تدارک (عبادت میں رہ جانے والی چیز کی تلافی)

التدارك

Tadarruk is performing an act of worship, or part of it, that the person left out at its proper time, as long as the time has not passed. Making up a fixed pillar is obligatory; the rules for obligatory and recommended parts differ by school. In wudu, the Hanafis and Malikis make up only the missed part, while the Shafi'is require order. In the pilgrimage the making up of circuits, running, standing and stoning follow their own rules; in madness and fainting, the duty of prayer, fasting and pilgrimage is decided by the state of the person. 1 2 3

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillarshealth-body-death

خلاصہ

تدارک عبادت یا اس کے کسی جز کو اس کے مقررہ وقت میں نہ کرنے کے بعد اس کی تلافی کرنا ہے، جب تک وقت باقی ہو۔ عبادت کے فرض رکن کی تلافی خود فرض ہے، اور واجبات و سنن کے احکام مذاہب کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ 1 2

وضو

وضو کے ارکان لازماً ادا کیے جائیں۔ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک ترتیب فرض ہے، اس لیے جو ہاتھ دھونا بھول جائے اور پاؤں دھونے کے بعد یاد آئے تو اسے ہاتھ دھو کر باقی اعضاء دوبارہ دھونے ہوں گے۔ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک صرف رہ جانے والا عضو دھونا کافی ہے۔ 2 وضو کی سنتیں اپنا محل گزرنے کے بعد تدارک نہیں ہوتیں، اور حنابلہ کے نزدیک کلی اور ناک میں پانی ڈالنا فرض ہے اور ان کی تلافی لازم ہے۔ 4 5

غسل اور میت کا غسل

ترتیب اور موالات غسل میں جمہور کے نزدیک واجب نہیں، اس لیے رہ جانے والا عضو الگ دھویا جائے گا۔ حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک غسل میں کلی اور ناک میں پانی واجب ہے۔ 5 6 اگر میت بغیر غسل کے دفن ہو گئی اور غسل ممکن ہو تو مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک قبر کھول کر غسل دینا لازم ہے، جب تک بدن بدلنے کا اندیشہ نہ ہو۔ حنفیہ کے نزدیک مٹی ڈالنے کے بعد قبر نہیں کھولی جائے گی۔ 6

نماز

نماز کا رکن عمداً چھوڑنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، اور سہواً چھوٹے تو تدارک لازم ہے۔ حنفیہ کے نزدیک واجب ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، سہو سے سجدۂ سہو لازم آتا ہے۔ حنابلہ کے نزدیک واجب کا تدارک اس وقت تک ہو سکتا ہے جب تک اس کا محل نہ گزرا ہو۔ 6 7 سنن ترک کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ محل گزرنے کے بعد شافعیہ اور حنابلہ ان کا تدارک نہیں کرتے، جبکہ مالکیہ محل باقی ہونے تک تدارک کرتے ہیں۔ 7 8

حج

جو شخص میقات سے بغیر احرام کے گزر جائے اس پر دم ہے، الا یہ کہ وہ احرام سے پہلے واپس آ کر احرام باندھ لے۔ طواف کا کوئی جز چھوڑنے سے طواف درست نہیں ہوتا جب تک اسے پورا نہ کرے، حنابلہ اور بعض شافعیہ کے نزدیک۔ 9 10 رمی کا ایک یا دو دن رہ جانا ایام تشریق کے باقی دنوں میں تدارک ہو سکتا ہے، شافعیہ اور حنابلہ کے اظہر قول کے مطابق، بغیر دم کے۔ طواف افاضہ چھوڑ کر وطن لوٹنے والا احرام میں واپس آ کر اسے ادا کرے، جمہور کے نزدیک۔ 11 12

مجنون اور بے ہوش

مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک جنون کے دوران کی نمازیں قضا نہیں، کیونکہ اس وقت اہلیت نہیں تھی۔ حنفیہ کے نزدیک بے ہوشی یا جنون میں پانچ نمازیں گئیں تو قضا لازم ہے۔ 12 13 پورے رمضان میں جنون رہے تو حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک قضا نہیں، جبکہ بے ہوش شخص پر قضا لازم ہے۔ 13 14

نسیان، فاسد نفلی عبادت اور مرتد

بھول جانے سے واجب ساقط نہیں ہوتا، جو نماز یا روزہ بھولے وہ اسے ادا یا قضا کرے۔ 15 16 نفلی عبادت شروع کرنے سے حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک لازم ہو جاتی ہے، اس لیے اس کا فاسد ہونا قضا لازم کرتا ہے۔ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک حج اور عمرہ کے سوا قضا لازم نہیں۔ 16 مرتد ہونے کے دوران کی عبادات کی قضا حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک لازم نہیں، جبکہ شافعیہ کے نزدیک لازم ہے۔ 3

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ہڈی (عظم)· هادي· الشَّعْر والصُّوف والوَبَر· هُدْب· ہتھیلی (کف)· صلاة الجنازة· حكم تارك الصلاة· أداء

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4868
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4869
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4886
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4870
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4871
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4872
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4873
  8. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4874
  9. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4876
  10. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4877
  11. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4880
  12. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4881
  13. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4882
  14. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4883
  15. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4884
  16. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4885
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “تدارک (عبادت میں رہ جانے والی چیز کی تلافی)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/tadarruk/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

زندہ اسلام

خطے کے لحاظ سے عبادات، اسلامی سال، تہوار، کھانا، لباس اور موسیقی۔
متعلقہ

ہڈی (عظم)

In the lexicon, adhm is the bone that has flesh on it, plural 'idham and 'izam. Most jurists hold that a human bone is pure, whether living or dead, of a Muslim or not; that a fish bone stays pure after death; and that the bone of a lawfully slaughtered edible animal is pure and may be used. The bone of carrion, or of a non-edible animal, is impure according to the Malikis, Shafi'is, Hanbalis and Ishaq, and cannot be purified; the Hanafis hold it pure, and 'Umar disliked oiling in ivory. On cleansing after excretion with a bone, the Shafi'is and Hanbalis forbid it; the Hanafis dislike it as forbidden but accept that it suffices; the Malikis forbid a carrion bone and allow a pure bone with disapproval. Most jurists allow retaliation for a bone only at a joint, since equality cannot be achieved elsewhere.