute over one who neglects prayer while believing it obligatory: the majority (Malik, al-Shafi'i) hold him a sinner to be asked to repent, others hold him an unbeliever, a view ascribed to Ali; Abu Hanifa and the Kufans hold him not an unbeliever but to be disciplined.