احمد بایتورسینوف

أحمد بايتورسينوف

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

احمد بایتورسینول (1872–1937) قازق ماہرِ لسانیات، شاعر اور معلم تھے جنہوں نے قازق زبان کے لیے عربی رسم الخط کی اصلاح کی، 1913 میں علی خان بوکیخانوف اور میر جاقیب دولاتولی کے ساتھ اخبار «قازق» کی بنیاد رکھی، علاش تحریک کی قیادت میں شریک رہے اور 1937 میں الما آتا میں گولی مار کر ہلاک کیے گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · شاعر · writer · teacher · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبد اللہ ہارون · عبدالمجید ثانی · عبد الرشید ابراہیم

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    زندگی اور تعلیم

    وہ تورغائی اوبلاست کے آقکول گاؤں میں ایک مسلم قازق گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخِ پیدائش متنازع ہے: انگریزی، روسی اور قازق مضامین 5 ستمبر 1872 دیتے ہیں، روسی مضمون خود 28 جنوری 1872 کی اقلیتی روایت درج کرتا ہے، جبکہ عربی مضمون 28 جنوری 1873 دیتا ہے 1 2۔ انہوں نے گاؤں کے ملاؤں سے لکھنا پڑھنا سیکھا اور 1895 میں ابراہیم آلتینسارین کے قائم کردہ اورینبرگ معلمین اسکول سے فراغت پائی۔ ان کی شادی روسی معلمہ الیگزینڈرا ایوانوفنا سے کوستانائی میں مسلم رسم کے مطابق ہوئی؛ وہ اسلام قبول کر کے بدر الصفا کہلائیں 1 3۔

    اخبار «قازق» اور علاش

    1913 میں انہوں نے علی خان بوکیخانوف اور میر جاقیب دولاتولی کے ساتھ مل کر اورینبرگ سے اخبار «قازق» جاری کیا اور اس کے مدیرِ اعلیٰ بنے؛ آٹھ ہزار کی اشاعت کے ساتھ یہ اپنے دور کی سب سے بڑی قازق مطبوعہ شے بن گیا 1۔ 1917 میں وہ علاش پارٹی کی قیادت میں شامل ہوئے 4۔

    عوامی کمشنر اور علمی کام

    1919 میں معافی قبول کر کے وہ 1920–1921 میں کرغیز خودمختار جمہوریہ کے عوامی کمشنر برائے تعلیم رہے 1۔ ان کا دائمی کام لسانی تھا: انہوں نے قازق زبان کے لیے عربی رسم الخط کی صوتی اصلاح کی جو 1929 کی لاتینی تبدیلی تک رائج رہی، قازق قاعدے اور درسی کتابیں لکھیں اور الماتی میں تدریس کی 4۔

    وفات اور بحالی

    1929 میں قوم پرستی کے الزام میں گرفتار اور ارخانگیلسک جلاوطن ہوئے، 1934 میں رہا ہوئے، پھر اکتوبر 1937 میں دوبارہ گرفتار ہو کر 8 دسمبر 1937 کو الما آتا میں گولی مار دیے گئے 1۔ 1988 میں انہیں سرکاری طور پر بحال کیا گیا 4۔

    عقیدہ

    پڑھے گئے کسی ماخذ میں ان کے کسی مکتب یا وابستگی کا نام نہیں ملتا: انگریزی مضمون ان کی مسلم گھرانے میں پیدائش، ملاؤں سے ابتدائی تعلیم اور مسلم رسم سے شادی کا ذکر کرتا ہے، کسی طبع کے انفوباکس میں مذہب کا خانہ نہیں، اور ویکی ڈیٹا میں مذہب کی کوئی قدر سرے سے موجود نہیں 1 3 5۔ اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے۔

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    علی خان بوکیخانوف· میر جاقیب دولاتولی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    علی خان بوکیخانوف· میر جاقیب دولاتولی· مصطفیٰ شوكاي

    ماخذ

    1. Ahmet Baitursynuly — English Wikipedia
    2. Ahmet Baitursynuly — Arabic Wikipedia
    3. Ahmet Baitursynuly — Russian Wikipedia
    4. Ahmet Baitursynuly — Kazakh Wikipedia
    5. Ahmet Baitursynuly — Wikidata Q1047477
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد بایتورسینوف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmet-baitursynuly/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    علی خان بوکیخانوف

    قازق سیاست دان، صحافی اور عالم (5 مارچ 1866ء – 27 ستمبر 1937ء) جنہوں نے علاش پارٹی کی قیادت کی اور علاش اوردا خودمختاری (1917–1920ء) کے صدر رہے؛ اسٹالن کے دور میں گرفتار ہوئے اور ماسکو کی بوتیرکا جیل میں گولی مار کر ہلاک کیے گئے، 1989ء میں باعزت بحال ہوئے۔