تخلیل (انگلیوں، بالوں اور دانتوں میں خلال کرنا)

التخليل

Takhlil is passing water through the fingers, combing or separating the hair, or cleaning between the teeth; in purification its rulings range from obligation to sunna and recommendation. Wine that turns to vinegar by itself becomes pure and lawful; adding something to wine to make vinegar is disputed, the Shafi'is and Hanbalis forbidding it and the Hanafis and (preferably) Malikis allowing it. 1 2 3

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillarshealth-body-death

خلاصہ

تخلیل انگلیوں کے درمیان پانی پہنچانا، داڑھی اور سر کے بالوں کو الگ کرنا، دانتوں کے درمیان سے خوراک نکالنا، اور شراب کو سرکہ بنانا ہے۔ طہارت میں اس کے احکام فرض سے لے کر سنت اور استحباب تک ہیں۔ 1 2

وضو اور غسل میں انگلیاں

انگلیوں کے درمیان پانی پہنچانا وضو اور غسل میں سب فقہاء کے نزدیک فرض ہے۔ 1 حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک پانی پہنچ جانے کے بعد تخلیل سنت ہے۔ مالکیہ کے مشہور قول میں ہاتھوں کی انگلیوں کی تخلیل واجب اور پاؤں کی مستحب ہے۔ 2

تیمم میں

تیمم میں چہرے اور ہاتھوں پر مسح فرض ہے، اور اگر غبار انگلیوں کے درمیان نہ پہنچے تو تخلیل واجب ہے۔ 2 4

داڑھی اور سر کے بال

ہلکی داڑھی میں جلد نظر آتی ہو تو اس کے نیچے پانی پہنچانا لازم ہے، صرف کنگھی کرنا کافی نہیں۔ گھنی داڑھی کا ظاہر دھونا واجب ہے اور باطن کا دھونا متفقہ طور پر لازم نہیں۔ 5 6 غسل میں سر کے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا متفقہ طور پر واجب ہے، خواہ بال ہلکے ہوں یا گھنے۔ 7

دانت اور خلال

دانتوں کو مسواک سے صاف کرنا سنت ہے۔ کھانے کے بعد خلال کرنا آداب طعام میں شامل ہے، اور کھانے کے دوران نہیں بلکہ فارغ ہو کر کرنا چاہیے۔ لوہے سے خلال مکروہ ہے اور سونے چاندی کے خلال کی ممانعت چاروں مذاہب کے ہاں متفق ہے۔ 7 3

شراب کا سرکہ بننا

شراب اگر خود بخود سرکہ بن جائے اور اس کی صفات زائل ہو جائیں تو وہ سرکہ حلال اور پاک ہے۔ اس کے برعکس شراب میں کوئی چیز ڈال کر سرکہ بنانے میں شافعیہ اور حنابلہ اسے ناجائز اور غیر پاک کہتے ہیں، جبکہ حنفیہ اور مالکیہ کا راجح قول جواز کا ہے۔ 3

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ہڈی (عظم)· هادي· الشَّعْر والصُّوف والوَبَر· هُدْب· ہتھیلی (کف)· صلاة الجنازة· حكم تارك الصلاة· أداء

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4820
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4821
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4826
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4822
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4823
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4824
  7. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.4825
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “تخلیل (انگلیوں، بالوں اور دانتوں میں خلال کرنا)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/takhlil/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

زندہ اسلام

خطے کے لحاظ سے عبادات، اسلامی سال، تہوار، کھانا، لباس اور موسیقی۔
متعلقہ

ہڈی (عظم)

In the lexicon, adhm is the bone that has flesh on it, plural 'idham and 'izam. Most jurists hold that a human bone is pure, whether living or dead, of a Muslim or not; that a fish bone stays pure after death; and that the bone of a lawfully slaughtered edible animal is pure and may be used. The bone of carrion, or of a non-edible animal, is impure according to the Malikis, Shafi'is, Hanbalis and Ishaq, and cannot be purified; the Hanafis hold it pure, and 'Umar disliked oiling in ivory. On cleansing after excretion with a bone, the Shafi'is and Hanbalis forbid it; the Hanafis dislike it as forbidden but accept that it suffices; the Malikis forbid a carrion bone and allow a pure bone with disapproval. Most jurists allow retaliation for a bone only at a joint, since equality cannot be achieved elsewhere.